Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

پہلے تالی،تھالی پیٹو! اب موم بتی، ٹارچ جلاؤ!

تحریر:مولانا محمد قمر انجم قادری فیضی
ریسرچ اسکالر:سدھارتھ یونیورسٹی، کپل وستو
پوری دنیا آج جس وحشت وخوفناک اور ڈرکے سائے میں حیرت زدہ ماحول اور موت کے دہانے سے قریب ہوکرگذر رہی ہے وہ کسی سے ڈھکاچھپا نہیں ہےمحترم غلام جیلانی علیمی کا شعر 
-بےبسی کا وہ اثرہے کہ بتائے نہ بنے 
اور کسی سے کوئی تدبیر بنائے نہ بنے 
 ہندوستان آج جس آزمائش کےکٹھن حالات سے دوچارہے، کس بھی حساس دل اور زندہ دل رکھنے والا شخص اس بات سے شاید باخبرنہیں ہےدیگر مسائل واحوال ایک طرف رواں ایام میں وبائی مرض کرونا کےخوف اور اندیشوں نےجس طرح سےپوری دنیاکو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے شاید انسانی تاریخ میں اتنے وسیع پیمانےپر کسی وبائی مرض کے پھیلاؤ کی مثال ملتی ہو، کرہِ ارض پر مشرق سےلیکرمغرب اور شمال سےجنوب تک ہر ملت ومذہب کےافرادپرجس طرح اس وباء جا قہر جاری وساری ہے یہ عبرت انگیز وحیرت انگیز بھی ہے، ۔مزیدبرآں شايد چودہ سو سال میں اب پہلی بار ایسا ہورہاہےکہ نماز پڑھنےسے دنیا بھرمیں بہت سے مسلمان محروم ہوگئے،،یقیناً مسجدوں میں آج بسےہوئےسناٹے، اور مزیدموسم کا بدلتارنگ اک الگ سی غم  کا پتہ دے رہاتھا، ، اس وائرس کےروک تھام کےلئے حکومت ہر طرح کی مدد کرنےکی کوشش کررہی ہے، لگاتار طور طریقے بتائے جارہے ہیں اور اس پر عمل بھی کیاجارہاہے تب پر بھی اگر یہ وائرس تیزی کےساتھ بڑھ رہاہے تو مزیدملک کی ودیگرلوگوں کی حفاظت کے تحت دیگرقدم اٹھائےجاسکتے ہیں، اور ہندوستان کےوزیراعظم مودی جی نے21 دنوں کےلئےپورے ہندوستان میں لاک ڈاؤن نافذ کروا دیاہے اس سے پیشتر انھوں نے بھولے بھالے سادہ لوح عوام کو اپنے اپنے گھروں کے دروازے، چھت، دیوار اور بالکنی پر کھڑے ہوکر، تالیاں بجانے، تھالیاں پیٹنے، شنکھ پھونکنے ،گھنٹیاں ہلانے، اور پٹاخے چھوڑنےکےلئے کہے تھے، اس لئے تاکہ کرونا وائرس کےمریضوں کی طبی خدمات کرنے والے ڈاکٹروں کی ٹیم کی حوصلہ افزائی کی جاسکے، مگر شاید آپ کو
اسکے پس پشت کا مقصد اور اسکے پیچھے کی کہانی معلوم نہ ہو
ایک اور خبر گردش کررہی ہے، 22 مارچ کو ادھر جنتا کرفیو اورادھر یوپی کے وزیراعلی یوگی جی سادھو سنتوں کے ساتھ رام مندرکی بنیاد رکھی 
