Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

کاش! اس دنیا میں بیماریاں نہ ہوتیں

محمد ظفر نوری ازہری ✍️
کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ اس دنیا میں اگر بیماریاں نہیں ہوتیں تو کتنا اچھا ہوتا! ہر شخص صحت مند ہوتا تو نہ علاج نہ دوا نہ طبی نسخے نہ ڈاکٹر نہ ہاسپیٹل کی ضرورت پڑتی اور  نہ ہی درد و تکلیف کو  جھیلنا پڑتا! اگر ایسا ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا! آج جب کرونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا خوف و خطر کے سائے میں زندگی گزار رہی ہے اور اموات کا سلسلہ جاری ہے تو جب ہم مذکورہ بالا خیالات کا اظہار کرتے ہیں تو ایسے موقع پر  اللہ تعالی کا کلام ہماری یوں راہنمائی فرماتاہے"وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ "(سورہ بقر ۲١٦)"ہو سکتاہے کوئی چیز تم پر شاق گزرے وہ تمہارے لئیے بہتر ہو اور ہوسکتاہے کوئی چیزتمہیں اچھی لگے وہ تمہارے حق میں بری ہو"۔
یہ حقیقت ہیں کہ یہ بیماریاں ہم کو اچھی نہیں لگتی ہیں مگر یہ بھی اللہ کی نعمت ہیں آپ کہیں گے کہ ابھی تک تو صرف یہی سنا تھا کہ "صحت ہزار نعمت" "ہیتھ از ویلتھ" مگر یہ بیماری کیسے نعمت ہے تو سنو! عربی کی ایک کہاوت ہے "تعرف الاشياء باضدادھا" یعنی چیزیں اپنی ضدوں سے پہچانی جاتی ہیں اگر اندھیرا نہیں ہوتا تو روشنی کی اہمیت کا  پتہ نہیں چلتا،اگر جہالت نہ ہوتی تو علم کی کون قدر کرتا؛ اگر غربت نہ ہوتی توپھر امیری کے فائدے کو کون سمجھتا؛ اسی طرح اگر بیماری نہ ہوتی تو صحت کا مقام ومرتبہ کیسے پتا چلتا اس لئیے بیماری بھی اللہ کی نعمت اور صحت بھی اللہ کی نعمت ہے۔
یہ بیماری اس طرح نعمت ہے کہ یہ انسان کے جذبہ شکر کو  بڑھا دیتی ہے ویسے دیکھا جائے تو یہ انسان بڑا نا شکرا  ہے اس کی  ہمیشہ کوئی نہ کوئی شکایت رہتی ہے کبھی یہ شکایت رہتی ہے اور کبھی وہ شکایت رہتی ہے جیسے کہ اگر من چاہی جاب اور نوکری نہیں ملی تو شکایت کرتا ہے اور  کبھی شادی کو لیکر تو کبھی بچوں کو لیکر شکایتیں کرتے رہتا ہے اورانسان کے پاس ہمیشہ شکایتوں کا ڈھیر لگا رہتاہے مگر جیسے ہی اسے کوئی بیماری دھر دبوچتی ہے اور پکڑ لیتی ہے تو پھر یہ انسان وہ سب شکایتیں بھول جاتاہے اوراسے بس یہی لگتاہے کسی طرح اس بیماری سے چھٹکارا مل جائے کیونکہ بیماری کی حالت میں دنیا کے تمام عیش آرام کے سازو سامان اسے ہیچ نظر آنے لگتے ہیں پھر تو حالت ایسی ہوجاتی ہے کہ اگر وہ بیماری کی حالت میں اپنی لاکھوں کی گاڑی میں گھوم رہاہو اور سڑک پر کوئی ٹھیلا یا چائے والا نظر آئے تو اسے ایسا لگتاہے کہ مجھ سے بہتر تو یہ ٹھیلا یا چائے والا ہے جس کو  کو ئی بیماری نہیں ہے ۔ بہر حال بیماری انسان کو شکر کرنے والا بنادیتی ہے اور بیمار کی وجہ سے گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں
جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
۱- "ما من مسلم يصيبه أذى، مرض فما سواه، إلا حط الله له سيئاته، كما تحط الشجرة ورقها"ترجمہ :اگر کسی مسلمان کو کوئی تکلیف پہونچے اور وہ بیمار ہوجائے تو اللہ تعالی اس کے گناہ اس طرح جھاڑا دیتاہے جس طرح درخت سے پتے جھڑتے ہیں"(بخاری؛ مسلم)
