Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

میڈیائی پروپیگنڈہ ملک کی جڑیں کھوکھلی کردے گا

تحریر:عبدالرشید مصباحی
بانی:نوری ایجوکیشنل،دھانے پور، گونڈہ

میڈیا چینلس واقعتاموجودہ وقت میں بہت بڑا وائرس بن چکے ہیں, یہ وائرس اتنا خطرناک ہو چکا ہے جو انسانی آبادی کے ساتھ ساتھ ہندوستانی جمہوریہ کی بنیادیں ہلاکر رکھ دیگا,ان کے کالے کرتوتوں سے نفرت کا ایسا بازار گرم ہورہا ہے کہ کرونا سے زیادہ انسانی جانوں کا دشمن یہی میڈیا وائرس بن چکا ہے
  آج تک کا ایک ویڈیو ( جو کہ فیس بک لائیو بھی چلا گیا ہے اور یوٹیوب پر موجود ہے)  ابھی دیکھا جس میں  شویتا سنگھ جو کہ ہندوستان کی ایک معروف ومشہور اینکر ہیں اور پاپولر ہیں پر ایسے اینکروں کے کردار نے ہندوستانی میڈیا کو عالمی میڈیا میں شرمسار کر دیا ہے.کچھ ٹک ٹاک ویڈیوز اور ایک دو معمولی واقعات کو بنیاد بنا کر مذہب اسلام بالخصوص ہندوستانی مسلمانوں پر حکومتی فرمان کے بائیکاٹ کا الزام لگا رہی ہیں.اور پورے ملک میں مسلمانو ں کے خلاف نفرت کی مسموم ہو اچلا رہی ہیں
   ان گودی میڈیا کے نزدیک کرونا کے خلاف جنگ صرف مسلمانوں کے خلاف زہر اگل کر ہی جیتا جا سکتا ہے اس لئے وہ کوئ بھی ہتھ کنڈہ ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتی.کچھ ٹک ٹاک ویڈیوز کو بنیاد بنا کر یہ کہ دینا کہ "مسلمانوں کے نزدیک اسلام سوشل ڈیسٹینسنگ کی اجازت نہیں دیتا ہے , اس لئے مسلمان حکومتی فرمان کا بائیکاٹ کر رہے ہیں " یہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش ہے
اس لئے اب مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سازش کو ناکام بنائیں.اور ان چاٹو کار صحافیوں سے پوچھیں
 کہ اسلام کا کون سافتوی سوشل ڈیسٹینسینگ یعنی سماجی دوری کے خلاف ہے ؟ 
یا مسلمانو کے کس لیڈر یا عالم نے حکومتی فرمان کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے؟
یہی نہیں انھیں چاٹو کار وں نے وزیر داخلہ کو بھی یہ باور کرادیا ہے کہ مسلمان ہی کرونا کے پھیلنے کا سبب ہیں اور اسلام میں سماجک دوری درست نہیں ہے اسی لئے وہ حکومتی فرمان "سماجک دوری" کو پس پشت ڈال رہے ہیں اور اس پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔
تاکہ بدنام زمانہ وزیر داخلہ مسلمانوں کے خلاف کوئ بڑا ایکشن لے سکیں جس میں انھیں مہارت تامہ حاصل ہے.اب ظاہر سی بات ہے یہی میڈیا جو مسلمانو ں کے معاملہ میں تل کا تاڑ بنانے میں امتیازی شان رکھتی ہے وزارت داخلہ کو رپورٹ دینے میں ضرور اس نے خیانت کی ہوگی . تاکہ حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈال کر سارا ٹھیکرا مسلمانوں پر پھوڑا جا سکے۔
جس کوشش میں اسے کسی حد تک کامیابی بھی مل رہی ہے. مسلم دشمنی و حکومتی تملق بازی میں انھیں فروری میں نمستے ٹرمپ , لاک ڈاؤن کے بعد بھی ایم پی میں شیوراج کا حلفیہ پرگرام ,یوگی جی کا ایودھیا دورہ نظر نہیں آرہا ہے
اب جبکہ میڈیااسلام اور مسلمانوں کو کرونا معاملہ  میں بدنام کرنے پر تلی ہے تو ایسے وقت میں ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم پورے ملک کو بشمول وزارت داخلہ,وزارت خارجہ, وزارت صحت,و عالمی عدالتوں کو یہ باور کرائیں کہ اس کا اصل مجرم کون ہے
