تحریر: غلام مصطفی نعیمی
تنظیم کی اہمیت و افادیت اور طاقت کا احساس ہر شخص کرتا ہے.اس کے باوجود طویل وقت سے جماعت کو ایک مؤثر تنظیم کی تلاش ہے.امت مسلمہ کا بڑا طبقہ آج بھی خانقاہوں سے وابستہ ہے اسی لیے اہل سنت کی نگاہیں خانقاہوں کی جانب ہی لگی ہوئی تھیں کہ وہیں سے کوئی شاہین صفت شہزادہ اٹھے اور جماعتی کاز کے لئے میدان عمل میں اترے، الحمد للہ اس ضرورت کا احساس کرتے سلسلہ چشتیہ کی 500 سالہ قدیم اور معروف خانقاہ، خانقاہ چشتیہ نظامیہ سرکار بندگی میاں امیٹھی شریف کے چشم وچراغ، آل حضرت عثمان غنی،خلیفہ حضور تاج الشریعہ محترم قمر غنی عثمانی المعروف حضرت ارمان میاں صاحب قادری چشتی صاحب قبلہ نے پیش قدمی کی اور تین سال قبل چند رفقا کے ہمراہ دیارِ غریب نواز، دارالخیر اجمیر معلیٰ میں تحریک فروغ اسلام کی بنیاد ڈالی. دیار غریب نواز کا صدقہ ہی تھا کہ قیام کے محض تین سال میں ہی تحریک قومی سطح پر اپنی نمائندگی درج کرانے میں کامیاب رہی ہے.
تحریک کا بنیادی مزاج اور ہدف لوگوں میں ناموس رسالت کے تئیں بیداری اور حضور سید عالم ﷺ سے بے پایاں محبت کا ماحول تیار کرنا ہے کیوں کہ آقائے دوجہاں ﷺ سے بے لوث محبت کرنا اور ان کی ناموس کو دنیا ومافیہا سے عزیز تر جاننا ہی کمال ایمان ہے. جب تک یہ جذبہ قائم رہا تمام تر مشکلات کے باوجود ہمارا قومی وقار سلامت رہا لیکن جب سے امت مسلمہ ناموس رسالت کی اہمیت بھول گئی اسی دن سے ذلت ورسوائی ہمارا مقدر ہوگئی. اس لیے عظمت رفتہ کے حصول کا واحد ذریعہ سینے میں عشق مصطفےٰﷺ کا چراغ روشن کرنا ہے. تحریک، امام اہل سنت کے اس نظریہ٬
جان ہے عشق مصطفےٰ، روز فزوں کرے خدا
کو حرز جاں سمجھتی ہے اور اسی کی تبلیغ واشاعت میں کوشاں ہے
الحمد للہ! قیام کے مختصر وقت میں ہی تحریک نے کئی اہم اور منفرد اقدامات کئے ہیں جن میں چند اہم اقدامات یہ ہیں
مسلمانوں میں تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا جذبہ بیدار کرنے کے لئے کئی شہروں کی مختلف مساجد میں ہفتہ واری جلسہ تحفظ ناموس رسالت کا انعقاد۔
مختلف شہروں میں ماہانہ سو سے زائد درس قرآن،درس حدیث اور درس فقہ کا اہتمام۔
رد بدعات و منکرات کے سلسلے میں اراکین تحریک کے عملی اقدامات.اس سلسلے میں ضلع لکھیم پور، یوپی کے ایک گاؤں ابراہیم پور سے کئ سالوں پرانی چہلم کے نام پر ہونے والی ڈانس پارٹیوں کا خاتمہ قابل ذکر ہے۔
کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد جب کشمیری مسلمان شدید مشکلات سے دوچار تھے، ہر طرف سناٹا اور خوف کا ماحول تھا اس وقت تحریک کے اراکین نے صرف احتجاج ہی نہیں کیا بلکہ تحریک کے ایک وفد نے اکتوبر 2019 کو کشمیر کے مختلف علاقوں کا دورہ کر علما و عوام سے ملاقاتیں کیں اور ان کی دلجوئی کی۔
شاتم رسول کملیش کے قتل کے الزام میں پھنساۓ گئے بے قصور نوجوانوں کے سلسلے میں ہر طرف سناٹا چھایا تھا، ان سنی نوجوانوں کا کیس وہابی تنظیم جمیعۃ العلما لے چکی تھی مگر الحمد للہ تحریک فروغِ اسلام نے اس کیس کو اپنے ہاتھ میں لیا،سپریم کورٹ کے مشہور وکیل ایڈووکیٹ محمود پراچہ تحریک کی جانب سے کیس کی پیروی کر رہے ہیں۔
بابری مسجد کیس کی تاریخ میں اب تک کسی خالص سنی تنظیم کا رول نہیں تھا، سپریم کورٹ کے غیر مصفانہ فیصلے پر ملک بھر کے نامور افراد لیپا پوتی اور فیصلے پر رضامندی کا اظہار کر رہے تھے لیکن تحریک کی جانب سے اس فیصلے کو نامنظور کرنے اعلان کیا گیا اور فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں ریویو پیٹیشن بھی داخل کی گئی۔
سی اے اے، این آر سی و این پی آر کے خلاف ملک میں سیکڑوں چھوٹی بڑی نشستوں کے انعقاد کے بعد 16 مارچ 2020 کو راجدھانی دہلی کے ہوٹل ریور ویو میں مختلف سلاسل کے علما، مشائخ، دانشوران ملت کی ایک قومی مجلس مشاورت کا انعقاد کرکے این پی آر کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا۔
دہلی فرقہ وارانہ فساد میں مختلف تنظیموں کے تعاون سے دہلی فساد متاثرین کی امداد کی گئی،جو اب تک جاری ہے۔
لاک ڈاؤن میں پریشاں حال اور غریب مسلمانوں کے لیے تقریباً 16 شاخوں سے ہزاروں راشن کٹس کی تقسیم کی گئی۔
لاک ڈاؤن میں ملک کے مختلف شہروں کے پریشان ائمہ مساجد کا مالی اور اخلاقی تعاون۔
سالہاۓ گزشتہ کی طرح اس سال بھی 46 علمائے کرام و مفتیان عظام پر مشتمل رمضان ہیلپ لائن کا اہتمام، تاکہ لوگ بآسانی مسائل شرعیہ معلوم کر سکیں۔
اسلام، پیغمبر اسلام پر حملوں، مسلمانوں پر ماب لنچنگ جیسے معاملات کے سد باب کے لئے قومی سطح پر لیگل سیل کا قیام۔
یہ صرف وہ کام ہیں جو آپ کے سامنے ہیں، اس کے علاوہ بھی تحریک بہت سے رفاہی اور دینی کاموں کو انجام دیتی ہے. لہٰذا اب ضرورت اس بات کی ہے کہ *ملت کا ہر فرد تحریک کا دست و بازو بنے تاکہ وہ دن آۓ کہ مسلمان اپنی تاریخ دہراتا ہوا نظر آۓ اور ہم غیروں کی محتاجی سے محفوظ رہ کر ملت اسلامیہ کے حقوق کی جدوجہد کر سکیں۔


0 تبصرے