تحریر:شاہ خالد مصباحی سدھارتھ نگر
اس چلملاتی دھوپ کی کرنوں میں انسانی اجسام سائنسی نقطہء نظر سے
1 گھنٹے کے اندر پیاش کی شدت اور کھانے کی لذت کے لیے تڑپنا شروع ہوجاتا ہے ۔ اور یہی حقیقت بھی ہے کہ ہمارا جسم سورج کی شعاوں میں چند منٹ کے اندر اپنی تروتازگی کو کھو بیٹھ کر لقمہ انسانی کا منتظر ہو بیٹھتا ہے ۔
#لیکن_قارئین!!!!
ذرا غور کریں اس مخلوق ربانی کے بارے میں جس کے زندگی کے آشیانہ کا ٹکاو کرن شمشی کے چمتکر شعاوں سے ہے یا صبح بہار کی روشن فضاوں سے، نہ ان کا کمانے کا کوئی وسائل اور نہ وہ اپنے بارے میں ایسی معاشی قیاس آرائیاں۔
بس!! بالکلیہ اعتماد ربانی ہی پر ان کی زندگی کے زیست و مردگی کے سارے معاملات منحصر ہیں ۔
قارئین!!! آج اس عنوان پر اپنی چند کوتاہ فکروں کا آپ کے احساس دل میں اتارنے کا موقع یوں ملا جب اس حالیہ کراہیت انسانی کے امدادو تعاون کے زمانے میں بھی اک جانور کو بلبلاتے اور بھوک و پیاس کی شدت سے کراہتے ہوئے دیکھا۔
یقینا!!! جس کے بعد
زمانۂ جاہلیت کے انسانیت کا تاریک ترین اور وہ گمراہ کن دور یاد آگیا ،جس کے عمارت کی ہر اینٹ اپنی جگہ سے متزلزل اور بے بنیاد تھی،ظلم و جور کی چادر ہر جان و بے جان پر تنی ہوئی تھی ،رحمت و مودت اور اخوت و بھائی چارگی نے دم توڑ رکھا تھا ،قدم قدم پر جنونیت و دیوانگی کے مدفن نے ؛فطرت انسانی کو اپنے آپ میں دفن کر لیا تھا ،خدا تعالی کی نت نئی مخلوقات پر
مشتمل اس دنیا کی ہر ذی روح ؛گھٹن اور بے کسی کی شکار تھی ،جانور و حیوانات رفق ونرمی سے سراپا محروم تھے ؛بلکہ بسااوقات ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کے آرام و آرائش کا خیال رکھنے کو قصۂ استعجابیہ سے دیکھتے اور اسے بے جا شوق پورا کر نے ،ایک دوسرے پر اپنے آپ کی فضیلت ثابت کر نے کا ذریعہ سجھتے تھے ،دیوان جاہلی میں ایسے بہت سے قصوں کا ثبوت ملتا ہے ؛جنہیں پڑھ کر انسانی طبیعت بے ساختہ مچل اٹھی تھی ،اور طبیعت انسانی کے مسخ ہونے پر شاہد ہوتی تھی ، آج تک ان کی عالم قساوت و سنگدلی پر طنز و تنقید یوں ہوتا رہا ہے کہ فیاضی و سخاوت کی آڑ میں جانوروں کو عامیانہ طور پر مار گراتے تھے اور لوگوں سے کہتے :تم انہیں کھا جاؤ!،تو وہیں پر دو آدمی شرط لگا کرکھڑے ہو جاتے تھے اور باری باری سے اپنا اونٹ ذبح کرتے جاتے ؛جو رک جاتا وہ ہار جاتا تھا ،اور مذبوحہ جانوروں کو احباب کی ضیافت کا ساماں کر دیتے ،حتی کہ
ایک دستور کی شکل میں یوں رواج چل بسا تھا کہ جب کوئی مرجاتا تو اسکی سواری کے جانور کو اسکی قبر پر باندھتے اور درندگی کا یوں عالم ہوتا کہ اس کا غلہ ،پانی اور گھاس بند کر دیتے تھے ؛یہاں تک کہ وہ بھوک و پیاس کی عالم میں پہونچ کر سوکھ جاتا اور بالاخر موت کے تختے پر اسے بر ایں طرز لٹا دیتے ،اور ایسے جانوروں کو ’’#بلیہ‘‘ کہتے تھے ۔
بے زبانوں پر ظلم و تشدد کا بس یہی صرف انداز نہیں رہا بلکہ کبھی کبھی اپنی شہوتوں کے پس پرد کسی خاص جانور کو باندھ کر تیر اندازی کرتے اور اپنا نشانہ درست کرتے یا انہیں آپس میں لڑواکر ان کی خوں ریزی کا لطف اٹھاتے تھے۔
حد تو یہ رہی کہ ان ہی پر سواری کرتے ،نقل مکانی اور باربرداری کا کام بھی انہی سے لیتے ،جنگ و جدل میں بے دریغ استعمال بھی کرتے لیکن ان کے خورد و نوش کا چنداں پرواہ نہ کرتے!!!