یہ وہی یوگی جی ہے جوایک طرف کہتاہےکہ 4 لوگ اگر ساتھ دیکھے گئے تو ان پر بہت سخت کاروائی کی جائےگی، مگرخود ہی ایودھیا میں دس لاکھ لوگوں کو جمع ہونےکےلئے کہہ رہا ہے یہ کیسا دوغلہ پن ہےاب سوچئے خود ہی قانون بناتاہے اور خود ہی توڑتاہے، کیا زمانہ آیاہے، اور کیا دماغ لگایاہے مودی جی نےاورتو اور اوپرسے تالی، تھالی، گھنٹی، بھی خوب خوب بجوائے، اور ہر گھر میں آٹا کا دیا بھی جلوائے، گھنٹی تالی، اور تھالی  بجوانےکا مقصداصلی یہ ہے کہ جب کسی مندر کو بناناہوتاہے یا اسکی بنیاد ڈالنی ہوتی ہے تو سب سے پہلے گھنٹا بجوایا جاتاہے، اور جب 14 اپریل تک دھارا 144 نافذ کردئے تاکہ کوئی گھر سے باہر نہ نکلے، اور ادھر رام مندر بن کر تیار ہوجائے، اور تو اور قانون داں اور ہندوستان کا قانوں بنانے والے بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤامبیڈکرکا جنم دن بھی نہ منا سکیں، واہ مودی جی، کیا دماغ لگائے ہو، اب توائے ہندوستانی بھائیو سب سنبھل جاؤ،اور انکی دماغی چال کو سمجھ جاؤ،ویسے تالی اور تھالی کےپیچھے کا مقصد لوگوں نے کئی اور بھی بتائے ہیں، مگر یہ ہے کرونالوجی۔اب بات کرتے ہیں،موم بتی اور ٹارچ جلانے کی ،آج پوری دنیا کروناوائرس کی دوا تلاش کررہی ہے ماہرین طب اور سائنسداں اپنی اپنی اعلی صلاحیتوں کو صرف کررہے ہیں تاکہ اس لاعلاج اور چھوٹے سے جرثومےکی دوا تیار کی جاسکے،،اپنی قوم کے لئے راحت پیکیج کا اعلان کررہی ہے۔لوگوں کے مابین بہترین خدمت انجام دے رہی ہے، مگرہمارے ملک کے وزیراعظم کبھی کرونا سے لڑنے کے لئے تالی، تھالی، پلیٹ، شنکھ، بجانےاور گھنٹہ ہلانے کا فرمان جاری کرتےہیں،اورصاحب نے تو آج حد ہی کردی کہ ملک کی ایک سو تیس کروڑ عوام کو موم بتی جلانے کافرمان جاری کردیا۔پوری دنیا اس مہاماری سے پریشان اور بےحال نظرآرہی ہے، مگر ہمارے پردھان منتری جی کا کیا کہنا، یہ ہمارے ملک کی بد نصیبی ہے جو ایسامضحکہ خیزانسان پردھان منتری بنا ہے، افسوس ہےایسی حکومت پر۔ایسے غمزدہ ودہشت زدہ ماحول میں پردھان منتری جی پھر بھی قوم کو برابر گاہے بگاہے رامو کاکا کے ٹوٹکوں پر عمل پیرا کراکر اپنی جگ ہنسائی کے ساتھ سب کی ہنسی وتفریح کا مکمل سامان پیش کرتے رہتے ہیں،اب دیکھ لیجئے مودی صاحب کہہ رہے ہیں، 5 اپریل بروز اتوار رات 9 بجے 9 منٹ تک موم بتی، ٹارچ لائٹ، موبائل لائٹ جلا کر ملک کے ساتھ یگانگت کا اظہار کریں، اب مودی صاحب کو کون بتائے کہ ہمارے یہاں دیہات میں سب رات 7 بجےکےبعد سوجاتے ہیں، بےچارے تھکے ماندے، لاک ڈاؤن میں ویسے ہی پریشان،دن بھر سبزی اور گھر کے اخراجات کاانتظام کرنے میں پریشان حال،اوراگر راستے میں پولیس مل گئی تو اوپر سے لاٹھی ڈنڈوں سے استقبال۔