اسلامی مہینوں میں ماہ شعبان بڑی عظمتوں اور فضیلتوں کا حامل ہے یہ اپنی دامن میں بے پناہ رحمتیں اور برکتیں لیے آتا ہے چنانچہ نبی کریمﷺ نے اِس مہینے کو اپنا مہینہ قرار دیا ہے، فرماتے ہیں: شَعْبَانُ شَہْرِیْ وَرَمَضَانُ شَہْرُ اللہِ(کنز العمّال)شعبان میرا مہینہ اور رمضان اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے۔ اور اِس کے بابرکت ہونے کے لئے نبی کریمﷺکی وہ دعاء ہی کافی ہے جس میں آپ نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے اس میں برکت کی دعا مانگی ہے، چنانچہ حدیث پاک میں ہے:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رجب کا مہینہ داخل ہوتا تو نبی کریمﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اَللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی رَجَبَ، وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ (شعب الایمان) اے اللہ! رجب اور شعبان کے مہینے میں ہمیں برکت عطا فرمااور اور ہمیں (بخیر و عافیت)رمضان المبارک تک پہنچادے۔
اتنا ہی نہیں بلکہ ماہ شعبان گناہوں سے پاک کرنے کا بھی مہینہ ہے چنانچہ اِرشادِ نبوی ہے: وَشَعْبَانُ الْمُطَہِّر، وَرَمَضَانُ الْمُکَفِّرُ (ابن عساکر فی التاریخ) شعبان کا مہینہ گناہوں سے پاک کرنے والا ہے اور رمضان گناہوں کو مٹانے کا مہینہ ہے۔
نیز ماہ شعبان کو رمضان المبارک کا مقدمہ بھی بتایا جاتا ہے جو رمضان المبارک کے استقبال کے لیے اس امت کو عطا کیا گیا ہے کہ اس مہینے کے کچھ دنوں میں مسلمان روزہ رہیں تاکہ جب رمضان کا پورا مہینہ روزہ رکھنا ہوتو انہیں بار نہ محسوس یہی وجہ ہے کہ نبی کریم? خود اس مہینے کے کئی دن روزہ رکھا کرتے تھے۔
جہاں یہ ماہ اتنی عظمتوں، فضیلتوں، رحمتوں اور برکتوں کا حامل ہے وہیں اس مہینے میں عین شب برات کے دن مسلمان ایک تیہوار مناتے ہوئے حلوہ بناتے ہیں اور اسے تاجدار اقلیم محبت نادیدہ عاشق رسول سیدنا اویس قرنی علیہ الرحمۃ والرضوان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ انہوں نے عشق نبی میں اپنے دانت توڑ لیئے تھے اس لیے ہم ان کے نام پر حلوہ بناتے ہیں اور فاتحہ دلاتے ہیں۔ خیر فاتحہ دلانا ایصال ثواب کرنا کوئی بری بات نہیں۔ مگر جو واقعہ حضرت سیدنا اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟ اس میں کتنی سچائی ہے اور کس حد تک؟
حضرت خواجہ اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ نے اگر چہ بظاہر نبی کریمﷺ کی خدمت
میں حاضری نہیں دی تھی، تاہم وہ عشق نبی میں فنائیت کے مقام پر فائز تھے۔ چنانچہ آپ کے متعلق یہ واقعہ بہت مشہور ہے کہ غزوہئ احد میں جب سرکار دو عالم ﷺ کے دندان مبارک کی شہادت کی خبر ملی تو آپ نے عشق نبی میں سرشار ہوکر اپنا بھی ایک دانت توڑ دیا، پھر خیال گزرا کہ پتہ نہیں آقاے دوعالمﷺ کا کون سا دندان مبارک شہید ہوا ہے، لہذا انہوں نے اپنے سارے دانت توڑ دیئے۔ حتی کہ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اسی وقت اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کے اس عاشق کے کھانے کے لیے کیلا پیدا کیا مگر یہ بات سرے سے قابل قبول نہیں۔ البتہ دانت توڑنے کے متعلق علماے کرام کے درمیان قدرے اختلاف ہے۔
چنانچہ فقیہ اعظم ہند، خلیفہ حضورمفتی اعظم ہند،شارح بخاری،حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ یہ روایت بالکل جھوٹ ہے کہ جب حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے یہ سناغزوہ احدمیں نبی کریم ﷺکے دندان مبارک شہیدہوئے ہیں توانہوں نے اپناسب دانت توڑ ڈالا اور انہیں کھانے کے لیے کسی نے حلوہ پیش کیا۔(فتاوی شارح بخاری،جلددوم،صفحہ نمبر:۴۱۱)
حضرت علامہ مفتی محمدیونس رضااویسی لکھتے ہیں کہ یہ روایت نظرسے نہ گزری اورغالباًایسی روایت ہی نہیں ہے اگرچہ مشہوریہی ہے۔(فتاوی بریلی شریف،صفحہ نمبر:۱۰۳)