مزید برآں کہ اگر کسی جانور کا کوئی عضو اچھا لگتا تو اسے یوں ہی کاٹ لیتے اور کھاجاتے ،جنگلوں میں شب و روز نکل جانا اور بیجا ولغو شکار کرنا ؛ بہادری کامعیار گردانا جاتا تھا!!! ،
انہیں ذبح کرنے اور کاٹنے کے معاملہ میں تو پتھر اور ناخن کا بھی استعمال کر لیتے تھے ؛جن سے جانور ذبح کم اور گھٹن سے زیادہ جاں سونپ دیتا ہے ۔
اور اگر کوئی جانور ان کے گرفت سے باہر ہوجاتا خواہ اس کی پیر سالی وضعف کی وجہ سے کیوں نہ ہو ؛اسے لعنت و ملامت کا نشانہ بناتے تھے ۔
یہ ظلمتوں کی وہ داستان بیانی ہے جہاں انسانوں کے ساتھ ہی ساتھ انسان نما افرادوں نے ہی جانوروں کی بھی زندگی کو دنیا کا اک کھیل بنا رکھا تھا اور جب چاہتے تو منشییات کو داوں پر لگا کر حیات کا سرخرو پہلو گرداننے لگ جاتے تھے نہ انسانوں کی کوئی توقیر تھی اور نہ ہی انسانوں کے سہارا بننے والے وسائل کی کوئی عزت و حفاظت --------
#قارئین!!!! #خدارا !!
ایسے ہی پرآشوب حالات میں دین اسلام ،بے دردوں اور بے دلوں کی بستیوں پر اجاگر ہوا تھا ،اور ایک نبی امی محمد مصطفیؐ اپنی ردائے رحمت ہر سو یوں پھیلائیں کہ شفقت و یاروی کی بساط صرف انسانوں پر ہی نہیں ؛بلکہ حیوانات پر بھی یوں دراز ہوئی کہ جس کی پاداش میں سابقہ مظالم کی گرفت اور بے سروپا کے رسوم پر قدغن لگایاگیا اور ان کے حقوق و احکام کی بات ہوئی اور شرف و عزت نے انہیں بھی لمس کیا ۔
اور جہاں انانوں کو بتلایا کہ تم اس دنیا کے امین و خلیفہ ہو۔ ’’انا عرضنا الأمانۃ علی السموات والأرض والجبال فأ بین أن یحملنھا واشفقن منھا وحملھا الانسان ‘‘(احزاب)
تو وہیں انہیں یہ تعلیم بھی دی کہ :حیوانات کے بارے میں بھی محتاط ہوجاؤ کیونکہ ان کے بارے میں بھی تم سے باز پرس ہوگی’’اتقواللہ فی عبادہ وبلادہ فانکم مسؤولون حتی عن البقاع والبھائم‘‘(من اقوال علی بن طالبؓدیکھئے:نھج البلاغۃ:۲؍۸۰،بحارالانوار:۳۲؍۹...،البداےۃوالنھاےۃ:۷؍۲۵۴)
یہاں تک کہ ان کے ساتھ عمدہ برتاؤ پر جنت کی عنایت بھی ہوئی(صحیح بخاری:۲۳۲۳۔صحیح مسلم:۲۲۴۴)
اور برے سلوک پر جہنم کی سیر بھی کروائی گئی(صحیح بخاری:۷۰۳۔ھکذا:نسائی:۱۴۶۵)،بلکہ انہیں کھلانا صدقہ کرنا بتلایا گیا:’’مامن مسلم یغرس غرساالا کان مااکل منہ صدقۃ‘‘(بخاری:۲۳۲۰۔مسلم:۱۵۵۲)
اورساتھ ہی حضوراکرمؐ نے ایسے لوگوں پر #سخت_لعنت_فرمائی جو جانوروں کو نشانہ بنائیں یا تیر اندازی کی مشق کریں’’لعن رسول اللہ ؐ من اتخذ شےأ فیہ الروح غرضاوفی رواےۃ ان تصبر البھائم ‘‘(بخاری: ۵۵۱۵، ۵۱۹۵ ۔ مسلم:۱۹۵۸)