اب رات میں 9 بجے کون اٹھ کر موبائل لائٹ، یا ٹارچ لائٹ، یا موم بتی جلائےگا،اس سے کیا ہوگا، مودی صاحب بتا رہے ہیں، غور سے پڑھئے، میرے پیارے وطن کے عزیزو، آج کروناعالمی وائرس کےخلاف ملک گیر پیمانے پر لاک ڈاؤن کے9 دن مکمل ہونےکوہے اس خطرناک وقت اور نازک حالات کے دوران آپ سب نے نظم وضبط اورخدمتِ خلق، ایک دوسرے سے متعارف کرایا، یہ غیر معمولی قدم نہیں ہے، 22 مارچ2020 بروز اتوارکو کروناوائرس کےخلاف لڑنےوالےہرایک فرد کا شکریہ، یہ آج تمام ممالک کےلئے ایک مثال بن گئی ہے 130 کروڑعوام اس مشکل اور خطرناک گھڑی میں ایک ساتھ ہیں، جو لوگ کروناسے سب سے زیادہ متاثر ہیں، وہ ہمارے ملک کےغریب لوگ ہیں،کیوں امیروں کا کروناوائرس رشتہ دارہےجوان کو لاحق نہیں ہوگا،ان کو چھوڑدےگا۔لہذا ان غریبوں مریضوں  کی ہمت افزائی کرنی ضروری ہے، ہمیں اجالوں کی طرف بڑھناہے، کرونا وائرس سےلڑائی کےلئے اور اس کو شکشت فاش کرنے کے لئے روشنیوں کو بڑھاناچاہیئےمودی صاحب کون ڈاکٹر بولاہے کہ کروناوائرس سے اگر جنگ لڑنا ہے تو روشنیوں کا انتظام کرو، آپ اور آپکی حکومت اسکی دوا بنانے کےلئے نہیں سوچ رہے ہیں،اگر کرونا وائرس روشنی سے بھاگ ہی جاتاتواٹلی، امریکہ، چین، جاپان، ووہان، وہاں تو شب وروز اجالاہی اجالارہتاہے،جب وہاں سے کرونا وائرس نہیں بھاگا،اور اجالے سے وہاں والے کرونا وائرس کونہیں بھگاپائے،تویہاں رات میں وہ بھی 9بجے اور تو اور نومنٹ، زیادہ دیر تک نہیں، آدھا گھنٹہ نہیں، ایک گھنٹہ نہیں، صرف اور صرف 9 منٹ تک روشنی ہونے سے اور لائٹ جلانے سے کرونا بھاگ جاتاہے تو یہ آپ کی مضحکہ خیز اور بےوقوفانہ عمل ہے ہربار کی طرح آپ لوگوں کو ہنساتے اورکامیڈی کرتے رہتے ہیں ۔آگے ملاحظہ کریں، مودی صاحب کہتے ہیں کہ اس روشنی میں ہم اپنے آپ سے یہ عہد کریں کہ ہم اکیلے نہیں ہیں، بلکہ 130 کروڑلوگ ملک کےاور مریضوں کے ساتھ ہیں۔واہ مودی جی آپ کو بلکل یقین ہے کہ پورے ہندوستان میں رہنے، بسنے والے لوگ 130 کروڑ ہی ہیں، اس سے ایک بھی کم یا زیادہ نہیں، ویسے کون یہ بتایا ہے آپ سے، اس دوران سب لوگ اکیلے بیٹھ کر اپنے من کی طاقت کے بارے میں غوروفکر کریں، تاکہ ہمیں مصیبت سے لڑائی کی طاقت حاصل ہو، ہماری خواہش سے بڑھ کر دنیا میں کچھ ایسا نہیں ہے جو حاصل نہیں ہوسکتاہے اور لوگ اپنے درمیان فاصلہ برقرار رکھیں، سڑکوں میدانوں، یا کہیں ایک ساتھ جمع نہ ہوں، تاکہ متحدہ طور پر اس کرونا وائرس سے مقابلہ کیا جاسکے، قارئین کرام!  اب دیکھئے کہ موم بتی وٹارچ جلانے،کے پیچھے کیا مقاصد کار فرماہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، 

ویسے آج ہندوستان جس کیفیت سے گزر رہاہے وہ بھی سوچتاہوگا کہ کس حاکم کے تحت ہم آگئے ہیں،جوکبھی کہتاہےکہ تالی، تھالی، پیٹو بجاؤ، تاکہ کرونا وائرس بھاگ جائے، ہم اس بیماری سے بچ جائیں، اور انکے وزراء کہہ رہے ہیں کہ گاؤمتر پیو، گوبر لگاؤ، وائرس پائرس پتہ نہیں کہاں جائے گا،بس اس شعرکےساتھ، 

بربادگلستاں کرنےکوبس ایک ہی الوکافی ہے
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Comments