تحریر:مولانا محمد قمر انجم قادری فیضی
مرکزنظام الدین میں کیا ہوا اور کیا نہیں ہوا، سب سے پہلے میں یہ بتا دیتا ہوں کہ ابھی تک وہاں کوئی کرونا وائرس کا مریض نہیں پایاگیاہے،مزید برآں کہ وہاں کےڈاکٹرکہہ رہے ہیں کہ آفشیلی یہاں جو بھی مریض آئے ہیں کسی کی رپورٹ بھی کروناہونے کی نہیں آئی ہے،ویسے نے کے لئے ہم بھی مریض ہوسکتے ہیں، کوئی بھی ہوسکتاہے کسی کو کھانسی آرہی ہے، کسی کو زکام ہے ہمارے لئے یہ ضروری نہیں ہے، مطلب صاف ہے کہ مرکز نظام الدین تبلیغی جماعت کا کوئی بھی فرد کرونا کا مریض نہیں ہے، سئوال ہے کہ وہاں اتنے سارے لوگ اکٹھاہوکر کون سا پروگرام کررہے تھے، اور اتنے لوگ اکٹھا کیوں تھے، اور پروگرام کیوں رکھا گیا، پہلی بات ہندوستان کی حکومت مدھیہ پردیش میں حکومت بنانے گرانے میں مصروف تھی، اس لئے وہ کرونا وائرس کےلئے لاک ڈاؤن نہیں کرپائی، پی ٹی آئی نے یہ رپورٹ بھی جاری کی تھی حکومت کی آفشیل سائٹس، نےبھی جاری کی تھی کہ
کرونا کا اب کوئی پریشانی نہیں ہے، 20 مارچ اور اس سے پہلے مدھیہ پردیش میں بھاجپا کےلوگ کسی طرح سے اکٹھاہوئے تھےسوشل ڈسٹینسنگ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے، یہ سب اس لئے اتنے ضروری تھے تاکہ مدھیہ پردیش میں بی جی پی حکومت بنالے جب حکومت بن گئی اسی دن شب میں ہندوستان کے وزیراعظم مودی جی نے لاک ڈاؤن نافذ کردیا،نظام الدین مرکز تبلیغی جماعت کا مرکز ہے وہاں ہمیشہ لوگ آتےجاتے رہتے ہیں، آمدورفت کا سلسلہ جاری رہتاہے ، پھرجماعتیں واپس آتی ہیں، پھر اپنے اپنے گھر چلے جاتے ہیں، ہر روز پندرہ سو سے لیکر 2000 ہزارتک لوگوں کا مجمع ہوتاہے جب لاک ڈاؤن نافذکرنےکا اعلان ہوا، کرونا وائرس ہونےکی تصدیق کردی گئی کہ ہندوستان میں کرونا وائرس کی ماہ ماری ہے ، تو لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا، اور اعلان ہواکہ جو جہاں ہے وہیں پر رہ جائے ایسا غیر زمہ دارانہ اعلان، بنا کسی تیاری کے لاک ڈاؤن نافذ کروادیا، غلطی کس کی، مودی حکومت کی، اس کے بعد مرکز نظام الدین کی کمیٹی نےفلاح وبہبودی نیز زمہ داری نبھاتے ہوئے ایس ایچ او کو معلومات دی کہ ہمارے یہاں بہت سارے لوگ ہیں، جسمیں ہندوستانی بھی ہیں اور غیر ممالک کے بھی لوگ ہیں، پندرہ سو سے زائد لوگوں کو ہم ان کے گھر بھیج چکے ہیں، ہزار لوگ ابھی بھی یہاں مگر پھنسے ہوئے ہیں، جس میں جو یہاں تبلیغ اور کام کرانے والے افراد بھی شامل ہیں، آپ ان حضرات کو یہاں سے نکالنے کےلئے مدد کیجئے، تب ایس ایچ او نے کہا کہ ابھی آپ رکئے، ابھی ان حضرات کو یہیں رکھئے، ہم کچھ کرتے ہیں پھر اسکے بعد مرکز نظام الدین کمیٹی نےکہا کہ گاڑیوں کے جانے کے پاسیزز دے دیجئے تاکہ ہم ان کوجلدازجلد یہاں سے نکال سکیں، کیونکہ آمدورفت کی گاڑیاں بند ہوچکی ہیں، لاک ڈاؤن کی وجہ سے، پر ایس ایچ او صاحب نےاور انکی پولیس نے کچھ بھی ایکشن نہیں لیا، اس کے بعد مرکز نظام الدین کمیٹی نے ایڈیشنل پولیس آف کمشنردہلی کو خط لکھا کہ ہمیں جانے کی اجازت دیجئے تاکہ ہم یہاں سے خیروعافیت کے ساتھ نکل جائیں، اور لوگوں کو یہاں سے انکےگھر کی طرف روانہ کرسکیں، مگر انھوں نے بھی کچھ نہیں کیا، اسکے بعدایس ڈی ایم کو خط لکھا کہ صاحب پاسیزز دلوائے ہمکو تاکہ ہم لوگوں کو گھر بھیج سکیں، مگر ان کا بھی رد عمل وہی تھا مزید انھوں نے کہا کہ ڈی ایم کےپاس جاؤ، ڈی ایم صاحب نے کہا کہ رکو ابھی ہم پاسیزز دیتے ہیں، ڈی ایم اور ایس ڈی ایم کس کے تحت کام کرتے ہیں؟؟ کیجری وال حکومت کےتحت آتے ہیں ایس ایچ او کس حکومت کے تحت آتے ہیں؟؟ مودی حکومت کے تحت کام کرتے ہیں، انکی ناکامی کے اوپر زمہ دارٹھہرایاجارہاہے مرکزکو، جو لگاتار کوششیں کر رہے تھے کہ کسی بھی طرح سے لوگوں کو یہاں سے نکال لیاجائے اور حکومت کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے کسی فرد کو باہر گھومنے پھرنے نہیں دیا، ادھر ادھر جانے نہیں دیا، وہیں پر روک کر رکھا گیا کہ یہاں پر اکٹھا جمع رہیں اور باہر مت نکلیں، ہماری ایس ایچ او صاحب سے بات چل رہی ہے، ہماری ڈی ایم سے بات چل رہی ہے ہم آپ کو کسی بھی طریقے سے گھر پہنچائیں گے، اورتو اور مرکز کا کوئی بھی فرد کرونا وائرس کا مریض نہیں پایا گیا ہے، اگر ایک بھی ایسا کیس ہوتاتودہلی پولیس پریس کانفرنس کرکے کہتی یہ طریقہ ہے مگر دہلی پولیس آفشیل پریس کانفرنس کرسکتی ہے اس لئے کوئی پریس کانفرنس نہیں ہوا، اور گودی میڈیا افواہ پر افواہ پھیلا رہی ہے کہ اتنے لوگ کرونا کے مریض پائے گئے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی مرکز کا فرد کرونا وائرس کا مریض نہیں پایا گیا ہے مگر گودی میڈیا ،افسوس ہے ایسی صحافت پر، کوئی نیوز والا کہہ رہاہے کہ مرکز کے پچاس لوگ مریض ہیں ،کوئی سو بتا رہاہے کوئی کہہ رہاہے کہ ڈھائی سو لوگ اس مرض کے شکار پائے گئے ہیں،صحافت کےلئے ہمارےملک کاچینل ازادی بول دیتاہے، اگر وہ دیکھ لےداڑھی جہادی بول دیتاہے، کسی مندرمیں کوئی چوربھی ملتاہے اچھاہے۔اگر مسجد میں مل جائے فسادی بول دیتاہےحکمت بھری نصیحت_ سرکار مجاہد ملت علیہ الرحمہ کی دوراندیشی...