اور ایک روایت میں یہ ہیے کہ :ایک لڑکااسی طرح مرغی کو باندھ کر تیر کا نشانہ بنارہاتھا ،حضرت عبداللہ بن عمر کو دیکھا تو وہ بھاگ نکلا،یہ دیکھ آپؓ نے فرمایا:جو لوگ ایسا کرتے ہیں آپؐ نے انہیں ملعون قرار دیا ہے (بخاری:کتاب الصید)،حتی کہ آپؐ نے فرمایا کنکری و غلیل کا بھی استعمال نہ کیاجائے کیونکہ اس سے بجز انہیں تکلیف کہ ؛کچھ حاصل نہیں ’’نھی النبیؐ عن الخذف،وقال:انھا لاتقتل الصید ،ولا تنکی العدو،ولکنھا تفقأ العین،وتکسر السن‘‘(ابن ماجہ: ۳۲۲۶)
اور انہیں آپس میں لڑوانے اور لطف اندوز ہونے سے منع فرمایا:’’نھی عن التحریش بین البھائم‘‘(ابوداؤد:۲۵۶۲)
اوراسی طرح ان پر ضرورت سے زائد بوجھ ڈالنے اور ان کا خیال نہ رکھنے پر اللہ کے رسول ؐ نے تنبیہ فرمائی:’’اماتتقی اللہ فی ھذہ البھیمۃ التی ملککھااللہ لک انہ شکا الی انک تجیعہ وتدئبہ‘‘(مسلم:۱؍۲۶۸۔ابوداؤد:۲۵۴۹۔ابن ماجہ:۳۴۰،۱؍۱۲۲۔احمد:۱؍۲۰۴)
اور جوزندہ جانوروں کاگوشت کاٹ کر کھا جایا کرتے تھے ؛اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ مردار کھا رہے ہیں’’ماقطع من البھیمۃ وھی حےۃ فھو میتۃ ‘‘ ( ابوداؤد : ۵ ۲۴۷)،’’ماقطع من الحی فھو میت‘‘ (ترمذی : ۱۴۰۰)،’’حرمت علیکم المیتۃ ۔۔۔ الا ما ذکیتم‘‘(مائدۃ:۳)
اور اسی طریقے سے #بلا_ضرورت_کسی_جانور_کو_قتل_کرنے_پرعنداللہ_مسؤول_ٹھہراگیا’’ما من انسان قتل عصفورا فما فوقھا بغیر حقھا الا سالہ اللہ عنہ.......‘‘(نسائی:۴۲۷۴
اور ان کے ساتھ بہتری کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے ذبح کے وقت آسان سے آسان طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیا:’’ان اللہ کتب الاحسان علی کل شیئی فاذا قتلتم فاحسنواالقتلۃ واذا ذبحتم فاحسنوالذبح ولیحد احدکم شفرتہ ولیرح ذبیحتہ‘‘(صحیح مسلم:۳۶۱۵)
ساتھ ہی اسے برا بھلا کہنے اور لعنت و ملامت کرنے سے بھی منع کیا گیا :’’لا تسبن احدا قال فما سببت بعدہ حرا ولا عبدا ولا بعیرا ولا شاۃ....‘‘(ابوداؤد:۴۰۸۴)۔
قارئین!!!
دراصل حیوانات خدا تعالی کی عظیم مخلوقات میں سے ایک ہیں،جنہیں صرف انسانوں کے لئے پیدا کیا گیا ہے (یس:۷۱۔۷۳)بلکہ قرآن کریم کا بیان ہے کہ انہیں انسانی زندگی میں باعث شرف و زینت بنایا گیا:’’والخیل والبغال والحمیر لترکبوھا وزینۃ ویخلق مالاتعلمون‘‘(نحل:۸)
اور شاید اشرف المخلوقات سے منسوب ہونا ہی اس کا وہ شرف ہے جس کی وجہ سے بارہا قرآن کریم میں ان کا ذکر کیا گیا ،یہاں تک کہ بہت سی سورتوں کو ان کی طرف منسوب کیا گیاجیسے:سورہ بقرۃ،نحل،نمل،عنکبوت ،فیل وغیرہ اور بالخصوص بقرۃ: ۶۷،۶۸،۶۹،۷۱،عمران: ۱۴،انعام:۱۴۲،نحل:۸۰، شعراء:۱۳۳،حج:۳۰ ،مؤمنون:۲۱ ،غافر: ۷۹، زخرف:۱۲ .... وغیرہ کی آیتیں جانوروں سے وابستہ کی گئیں اور انسانی افادیات کی تمام حقیقتوں کو اس طرح واضح کیا گیا:’’والانعام خلقھا لکم فیھا دفء ومنافع ومنھا تاکلون ،ولکم فیھا جمال حین تریحون وحین تسرحون ،وتحمل اثقالکم الی بلد لم تکونوا بلغیہ الا بشق الانفس .. ..‘ ‘ (نحل:۴تا۷،دیکھئے:یس:۷۱تا۷۳)،