کچھ علماے اہل سنت نے اس واقعے کوتحریر فرمایاہے لیکن وہ قابل قبول نہیں ہے کیونکہ نہ تواس کی کوئی سند ہے اورنہ کوئی معتبرمآخذ،چنانچہ فیض ملت،حضرت علامہ مفتی فیض احمداویسی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ نبی کریمﷺسامنے والے دانت غزوہ احدمیں شہیدہوئے اورجب یہ خبرحضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ تک پہنچی توایک روایت کے مطابق آپ نے اپنے سامنے والے چاروں دانت نکال دیے اور کتب سیرت وتاریخ کی مشہورروایت میں کہ یہ خبرسننے پرحضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کے دانت اپنے آپ جھڑ گئے۔(فتاوی اویسیہ،جلد1،صفحہ نمبر288)
بہرحال میری اپنی راے یہ ہے کہ اگرچہ یہ روایت سنداًدرست نہیں مگر باب فضائل میں کوئی حرج نہیں۔ جبکہ عوام میں یہی مشہورہے۔کیوں کہ متن میں کوئی اضطراب نظرنہیں آتاہاں جو لوگ کہتے ہیں کہ اسلام خوداذیتی کی کب اجازت دیتاہے؟چونکہ دانت اس کی نعمت ہیں اس لیے ان کا توڑنا کفران نعمت ہے۔یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام سے ایسا کوئی فعل سرزدنہیں ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ در اصل یہ اعتراض انسانی کیفیت اوران کے احکام کی طرف توجہ نہ دینے کی بناپرپیداہوتاہے۔انسان کی دو کیفیتیں ہیں ……
حالت صحو:ہوشیاری اوربیداری کی کیفیت اس میں حواس خمسہ اور عقل مکمل طورپرکام کررہی ہوتی ہے اس حالت میں شرع کے تمام احکام اس پر لاگو ہوتے ہیں۔
حالت سکر:یہ مستی اوربے خودی کی کیفیت ہے۔اس میں انسان ازخودرفتہ ہو جاتاہے۔اسے تن بدنکا ہوش نہیں رہتاجس طرح کسی جنگ میں ایک تیر حضرت علی شیر خدارضی اللہ عنہ کے جسم میں پیوست ہو گیا۔تکلیف کی شدت کے پیش نظرتیرنکالنادشوارہوگیا۔لیکن یہی تیرنمازکی حالت میں بآسانی نکال لیا گیااورآپ نے جنبش تک نہ کی۔وجہ ظاہر ہے کہ محبوب حقیقی کی محبت میں تن بدن کاہوش نہیں رہتاتھا۔ایسی مستی کی کیفیات میں انسان مرفوع القلم ہوتاہے۔لہذااس پر حالت صحو والے احکام نافذ نہیں ہوسکتے۔
”مغلوب الحال وفانی الصفت معذورباشدایں چنیں کسے راعاصی نہ تو ان گفت“
یعنی مغلوب الحال اور فانی صفت لوگ معذورشمارہوتے ہیں ایسے شخص کوخطا کارنہیں کہاجاسکتا۔
وجہ اختلاف
امام شعرانی نے اپنی کتاب طبقات کبری میں حضرت اویس قرنی کاتذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: وقال: ”واللہ ماکسرت رباعیتہﷺ حتی کسرت رباعیتی ولاشج وجھہ حتی شج وجھی ولاوطئی ظھرہ حتی وطئی ظھری“
اقتباس بالامیں ایک لفظ ہے”کُسِرَتْ“ (مجہول موئنث کاصیغہ) بمعنی ٹوٹ گئی اوراگراسی کو ”کَسَرْتُ“ واحدمتکلم کاصیغہ پڑھا جائے تومعنی ہوگامیں اپنادانت نے توڑدیا۔شایدیہی وجہ ہے کہ لوگوں کے درمیان اختلاف پیداہوگیاکسی نے واحدمتکلم معروف کاصیغہ پڑھتے ہو ئے کہاکہ خواجہ نے اپنادانت ازخودتوڑااورجس نے واحدموئنث مجہول کاصیغہ پڑھااس نے کہاکہ نہیں،دانت خودبخودٹوٹ گئے تھے آپ نے ٹوڑے نہیں تھے۔بہر حال دانت کاٹوٹناتوثابت ہے مگرخودبخودٹوٹ گئے یاآپ نے توڑااسی میں اختلاف ہے۔
چنا چہ کتاب شرعۃالاسلام کے حوالے سے ایک واقعہ یوں منقول ہے کہ ایک بزرگ کے مریدخانقاہ کے باہرحضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی دنداں شکنی کے متعلق گفتگوکررہے تھے کچھ دیربعدبزرگ موصوف نے اپنے مریدوں کواندربلاکرفرمایا۔تم جب خواجہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں گفتگوکررہے تھے اس وقت حضرت خواجہ تشریف فرماتھے میں اس واقعہ کی آپ سے تصدیق چاہی توآپ نے فرمایامیرے دانت ہاتھ لگائے بغیر ٹوٹ گئے تھے۔مصنف کتاب علامہ محمودبن احمداس پر لکھتے ہیں کہ یہ اعجازتھا اس تعلق خاص اورعشق کامل کاجوحضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ کوحضورﷺسے تھا جب دونوں میں محبت کمال درجہ پرپہنتی ہے تومحب پر محبوب کی تمام کیفیات طاری ہوجاتی ہیں۔ایسے حالات عاشقان صادق سے اکثرظہور پذیرہوتے رہے ہیں۔


0 تبصرے