        ...........میرے خیال سے ...........
جس کے لئے سب سے پہلے مسلم لیڈران ,عوامی نمائندگان,مسلم سماجی تنظیمیں,علماء تنظیمیں,تمام خانقاہوں کے سجادگان یک زبان ہوکر زور شور سے اس بات کا اعلان کریں کہ اسلام اور مسلمان حکومتی فرمان " سماجک دوری" کے خلاف نہیں ہیں اور ناہی ایسا کوئ بیان ہی جاری کیا گیا ہے اور ہم اس مہاماری  میں حکومت کے ساتھ ہیں۔
متحدہ طور پر جب کسی چیز کا اعلان عام ہوگا تو وہ مؤثر بھی ہوگا اب اس کے لئے چاہے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ہی باہمی مشاورت کا منصوبہ بنایا جائے اور ایک ہی مضمون کے اعلان کے لئے پرنٹ والیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کا بھی سہارا لیا جائے۔
           مسلمانوں کے خلاف چل رہی اس سازش کو بے نقاب کر نے کے لئے اگر ممکن ہو تو سماجک دوری پر عمل کرتے ہوئے پریس کانفرنس بھی کی جائے اور گودی میڈیا کی چال سے ملک کو واقف کرایا جائے۔
  چاٹو کاریتا کے اس دور میں NDTVکے اینکر رویش کمار ہمارے لئے مسیحا ثابت ہو سکتے ہیں, اس لئے حتی المقدور ان سے رابطہ بنا کر اپنا ایجینڈہ واضح کرنا چاہئے.اور سبھی بڑے مدارس ,تمام خانقاہیں, مسلم تنظیمیں اپنے بیانات بڑے پیمانہ پرمیڈیا سینٹر سے نشر کرانے کی کوشش کریں تاکہ ملک کے باشندوں کو گودی میڈیا کی حقیقت معلوم ہو سکے اور ہمارا اعتماد بحال ہو سکے.نیز ہندوستانی وزارت کو بھی اپنے ایجینڈے سے واقف کرانے کی جہد مسلسل وسعئ پیہم کرنا چاہئے
       ورنہ ان چاٹو کاروں نے ایسی مسموم فضا بنا دی ہے کہ ہر طرف مسلمانوں کو مشکوک نظر سے دیکھا جا رہا ہے. اور اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئ ہے کہ چلتے پھرتےمسلمانوں و مولویوں پر بالخصوص پولیس والے کرونا پھیلانے کی پھبتیاں کسنے لگے ہیں. 
  کہتے ہیں کہ لوہا لوہے کو کاٹتا ہے ,تحریر کا جواب تحریر ,تقریر کا جواب تقریر ہے.
اب ہمارے مشائخ کو کون سمجھائے کہ میڈیا کا جواب دو ورقی مضمون, اسٹیجوں کی شعلہ بیانی , اور موجودہ وقت میں فیسبک ,واٹس ایپ پر گیان بگھارنا نہیں ہے.بلکہ" جیسے کو تیسا "کے مد نظر میڈیائ پروپیگنڈہ کواسی کی  زبان میں جواب دینے کی ضرورت ہے.
  ہمیں یاد ہے کہ دہلی کی سر زمین پر جب جام نور ٹیم نے اپنا میڈیا ہاؤس کھولنے اور صحافتی میدان میں علماء کو طبع آزمائ کرنے کا منصوبہ بنایاتھا تو اس وقت جام نور کے خلاف فتوی جاری کرکے ایوارڈ حاصل کرنے والے "یہی دجل وفریب کے عادی علماء "     نے جام نور کو مسلک اعلی حضرت کا باغی کہ کر حوصلہ شکن پروپیگنڈہ کرکے سارے منصوبہ پر پانی پھیر نے کا کام کیا تھا.اور آج جب اسلام اور مسلمانو ں کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں تو ایسے وقت میں وہی نام نہاد..... ٹھیکیدار آئیسولیشن میں چلے گئے ہیں اور اس سازش کے خلاف انھیں ایک بیان تک جاری کرنے کا یا تو شعور نہیں یا پھر انھیں مذہب وملت  کی کوئ پرواہ نہیں. 
    (من لم یھتم بامور المسلمین فلیس منا (حدیث
   جسے امور مسلمین کی فکر نہیں وہ ہمارا نہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Comments