اور یہاں تک کہ اللہ تعالی نے جانوروں شرف و فضیلت بخشتے ہوئے ان کو ایک امت تک قرار د ے دیا ہے ’’وما من دابۃ فی الارض ولا طائر یطیر بجناحیہ الا امم امثالکم ‘‘ (انعام:۳۸)
اور اسی کے پیش نظر ان کے ساتھ رحم و کرم اور ہمدردی ورواداری نیز ان کے حقوق کا تذکرہ بھی مختلف مقامات پر کیا گیا’’مامن دابۃ الا ھو آخذ بنا صیتھا .. ..‘‘(ہود:۵۶،نیز دیکھئے:عنکبوت:۶۰،طہ:۵۴،نازعات:۳۳،سجدہ:۲۷،یونس:۲۴)
تو وہیں بہت سے حیوانات کا تذکرہ ان کے نام کے ساتھ کیا گیا،ان میں بعض جانوروں کا ذکر بہت خاص انداز میں ہے ،جس سے عنداللہ ان کے مقام کا اندازہ ہوتا ہے جیسے:ہد ہد،ابابیل وغیرہ ۔(مزید تفصیل کیلئے ان آیتوں کی تفاسیر دیکھی جا سکتی ہیں)۔
قرآن و حدیث کے اسی فیضان کے صدقہ مفسرین و محدثین اور فقہاکرام نے بھی حیوانات کے حقوق کی صدا بلند کی اور قول وعمل اور اپنی قیمتی تصانیف کے ذریعہ ان کے تئیں ذمہ داریوں اور فرائض کورونما کیا ،چنانچہ فرمان الہی’’والانعام خلقھا لکم ......مالا تعلمون‘‘(نحل:۴تا۷)کی تفسیر کرتے ہو ئے فقہاء و محدثین نے درج ذیل #چار_نتائج_اخذ_کئے_ہیں:۔
۱۔انسان کا حیوانات کے ساتھ خاص اور گہرا ربط ہے’’ان الحیوان شدید الارتباط بالانسان وثیق الصلۃ بہ ،قریب الموقع منہ ،من ھنا کان علی الانسان حرمۃ وذمام‘‘(القرطبی:۱۰؍۶۹)
۲۔#موجودات_عالم میں انسانوں کے بعد سب سے اشرف حیوانات ہیں ’’ان الاشرف الاجسام الموجودۃ فی العالم السفلی [بعدالانسان]سائر الحیوانات لاختصاصھا بالقوی الشریفۃ وھی الحواس الظاھرۃ والباطنۃ والشھوۃ والغضب‘‘(الرازی:۱۹؍۲۲۷)۔
۳۔قرآن نے جانوروں کو صرف مادی پہلو سے دیکھنے کے بجائے اسے زینت و جمال کے پہلو سے بھی دیکھنے کا حکم دیا ،اور اس طرح ان کے ساتھ حسن سلوک اور حسن معاملہ کی ترغیب بھی دی،علامہ رازی ؒ نے اسکی وجہ بتلائی کہ جب جانور شام کو چراگاہ سے لوٹتے ہیں تو مالک کی اپنی ایک شان ہوتی ہے’’قال الرازی: وا علم ان وجہ التجمل بھا ان الراعی اذا روحھا بالعشی وسرحھا بالغداۃ تزینت عند ذلک.........وعظم وقعھم عندالناس بسبب کونھم مالکین لھا‘‘
قارئین_دوستو! اس لیے ہم پر فرض ہے کہ جس طریقے سے ہم انسانی ضروریات اور جملہ حقوق انسانی برادری کو پورا کرنے لیے کوشاں اور آگے رہتے ہیں اسی طریقے سے اپنے گردو نواح میں آباد جانوروں کا اپنی خداوندی سپردگی ذمہ داری کو بحسن خوبی انجام دینے میں پیچھے نہ ہٹیں۔
اسی میں ہمارے لیے دنیا کی زندگی کی حقیقت بایں معنی انسانیت، ہمدردی، غمگساری، غمخواری جملہ افراد مخلوقات ربانی کے ساتھ مضمر ہے ۔
ہو نہ خیال گر خالد حیوان بے زباں کا
تو دور جہل سے بدتر ہے انساں رواں صدی کا
(ابن رحمت)


0 تبصرے