Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

ہندوستان نفرتوں کی دہلیزپر قسط اول

تحریر: محمد محبوب تنویری
ہندوستان ایک کثیر المذاھب ملک ہے،یہاں کی مذہبی ثقافت کی خصوصی شناخت رہی۔ اِدھر جب سے ار،اس،اس کی سیاسی جماعت بی،جے،پی نے مسند اقتدار واضح اکثریت کےساتھ قبضہ کیا ہے۔بھگوا دھاریوں اور فرقہ پرست طاقتوں نے سماج دشمن عناصر ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی کھلم کھلا دھجیاں اڑانے میں کوئی کمی نہیں کی۔بھگوا دھاریوں نے حکومت کی پشت پناہی میں اس ملک ہندوستان کو مقتل بنانے کی ناپاک سعی کر رکھی ہے۔
اس وقت وطن عزیز سخت بحرانی دور سے گزر رہا ہے۔
*دہشت گردی، سماجی ناہمواری،بھکمری،بے روزگاری،اکثریتی طبقے کا اقلیتوں کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ،سماجی بھید بہاؤ،تعصب و تنگ نظری،لو جہاد،گھر واپسی* وغیرہ ان تمام امور نے *سونے کی چڑیا* جیسے ہمارے ملک کو اندر سے کھوکھلا اور ملک کی ہمہ جہت ترقی و خوشحالی کو ملیا میٹ کر دیاہے۔ملک کا با شعور طبقہ آج اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہے۔
ہندوستان کو یہ مذموم دن دکھانے والوں میں وہ طبقہ زیادہ سرگرم عمل ہے، جو ہندوستان کو اپنے آباء و اجداد کی جاگیر سمجھتا ہے۔ اور ملک کے پسماندہ طبقوں کے ساتھ غلاموں اور جانوروں جیسا برتاؤ کرتا ہے۔ اس مذموم فعل کی خاطر وہ قانون کی دھجیاں بھی بکھیر دیتا ہے۔۔
      آر،ایس،ایس اور سنگھ پریوار کے مقاصد اور ارادے بالکل ظاہر تھے۔ لیکن یہ توقع نہ تھی کہ وہ اپنے مذموم منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے اس قدر عجلت کا مظاہرہ کرے گی۔ اور یہ توقع بھی نہ تھی کہ 2021 تک کسی مسلم یا عیسائی کو ملک میں باقی نہ رہنے کے منصوبے کا اعلان ہوگا۔ اور قدم قدم پر مسلمانوں کو بےہودہ گوی کا نہ ٹوٹنے والا سلسلہ شروع ہوگا۔یوں تو آزادی کے بعد ہی سے مسلم اقلیت فرقہ پرستوں کے نشانے پر ہے، لیکن گذشتہ کئی سالوں میں ان کے ساتھ جو غیر منصفانہ برتاؤ ان کے حقوق کی پامالی اور سب سے بڑھ کر ان کی نسل کشی کا جو ناپاک کھیلا جارہا ہے وہ حددرجہ قابل افسوس اور تشویشناک اور انسانیت و جمہوریت کی پیشانی پر ایک بدنما داغ ہے۔
          آر،ایس،ایس کے صدر *ڈاکٹر موہن بھاگوت* ‌ ٹی،وی چینل پر مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بناتے ہیں،مسلمانوں اور عیسائیوں کو چوری کیاگیا مال قرار دیتے ہیں، تو کہیں *شاکشی مہاراج* ہمارے دینی اداروں کے خلاف زہر رسائی کرتے نظر آتے ہیں، کہیں پر *آر،ایس،ایس اور ان کی تنظیموں کے ذریعہ* ایمان و عقیدہ کو بدلنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے،
کہی پر ہمارے عبادت خانوں میں خنزیر چھوڑے جا رہے ہیں*  ۔ اور ہمارے ملک کا وزیراعظم *اندھا،گونگا اور بہرہ* ہونے کا ثبوت دے رہا ہے۔یوں تو اس وقت ملکی و عالمی سطح پر شاید ہی کوئی ایسا ظلم ہوگا جو مسلمانوں پر نہ ڈھایا جا رہا ہوں،پہلے اجتماعی طریقہ سے مسلمانوں پر حملہ کیا جاتا تھا، اور فرقہ وارانہ فساد کی شکل میں ان کا قتل عام کیا جاتا تھا۔ اور *مآب لینچینگ،ان،آر،سی،سی،اے،اے* کی شکل  ظاہر ہوئی ہے۔ *مآب لینچینگ ان،آر،سی سی،اے،اے* اس وقت ہندوستان کا سب سے سنگین اور حساس مسئلہ بن گیا ہے۔ جس نے پرامن شہریوں پر خوف و ہراس کا ماحول طاری کردیا ہے۔ *ان،آر،سی  سی،اے،اے* کے نام پر جس طریقے سے ہندوستانی مسلمانوں پر ظلم و تشدد کیا جارہا ہے،اس کے ذریعے ہندوستانی مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کی ناپاک سعی کی جارہی ہے۔ ان،آر،سی کا قانون نافذ کرکے ہندوستان میں وہ ماحول پیدا کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے  ملک کا ہر مسلم خوف و دہشت کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ان سے پرانے دستاویز طلب کر رہے ہیں، وہ ہندی مسلمان جس کے پاس رہنے کے لیے *مکان* نہیں،کھانے کے لئے *غذا* نہیں،پہننے کے لئے کپڑا نہیں، اس کے پاس اس دستاویز کی کیا حیثیت ہوگی؟۔     سی،اے،اےکے قانون سے  صرف مسلمانوں کو ہی نشانہ بنایا جانا اس کا واضح مقصد مسلمانوں پر ظلم و تشدد کرنا ہے۔۔
   *سب کا ساتھ،سب کا وکاس* کہنے والے وزیر اعظم مودی نے ہندوتوا  کے علمبرداروں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے،جیسے چاہیں انسانیت کا قتل کریں اور یہی ہو بھی رہا ہے۔اجتماعی مظاہروں میں یہ قضیہ سامنے آیا کہ آر،ایس،ایس کے گنڈے مظاہرین کے ساتھ مل کر توڑ پھوڑ کرتے ہیں،اور اس کی بھرپائی مسلمانوں کو کرنا پڑتا ہے۔  
*مآب لینچینگ* ہندوستان ایک اہم مسئلہ ہے۔ جس کے ذریعے مسلمانوں کو انتہائی ظالمانہ طور پر قتل کیا جا رہا ہے،ایسے واقعات کے متاثرین میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، *ماضی قریب کا واقعہ جھارکھنڈ میں تبریز انصاری کا ہے ،جو انتہائی ظالمانہ قتل ہے کسی اکیلے ایک شخص کو باندھکر 17 گھنٹہ بھیڑ کے ذریعے مار دینا انتہائی شرمناک ہے، جس کی گونج  سارے ملک سے لیکر پارلیمنٹ تک اور پوری دنیا میں پھیل گئی، امریکی حکومت نے رپورٹ شایع کی اور کہا "ہندوستان میں اقلیتوں مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے"* افسوس کہ ہمارے ملک کے وزیراعظم کو اس کا احساس تک نہیں مجرموں کو پکڑنے اور سزا دینے کے بجائے انہیں اس باتکا غم ہے کہ جہارکھنڈ کوبدنام کیا جارہا ہے یہ ان کی سفاکی کا منھ بولتا ثبو ت ہے، جو انکی گھٹی میں  پلایا گیا ہے۔ آر،ایس،ایس کا وہ پروردہ ہے۔ اسی راہ پر گامزن ہے یہ ملک کے لیے انتہائی شرمناک اور  المیہ ہے۔۔۔
               بظاہر مودی کا کسی پر کوئی کنٹرول نہیں،لیکِن جو کچھ بھی ہو رہا ہے،وہ آر،ایس،ایس کی مرضی کے مطابق ہورہا ہے۔ اور مودی کے نزدیک آر،یس،ایس کے ایجنڈہ پر عمل کرنا ہے سب کچھ ہے۔ *ابھی حالیہ 18 جنوری 2020 کو آر ایس ایس کے سربراہ نے بیان جاری کیا کہ ان،آر۔سی نافذ ہو کر ہی رہے گا، اس میں کوئی ترمیم نہیں ہوگی۔ اس کے بعد جو اگلا منصوبہ ہوگا،وہ یہ کہ ہندوستان کا ہر فرد دو سے زائد بچہ پیدا نہ کرے۔* موہن بھاگوت نے کہا کہ  حکومت کو اس پر عمل کرنا ہی ہوگا۔ اس نکتے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی کی سرپرستی آر،اس،اس کر رہی ہے۔ آر ایس ایس کا ایجنڈا یہی ہے کہ اس ملک کو ہندو راشٹر بنایا جائے۔
          *بیف کے مسئلہ پر دہلی کے دادری میں جارحانہ فرقہ پرستی کے جو واردات انجام دی گئی ہے وہ انسانیت کو شرم شار کردینے کے لیے کافی ہے۔* پورے عالم میں ہندوستان کی ہنسی اڑائی جارہی ہے مگر افسوس اس سے *وزیراعظم* کو کیا فرق پڑے گا جو امن و آشتی کے دشمن ہیں۔جس کا صرف واحد مقصد *ہندوراشٹربنانا* ہے۔اگرچہ ہندوستان مقتل بن جائے۔ آئے دن ملک میں رونما ہونے والے حالات اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آر ایس ایس اور جن سنگھیوں  کی یہ مسلم دشمنی ملک کو فرقہ پرستی اور نسل کشی کی طرف لے جارہی ہے۔۔۔۔
جاری

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Comments