Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

مقصد زکوۃ اور آج کا مسلمان

شاہ خالد مصباحی سدھارتھ نگری
    صبح کی سفیدی اس عالم رنگ و بو پر اپنے نورانی آشیانے کا بسیرا کلی طورپر ڈال چکی تھی۔ ادھر جوں ہی وہاٹس ایپ پر نظر پڑی تو کثیر تعداد میں پیغامات کا آنا شروع ہوگیا کہ حضرت علامہ ومولانا محمد محسن نظامی (نوراللہ مرقدہ) سابق شیخ الحدیث دارالعلوم تنویرالاسلام امرڈوبھا کا انتقال ہوگیا۔
    اولاً دل و دماغ یہ خبرقبول کرنے سے یکسر انکار کر بیٹھے، جسم پر کپکپی طاری ہوگئی اور  آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں  آنکھوں تلے اندھیرا چھاگیا، اس کی تصدیق میرے عزیز ساتھی حضرت مولانا ابرار احمد مصباحی کبیر نگری سے ہوئی، انھوں نے بتایا کہ میری ابھی ابھی حضرت مولانا عبدالرحمن مصباحی(استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور) سے اس حوالے سے بات  ہوئی ہے،تو دل کی دھڑکنیں اور بھی تیز ہوگئیں۔ تقریبا دس منٹ تک فون پر غمگین دل اور اداس چہرے کے ساتھ حالات کے پس و پیش کے مد نظر جنازہ میں شرکت و حاضری کی باتیں ہوتی رہیں اور پورا سماں غم و اندوہ میں بدلتا رہا۔
     واضح رہے کہ حضرت نظامی نوراللہ مرقدہ کافی دنوں سے مرکزی ادارہ دارالعلوم اہل سنت تنویر الاسلام امر ڈوبھا میں مسند تدریس پر فائز تھے۔ بے شمار قابل اور جید علماے کرام حضرت کی شاگردی میں آتے ہیں۔ حضرت والا اپنی علمی شعاوں سے جہاں  ہزاروں طلبہ کے سینوں کو، امرڈوبھا کی سر زمین پر درس بخاری سے مزین کرتے رہے ہیں۔ وہیں پر حلقہ مہنداول اور عالم اسلام کے بیشتر گوشے میں بسنے والے افراد و اشخاص، حضرت کی علمی کرنوں سے ضیا بار ہوتے رہے ہیں۔
    نہایت مخلص، ملنسار، عاجزانہ کردار کی متحمل شخصیت جس کے اندر خلوص و للہیت کے عظیم گوہر چھپے ہوئے تھے۔ جس کی ضرورت جماعت اہل سنت کو ہر دور میں رہی ہے۔ آج ہماری کم نصیبی کہیئے!کہ گردش زمانہ نے جماعت کی ایک اعلیٰ افکار رکھنے والی شخصیت کو ہمارے درمیان سے اچک لیا، یعنی اہل سنت کے ایک اسم بامسمی محسن، دار فنا سے دار بقا کی طرف کوچ کرگئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون
اللہ پس ماندگان، لواحقین اورمتعلقین کو صبر جمیل عطا فرماے۔۔آمین
شریک غم:شاہ خالد مصباحی سدھارتھ نگری

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Comments