Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

آج ہمارے معاشرے کے لیے ایک نئے طرز عمل کی

ازقلم:سلمان کبیرنگری
قوموں کا عروج وزوال مستقل اور دائمی نہیں ہوتا عروج کو افراد کی کوتاہیاں زوال میں تبدیلی کر دیتی ہیں اور زوال کو افراد کی سعی پیہم اور جد مسلسل پھر عروج میں تبدیلی کر دیتی ہے۔ زوال نہ کسی قوم کا دائمی کا مقدر ہے اور نہ عروج کسی قوم کی میراث، ہر دوکا انحصار عمل اور بے عملی میں پوشیدہ ہے، باعمل قومیں اپنے آپ کو ہر دم متحرک رکھتی ہیں اور بے عمل قومیں جو خود کوحالات کے دھارے پر چھوڑ دیتی ہیں۔ انہیں زمانہ خس وخاشاک کی طرح بہالے جاتا ہے،یہ ایک تاریخی عمل ہے جس میں آج تک کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی اور قومیں اس تاریخی عمل کی روشنی میں اپنے اعمال کا احتساب کر تی ہیں، اپنی فکر کی تشکیل جدید کر تی ہیں ور پھر اپنی سعی پیہم کے ذریعے اس منزل کی طرف رواں دواں ہوجاتی ہیں جو قوموں کی زندگی میں نقطہ عروج کہلاتا ہے، ہر دور اور زمانہ یکساں نہیں رہتا، حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں، اور بد لتے حالات سے مطابقت پیدا کر نا اور نہ کر نا قوموں کی زندگی فیصلہ کن موڑ ثابت ہوتا ہے، کچھ قومیں آئین نو کا ساتھ دے کر خود کو تبدیل کر لیتی ہیں اور جوقومیں تبدیلی حالات سے مطابقت کو حرز جاں بنا لیتی ہیں، وہ زمانے میں سرخرو اورکامیاب قرار پاتی ہیں، وقت کسی کا انتظار نہیں کر تا،زمانہ کسی کا دائمی ساتھ نہیں دیتا، پامر دگی اور مستقل مزاجی اور عزم صمیم ہی کے ذریعے قومیں وقت کے دھارے کو اپنے قابومیں کر لیتی ہیں، اور پھر حالات کے طلاطم بے عمل قوموں سے قوت فکر چھین لیتا ہے، قوت فکر سے محرومی،قوموں کے لئے شدید ترین عذاب ہے، جب کہ زندہ رہنے کی جدوجہد کر نے والی قومیں، ہردم بدلتے حالات کے مطابق فکری لائحہ عمل تیار کر لیتی ہیں، آج ہمارے معاشرے کے لئے ایک نئے لائحہ عمل اور ایک نئی فکر کی ضرورت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ لائحہ عمل کون تیار کر ے؟فکر کے پیمانے کون مقرر کرے ؟دراصل ایسامعاشرہ جو ایک طویل عرصہ سے شکست کاشکار رہا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Comments