تحریر:زین العابدین ندوی
زندگی گزارنے کو جو ماحول اور زمانہ ہمیں میسر ہے وہ دجل وفریب سے بھرا ہوا اور شعبدہ بازوں سے پٹا پڑا ہے، اور اس شعبدہ بازی کو میڈیا کے واسطہ پروان چڑھانے کا کام زوروں پر ہے، جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنانے والی مشین میڈیا نے دنیا کا نقشہ اور اس میں پیش آنے والے واقعات وحادثات کا چہرہ مہرہ بدل کر رکھ دیا ہے، خبر رسانی میں جس بد دیانتی اور بے ایمانی کا رویہ اپنایا جا رہا ہے وہ ساری انسانیت کے لئے انتہائی تباہ کن اور مہلک ہے، اس سے بڑا ہلاکت خیز نہ تو کوئی وائرس ہے اور نہ ہی وبا وبیماری، انسانوں کے نفسیات اور جذبات سے کھیلنے والا یہ میڈیائی کھلونا اتنا خطرناک ہے جس کا اندازہ کر پانا مشکل ہے۔
آئیے ذرا ہم اس وائرس کے نمود کے بعد پیش آنے والے واقعات میں میڈیا اور اس کی پشت پناہی کرنے والی سرکار کی آئیڈیا لوجی اور لوجیک کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سنتوش: پورا ملک لاک ڈاؤن کیوں ہے؟
منوج: اس لئے کہ لوگوں کے اختلاط اور میل ملاپ سے کرونا وائرس کے بڑھنے کا خطرہ ہے۔
سنتوش: اچھا، تو پھر سبزی بیچنے اور خریدنے والے، دودھ لینے اور دینے والے اور یومیہ دو گھنٹوں کی خریداری کی رخصت میں انسانوں کا آپس میں اختلاط نہیں ہوتا کیا؟ یا وہ کرونا پروف لوگ ہیں؟ بینک والے، پولیس والے، نیتا لوگ اور آرمی والے ان سب کو کرونا کا خطرہ نہیں ہے کیا؟
منوج: مجھے تو لگتا ہے یہ سب کرونا پروف ہیں اور ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہونے والا، اس لئے کہ یہ سب سرکاری لوگ ہیں، اس کا اثر تو صرف غریبوں اور مزدوروں پر ہونے والا ہےاس لئے کہ ان کے پاس اینٹی کرونا نہیں ہے۔
سنتوش: اچھا یہ بات ہے اب بیماری بھی امیر و غریب دیکھ کر آنے لگی؟ اس کا مطلب ہے کہ کچھ تو گڑبڑ ہے، اور دوسری بات یہ کہ میں تو سنتا تھا کہ کرونا گرم جگہوں پر مر جاتا ہے تو پھر لوگوں کو گھروں میں بند کرنے کا کیا مطلب؟
منوج: ارے بھیا یہ تو سرکار جانے۔
سنتوش: اچھا یہ کورنٹائن کیا چیز ہے؟
منوج: جن پر بیماری کا شک رہتا ہے انہیں الگ ایک کمرے میں لوگوں سے دور رکھنے کی ترتیب ہے یہ۔
سنتوش: تو کیا وہاں سوشل ڈیسٹنسنگ باقی رہتا ہے کیا؟
منوج: یہی تو میری بھی سمجھ میں نہیں آتا، ایک طرف سوشل ڈیسٹنسنگ کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف ایک ہی جگہ بہت سارے لوگوں کو بند کر دیا جاتا ہے اور چودہ چودہ دنوں تک رکھا جاتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ کورنٹائن بیماری کے بجائے بیماروں کو ہی ختم کرنے کی پلاننگ کا نام ہے۔
سنتوش: ارے بھائی یہ سب کیا چل رہا ہے؟ یہ کوئی بیماری ہے یا سیاسی گیم پلان، غریب گھر میں رہ کر بھی اس سے متاثر ہو جائے اور امیر گھوم ٹہل کر بھی چنگا رہے، غریب نکلے تو ڈنڈا کھاے اور دھن پتیوں کو پولیس ہی حفاظتی سامان فراہم کرے، ایسا لگتا ہے اس لاک ڈاؤن کے پیچھے پورا پلان ہے جس کا مقصد عوام کو بیوقوف بناتے ہوئے اپنی ناکامیوں خوب اچھے پردہ سے ڈھکنا ہے۔
منوج: ارے نہیں بھائی آپ یہ بات کیسے کہہ سکتے ہیں؟ یہ معاملہ صرف بھارت میں نہیں پوری دنیا میں ہے ۔