گودی میڈیا کی جانب سے کورونا وائرس کے نام پر تبلیغی جماعت کے مرکز کے خلاف طوفان بدتمیزی کے تناظر میں اس تحریر کو ضرور پڑھیے
مولانا وارث جمال قادری ،بستوی (مقیم ممبئی ) لکھتے ہیں:
’’’ ایمرجنسی (۱۹۷۵ء تا ۱۹۷۷ء) کے آغاز میں ،جماعتِ اسلامی ہند پر، پابندی لگی۔تو، مجاہد مِلَّت، ممبئی تشریف لائے اور ’’آل انڈیاتبلیغِ سیرت‘‘ کی جانب سے شدید احتجاج کیا۔ ہانڈی والی مسجد (ممبئی ) میں، مجھے (وارث جمال قادری ) بلایا اور الگ لے جا کر، کہنے لگے:
مولوی صاحب ! سنا ہے کہ تم، لکھنا جانتے ہو ۔تو ،ایسا کرو کہ:
ایک خط، آل انڈیا تبلیغِ سیرت کی طرف سے ،وزیر اعظم ،مسز ،اندرا گاندھی کے نام
اِس مفہوم کا، اپنے طور پر لکھ کر، ابھی ابھی ،میرے پاس لاؤ۔
میں نے ،ادب کے ساتھ ،عرض کیا کہ ،حضور !یہ ’’جماعت اسلامی ‘‘ تو ، ’’وہابیوں‘‘ کی جماعت ہے۔
اس کے لئے آپ کو ،اور ہمیں، پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟بھگتنے دیجیے، انھیں کو۔ اچھا ہوا، جو، حکومت نے پابندی لگا دی، کچھ تو، زور کم ہوگا ان کا۔
اورآپ ہیں کہ، پوری جماعت کے ساتھ، اس کے لیے، احتجاج کرنے جا رہے ہیں۔مجاہدِ مِلَّت ،مسکرا کر، فرمانے لگے:مولوی صاحب ! ابھی ،بچے ہو۔ وقت، تمہیں سمجھا دے گا۔
ہمارا ،یہ احتجاج ،در حقیقت ’’جماعت اسلامی ‘‘ کے لیے نہیں۔
بلکہ ’’خاک سارانِ حق‘‘ اور ’’آل انڈیا تبلیغِ سیرت‘‘ کے لیے ہے۔
اِسی مرحلے میں، حکومت کو، نہیں روکا گیا تو ،اس کے بعد :
’’خاک سارانِ حق‘‘ کی باری آئے گی۔ پھر’’تبلیغِ سیرت‘‘ کے گلے میں، پَھندا ڈالا جائے گا۔
مولوی صاحب !’’خاک سارانِ حق‘‘ حکومت کی نظر میں، بہت زیادہ کھٹکنے لگی ہے۔
اور،بڑے بڑے جُغادری لیڈروں کی زبان پر، اس کانام آنے لگا ہے۔
ابھی، فیروز آبادفساد(اترپردیش) میں، جو، پی اے سی سے کنٹرول،نہیں ہو رہا تھا، بلکہ، وہ، جانب دارانہ رول ادا کر رہی تھی، اُسے ’’خاک سارانِ حق‘‘ نے کنٹرول کیا اور پی اے سی کو، جانب داری برتنے سے، بزورِ طاقت ،روک دیا ۔جس سے مسلمانوں کو ،بڑا تحفظ ملا ۔وزیر اعظم ، مسز اندرا گاندھی نے اس پر ’’خاک سارانِ حق‘‘ کا شکریہ ادا کرنے ، شاباشی دینے کے بجائے، آل انڈیا ریڈیو پر تقریر کرتے ہوئے فیروزآباد فساد کا، ذِمَّہ دار ’’خاک سارانِ حق‘‘ کو ٹھہرایا، جس پر، ہمارے کان ،اُسی وقت ،کھڑے ہوگئے تھے۔لِھٰذا، ایسی صورت میں ’’جماعتِ اسلامی‘‘ کے لیے حکومتِ ہند کے خلاف احتجاج، اور ضروری ہو جاتا ہے۔ورنہ، ایک ایک کرکے ،سبھی جماعتوں پر، حکومتِ ہند ،پَھندا کستی چلی جائے گی۔‘‘
(ص ۴۰۔ ماہنامہ، کنزالایمان۔ دہلی ۔شمارہ محرم و صفر ۱۴۲۵ھ ۔مطابق، مارچ ۲۰۰۴ء)
بِحَمْدِہٖ تَعالیٰ حضرت مجاہدِ مِلَّت کے مندرجہ بالا دور اندیشانہ فیصلے میں ایمانی بصیرت بھی ہے، اسلامی غیرت بھی ہے۔
عُلمائےاہلِ سنَّت کے لیے منہجِ قیادت بھی ہے، اور عوامِ اہلِ سنَّت کے لیے درسِ ہدایت بھی ہے۔


0 تبصرے