Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

شب قدر ایک ہزار مہینوں سے افضل

تحریر: محمد حسین
اللہ تبارک وتعالی کا لاکھ لاکھ  شکر واحسان ہے کہ اس نے ہمیں رمضان جیسامقدس ماہ عطا کیا اور اس میں ایک رات ایسی عطا کی جو ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے   اس رات کی  اہمیت و ٖفضیلت اللہ کے نزدیک بہت  ہی زیادہ ہے  اس  مبارک رات میں قراآن جیسی لاریب کتاب  کو نازل کیا گیا ۔ (سورہ دخان آیت 3 ) بیشک ہم نے اسے بابرکت  رات میں اتارا۔ 
رسول اللہ ﷺ نے فر مایا کہ بنی اسرائیل میں ایک  شخص تھا جس نے ایک ہزارمہینے  تک  اللہ کی راہ میں جہاد کیا صحابہ کو رشک آیا تو  اللہ نے امت محمدیہ کے لئے  یہ رات عطا کی  بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے پہلی امتوں کے عمروں کو دیکھا  کہ ان کی عمریں بہت لمبی ہو ئی ہیں اور امت محمدیہ کی عمریں کم ہوتی ہیں  اگر وہ نیک اعمال میں ان کی برابری کرنا چاہیں تو نا ممکن ہے تو اس پر آپﷺ کو رنج ہو ا تو اللہ نے اس کے بدلے میں یہ رات عطا فرمائی ۔جس میں ایک رات کی عبادت ایک ہزار مہینوں سے زیادہ ہے، اس رات میں فرشتے اور جبرئیل  اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں  ۔(سورہ القدر آیت4- 3 )  اس رات کے متعلق قرآن کریم میں ایک مکمل سورہ نازل ہوئی ہے جس کو سورہ القدر کہاجاتا ہے ۔
شب قدر: قدر کاایک معنی عظمت و شرف کے ہیں اس رات کو شب قدر کہنے کی وجہ اس رات کی عظمت وشرافت بتائی  گئی ہے قدر کے دوسرے معنی  تقدیر  اور حکم کے بھی آتے ہیں، اس لئے کہ اس رات پورے سال کے احکام کی تقدیر لکھی جاتی ہے  ۔شب قدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں ( اکیسویں، تیئسویں،پچیسویں، ستائیسویں اور اانتیسویں )میں سے ایک رات ہے  ۔  اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں ،محققین نے یہاں تک تحقیق کی ہے کہ اس رات کتے نہیں بھونکتے اور علم الاعداد کے ماہرین نے تو بہت دل چسپ بات کہی ہے کہ سورہ قدر میں لیل کا ذکر 3 مرتبہ آیا ہے جو کہ اعداد کے اعتبار سے 27 بنتے ہیں۔ یعنی شب قدر 27 ویں شب کو ہوتی ہے۔ آئمہ کرام کے بھی اس رات کے تعین میں مختلف اقوال ہیں۔ امام ابوحنیفہ ؒ فرماتے ہیں یہ رات تمام سال میں دائر رہتی ہے ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ تمام رمضان میں دائر رہتی ہے، صاحبین کا قول ہے کہ تمام رمضان کی کسی ایک رات میں ہے۔ جب کہ شافعیہ کا قول یہ ہے کہ 21 ویں شب میں ہونا اقرب ہے۔
امام احمد بن حنبل ؒ فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے جو کسی سال کسی رات میں اور کسی سال کسی اور رات میں ہوتی ہے۔ لیکن جمہور علماء کی رائے میں ستائیسویں رات میں زیادہ امید ہے۔ ہمیں شب قدر کی تلاش میں رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سعی کرنا چاہیے اس عشرہ کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے خدائے برتر سے لو لگانی چاہیے کہ وہ عفو در گزر کرنے والا ہے اور اس رات آئندہ کے لیے تجدید عہد کیا جائے کہ ہمارا کوئی لمحہ اس کی نافرمانی میں نہیں گزرے گا۔ یہ رات ہمارے رب نے بہ طور انعام ہمارے لیے مختص کی ہے، جس میں ہماری بخشش کا نجات کا مکمل سامان رکھا ہے۔
حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ جب لیلتہ القدر ہوتی ہے تو جبرئیل ملائکہ کے جھرمٹ میں اترتے ہیں اور ہر اس بندے کے لیے دعا کرتے ہیں جو اس وقت کھڑا ہوا یا بیٹھا ہوا اﷲ کا ذکر کر رہا ہو۔ (بیہقی) ظاہر ہے کہ جب ملائکہ گنا ہ گاروں بندوں کے لیے دعا کر رہے ہوں گے تو یقینا اس کی رحمت کا سمندر موج زن ہوگا جو انشاء اﷲ ہماری مغفرت کا باعث ہوگا

ایک تبصرہ شائع کریں

2 تبصرے

Yousuf Nizami نے کہا…
ماشاء اللہ بہت ہی معلوماتی مضمون ہے ۔ اللہ قلم میں زور عطا فرماۓ۔آمین
Mahboob Alam نے کہا…
ماشاءاللہ بہت عمدہ مضمون ہے

Comments