Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام؟؟


کورونا لاک ڈاؤن میں جہاں پورا ملک اپنے ہی گھروں میں قیدی کی مانند زندگی گزارنے پر مجبور ہے؛ غریب بھوک سے مر رہا ہے مگر گھر سے باہر نکلنا نہیں چاہتا اس کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں پہلی وجہ تو کہ اچانک لاک ڈاؤن ہونے کے باوجود انتظامیہ ازحد سخت ہے اور فورا لاٹھی ڈنڈوں سے آؤ بھگت کرنے کو تیار۔ دوسری اور سب اہم وجہ یہ ہے کہ وہ غریب جانتا ہے کہ اگر وہ گھر سے باہر نکلا تو صرف اسی کی زندگی خطرے میں نہیں آئے گی بلکہ اسی سماج کے دوسرے لوگ بھی اس سے متاثر ہوسکتے ہیں یہی اس لیے وہ خود بھوکے مرنا پسند کرتا ہے مگر اسے یہ گوارا نہیں کہ اس کی وجہ سے بے شمار لوگوں کی موت ہو۔ مگر باوجودیکہ بہت ساری جگہوں سے یہ بات سننے اور دیکھنے میں آرہی ہے کہ وہاں کثیر تعداد میں لوگ اکٹھے ہوئے۔ ظاہر سی بات ہے کہ دفعہ 144 لگنے کے باوجود لوگوں کا اکٹھا ہونا غیرقانونی ہے، اور یہ صرف قانونا جرم نہیں بلکہ اخلاقا بھی نا قابل معافی ہے۔ اس طرح کے درجنوں واقعات سامنے آئے جہاں لاک ڈاؤن کی دھجیاں اڑا کر لوگ گھروں سے نہ صرف باہر نکلے بلکہ کسی ایک جگہ سیکڑوں کی تعداد میں جمع ہوکر کورونا پھیلانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اب وہ چاہے جنتا کرفیو کی شام 5 بجے لوگوں کا کثیر تعداد میں گھروں سے باہر نکال کر تالی،تھالی ریلی ہو یا 24 تاریخ کو دہلی میں تین سو سے زائد افراد پر مشتمل پارلیمانی حلقہ ہو یا ایودھیا میں رام للا مورتی کے نصب کرتے وقت سیکڑوں لوگوں کا ہجوم، یا پھر چاہے ملک کے کئی جگہوں میں رام نومی کی ریلی وغیرہ وغیرہ۔ ان سبھی جگہوں پر نظام قانون کو جوتیوں کی نوک تلے دبوچا گیا۔ مگر ملک کی میڈیا کے بھی کیا کہنے؟ اسے غریبوں کی لاچاری نظر نہیں آتی، اسے بھوک کی وجہ سے ہورہی خودکشیاں نظر نہیں آتی، اسے یہ سب بے جا ریلیاں نظر نہیں آتی، اسے بس کچھ نظر آتا ہے تو ٹوپی،کرتا،داڑھی والے مسلمان نظر آتے ہیں جو وزیراعظم اور انتظامیہ کے فرمان پہ عمل کرتے ہوئے ایک جگہ رکے رہ جاتے ہیں، ادھر ادھر بھٹک کر دوسرے لوگوں کو کورونا سے متأثر نہیں کرتے ہیں۔ اور میڈیا کی دورخی اور بکاؤں ہونا تو اس وقت پوری دنیا نے اپنے نگاہوں سے دیکھا جب وہ یہ الزام لگا رہی تھی ان مرکز والوں نے ہی ملک میں کورونا پھیلایا ہے۔ حد ہوگئی یار! ملک میں لاک ڈاؤن کا اعلان ٢٣ تاریخ کو ہوتا ہے، جنتا کرفیو 22 کو لگائی جاتی ہے اور اس سے پہلے کسی کو کہیں آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں لگائی جاتی ہے، اور مرکز والے اپنے گھروں کو جنتا کرفیو سے پہلے پہلے لوٹ جاتے ہیں اس کے بعد جنتا کرفیو، دہلی لاک ڈاؤن اور پھر انڈیا لاک ڈاؤن ہوتا ہے۔ پھر بدنام ان مرکز والوں کو کیا جاتا ہے اور ان کے کندھے پر بندوق رکھ کے پوری ملت اسلامیہ کو بدنام کرنے کی مذموم سازش شروع ہوجاتی ہے۔ ہاں اگر وہ لوگ مدھیہ پردیش میں سرکار بناکر حلف لینے والے بی۔جے۔پی۔ کے لیڈروں، ملک کے تالی،تھالی والے اندھے مقلدین اور رام نومی جلوس نکالنے والوں کی طرح ٢٤ تاریخ کے بعد مرکز سے باہر نکلتے تو ان کی سراسر غلطی تھی۔ مگر ملک کی اکثریتی میڈیا جو کہ بکاؤں ہوچکی ہے اس نے حکومت وقت کی لاک ڈاؤن میں ناکامی کو چھپانے کے لیے پورا کا پورا الزام تبلیغی جماعت کے بہانے مسلمانوں پر لگا دیا جو اس کی پرانی عادت اور ٹی۔آر۔پی۔ حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہے جب کہ اسے ان لوگوں کے کرتوت دکھانے چاہیئے تھے جن لوگوں نے نظام قانون کو جوتیوں تلے روندا تھا۔ مگر افسوس اس نے ایسا نہ کیا۔ سچ ہے
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
لوگ قتل سرعام کریں، چرچا نہیں ہوتا

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Comments