نتیجہ فکر: عبدالمبین فیضی
بزم سجتی ہے جہاں سرکار کی
ہوتی ہے بارش وہاں انوار کی
ہے یہی خواہش دل بیمار کی
دیکھ لے تربت شہ ابرار کی
باعثِ تخلیقِ کل سنسار کی
"آئیے باتیں کریں سرکار کی"
ساری خلقت میں نہیں کوئی مثال
مصطفیٰ کے وَالضُّحیٰ رخسار کی
کہہ دیا ہے انبیاء نے اِذْھَبُوْا
ہے ضرورت سب کو اب سرکار کی
چھوڑیے شمس و قمر کے تذکرے
بات کیجے حسن روئے یار کی
جب ترے ٹکڑوں پہ پلتے ہیں شہا!
چھڑکیاں کیوں کھائیں ہم اغیار کی
مجھ کو تاج سر بنانے کے لئے
ہے ضرورت نعل پاک یار کی
انبیاء تو لاکھوں آۓ ہیں مگر
شان ہے سب سے جدا سرکار کی
عائشہ نے خُلْقُہُ قرآں کہا
دیکھ کر سیرت شہِ ابرار کی
ماہ و خور کی روشنی سے ہے فزوں
خاک، آقا آپ کی پیزار کی
چاہتا ہے کل جہاں رب کی رضا
چاہتا ہے رب رضا سرکار کی
سورۂ تبت یدا میں دیکھ لو
کیا سزا ہے یار کے غدار کی
اپنی آنکھوں سے پلا دیں جام عشق
بس یہی خواہش ہےمجھ میخوارکی
ٹوٹ جائے چرخ بھی مثلِ قمر
گر اجازت ہو اسے سرکار کی
از پئے قطعِ نژادِ نجدیت
پھر ضرورت ہے رضا کے وار کی
آپ جو کردیں کرم اے شاہ دیں
شاعری میری بھی ہو معیار کی
روز محشر لاج رکھ لینا حضور
فیضؔیٔ خستہ جگر لاچار کی


0 تبصرے