اور بخار کے تعلق سے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ:
۲-" لا تسبي الحمى فإنها تذهب خطايا بني آدم كما يذهب الكير خبث الحديد "
ترجمہ:"بخار کو برا مت کہو یہ آدمی کی خطاؤں کو اس طرح صاف کردیتا ہے جس طرح آگ کی بھٹی زنگ آلود  لوہے کو صاف کر دیتی ہے"  (مسلم)
ان دونوں احادیث کریمہ سے پتا چلا کہ بیماری بھی اللہ کی نعمت ہے۔
 اور یہ بھی یاد رکھیں اگر بیماری نعمت ہے تو صحت اس سے بڑی نعمت ہے اگر ہم قرآن کی تعلیمات پر عمل کریں تو ہم اپنے آپ کو اور اپنے معاشرے کو بیماریوں سے بچاسکتے ہیں اگر ہم قرآن کی صرف ان دو ہدایتوں پر عمل کرلیں:
۱- قرآن نے ہمیں صفائی ستھرائی کا سختی کے ساتھ حکم دیا ہے بدن کی صفائی کے تعلق سے قرآن نے کہا "وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا" (سورہ مائدہ ٦) "اگر تم ناپاک ہو جاؤ تو پاکی حاصل کرو" اور کپڑوں کی صفائی کے تعلق سے قرآن نے کہا"وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ" (سورہ مدثر4) "اپنے کپڑوں کو صاف ستھرا رکھیں"اور ایک جگہ اللہ تعالی  نے صاف صفائی سے رہنے والوں کے ساتھ اس طرح محبت کا اظہار فرمایا کہ جس سے صفائی کا مقام و مرتبہ اظہر من الشمس ہوجاتاہے ارشاد باری تعالی ہے "إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ" (سورہ بقر222) "بے شک اللہ توبہ کرنے والوں سے اور صاف صفائی سے رہنے والوں سے محبت فرماتاہے"
 ان آیات قرآنیہ میں صفائی سے رہنے کا حکم دیا گیا ہے جب ہم صفائی سے رہیں گے تو ان شاء اللہ تعالی  بہت سی بیماریوں سے بچ جائیں گے۔
۲- دوسری چیز جو قرآن نے ہمیں بتائی ہے وہ بھی بہت اہم ہے اگر یوں کہہ دیا جائے کی اللہ تعالی  نے پوری میڈیکل سائنس کو اسی ایک آیت میں بیان فرمادیا ہے تو بجا ہوگا ارشاد باری تعالی ہے "وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ " (سورہ اعراف31) "کھاؤ پیو لیکن برباد مت کرو"یعنی زیادہ کھا کر نہ کھانا برباد کرو اور نہ اپنے جسم کو برباد کرو زیادہ کھانے سے آدمی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتاہے. اور یہ بھی قرآن نے ہمیں بتایا کہ کھانا کن چیزوں کو ہے اللہ کا فرمان عالیشان ہے"وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ"(سورہ اعراف ١٥۷) "اللہ نے پاک چیزوں کو حلال کیا ہے اور بری چیزوں کو حرام کیا ہے" اگر ہم حلال چیزوں کو کھائیں گےتو بہت سی بیماریوں سے بچ جائیں گےصحت وتندرستی کے ساتھ رہیں گے اور ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ارشاد عالیشان ہے"اغتنم صحتك قبل سقمك"یعنی اس صحت کو بیماری سے پہلے غنیمت جانو(ترمزی)
    مذکورہ بالا  باتوں سے دو چیزیں سمجھ میں آئیں کہ بیماری اللہ کی نعمت ہے اور صحت اس سے بڑی نعمت ہے اور کس طرح ہم اپنے آپ کو اور اپنے معاشرے کو بیماریوں سے بچا سکتے ہیں آج کے لئیے اتنا ہی کافی ہے  ان شاء اللہ تعالی  کل ہم آپ کو وبائی بیماریوں کے بارے میں بتائیں گے اس لیے ہم سے جڑے  رہیں اپنا خیال رکھیں لوک ڈاؤن کا پالن کریں ۔۔۔اللہ حافظ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Comments