سنتوش: ارے ہاں جناب آپ نے صحیح کہا، لیکن پوری دنیا میں اس سے زیادہ لوگ فلو سے ہر سال مرتے ہیں بس فرق اتنا ہے کہ میڈیائی دجل کے سہارے اسے دکھایا نہیں جاتا، باقی کوئی خاص فرق نہیں ہے۔
منوج: ارے ہاں یار ڈاکٹر وشوروپ رائے چودھری صحیح کہہ رہے تھے، مجھے اب ان کی بات برابر سمجھ میں آ گئی۔
آئیے ذرا ہم اس وائرس کے نمود کے بعد پیش آنے والے واقعات میں میڈیا اور اس کی پشت پناہی کرنے والی سرکار کی آئیڈیا لوجی اور لوجیک کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سنتوش: پورا ملک لاک ڈاؤن کیوں ہے؟
منوج: اس لئے کہ لوگوں کے اختلاط اور میل ملاپ سے کرونا وائرس کے بڑھنے کا خطرہ ہے۔
سنتوش: اچھا، تو پھر سبزی بیچنے اور خریدنے والے، دودھ لینے اور دینے والے اور یومیہ دو گھنٹوں کی خریداری کی رخصت میں انسانوں کا آپس میں اختلاط نہیں ہوتا کیا؟ یا وہ کرونا پروف لوگ ہیں؟ بینک والے، پولیس والے، نیتا لوگ اور آرمی والے ان سب کو کرونا کا خطرہ نہیں ہے کیا؟
منوج: مجھے تو لگتا ہے یہ سب کرونا پروف ہیں اور ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہونے والا، اس لئے کہ یہ سب سرکاری لوگ ہیں، اس کا اثر تو صرف غریبوں اور مزدوروں پر ہونے والا ہےاس لئے کہ ان کے پاس اینٹی کرونا نہیں ہے۔
سنتوش: اچھا یہ بات ہے اب بیماری بھی امیر و غریب دیکھ کر آنے لگی؟ اس کا مطلب ہے کہ کچھ تو گڑبڑ ہے، اور دوسری بات یہ کہ میں تو سنتا تھا کہ کرونا گرم جگہوں پر مر جاتا ہے تو پھر لوگوں کو گھروں میں بند کرنے کا کیا مطلب؟
منوج: ارے بھیا یہ تو سرکار جانے۔
سنتوش: اچھا یہ کورنٹائن کیا چیز ہے؟
منوج: جن پر بیماری کا شک رہتا ہے انہیں الگ ایک کمرے میں لوگوں سے دور رکھنے کی ترتیب ہے یہ۔
سنتوش: تو کیا وہاں سوشل ڈیسٹنسنگ باقی رہتا ہے کیا؟
منوج: یہی تو میری بھی سمجھ میں نہیں آتا، ایک طرف سوشل ڈیسٹنسنگ کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف ایک ہی جگہ بہت سارے لوگوں کو بند کر دیا جاتا ہے اور چودہ چودہ دنوں تک رکھا جاتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ کورنٹائن بیماری کے بجائے بیماروں کو ہی ختم کرنے کی پلاننگ کا نام ہے۔
سنتوش: ارے بھائی یہ سب کیا چل رہا ہے؟ یہ کوئی بیماری ہے یا سیاسی گیم پلان، غریب گھر میں رہ کر بھی اس سے متاثر ہو جائے اور امیر گھوم ٹہل کر بھی چنگا رہے، غریب نکلے تو ڈنڈا کھاے اور دھن پتیوں کو پولیس ہی حفاظتی سامان فراہم کرے، ایسا لگتا ہے اس لاک ڈاؤن کے پیچھے پورا پلان ہے جس کا مقصد عوام کو بیوقوف بناتے ہوئے اپنی ناکامیوں خوب اچھے پردہ سے ڈھکنا ہے۔
منوج: ارے نہیں بھائی آپ یہ بات کیسے کہہ سکتے ہیں؟ یہ معاملہ صرف بھارت میں نہیں پوری دنیا میں ہے ۔
سنتوش: ارے ہاں جناب آپ نے صحیح کہا، لیکن پوری دنیا میں اس سے زیادہ لوگ فلو سے ہر سال مرتے ہیں بس فرق اتنا ہے کہ میڈیائی دجل کے سہارے اسے دکھایا نہیں جاتا، باقی کوئی خاص فرق نہیں ہے۔
منوج: ارے ہاں یار ڈاکٹر وشوروپ رائے چودھری صحیح کہہ رہے تھے، مجھے اب ان کی بات برابر سمجھ میں آ گئی۔


0 تبصرے