تحریر: ڈاکٹر محمد ساجد احمد
اس دنیاے رنگ وبو میں بے شمار ادیان ومذاہب کے درمیان ہم جس دین کے پیرو کار ومتبع ہیں اس دین کا نام”اسلام“ہے ،غلبہ والا دین ہے ،یہی وجہ ہے کہ جب چھٹی صدی عیسوی میں نبی آخر ﷺاس کے حامی وناصر بن کر تشریف لاے ،دیکھتے ہی دیکھتے اس دین نےپوری دنیا میں اپنی شناخت قائم کر لی جس کے اسباب وعلل پر غور کریں تو سمجھ میںآنا کوئی مشکل کام نہیں کیوں ،جہاں ظلم واستبداد اپنے پاوں جما چکا تھا ،حقوق کی پامالی کو اپنا معیار بنایا جارہا تھا وہیں پر اسلام ظلم کے خلاف ”امن “،”چین وسکون “ اور حقوق دہی کی بات کرتا تھا ۔باتیں تو سب کو اچھی اور بھلی معلوم ہوتی تھیں لیکن سوال یہ تھا کہ ان اصول و ضوابط کاانفاذ کیوں کر ممکن ہوسکتا ہے جب تخت حکومت کا علم بردار ماں بہن بیٹیوں کی عزت وعصمت لٹنے سے بے پرواہ ہے ،معصوم جانوں کا نذرانہ پیش کرنا اپنے معاشرہ کا اصول سمجھتا ہے اسی لیے بچیوں کو دفن کرنے کا رواج عام ہوچکا تھا ،داعی اعظم ﷺ کی دعوت کا بظاہر وہ اثر جو مدینہ طیبہ میں سے شروع ہوامکہ میں نہ نظر نہ آسکا ۔
اصحاب سیر نے لکھا ہےکسی بھی بات کے موثر ہونے میں حکوت واقتدار کو بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے ،آپ دیکھ سکتے ہیں جب مکی زندگی میں حضورﷺتھے تب اسلام کی رفتار اتنی تیز نہ ہو سکی جتنی کہ مدنی زندگی میں تھی یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ عدم اقتدار نے بظاہر اعلانات و بیانات نبوی کو موثر نہ ہونے دیا جب کہ پورا وادی عرب آپ کو منصف صادق ومصدوق ،امین مانتا تھا ،بلاشبہ مورخین کی اس بات اتفاق میں حرج نہیں ،کہ حکومت واقتدار کی اہمیت وافادیت سے بھلا کس کو انکار ہے شہر اناطولیا میں ایک قوم بستی تھی جس کو ”قائی قوم “کہاجاتا ہے ،اس قوم کے اوصاف نظام اسلام ،شریعت محمدی ،اخلاق حسنہ ،اسوہ حسنہ ،عقاید ونظریات اسلام سے مزین تھے ، ظلم واستبداد نے اس قوم کو برداشت نہ کرکے شہر بدر کردیا اب یہ قوم مقیم نہیں مسافر تھی ،جنگلات وسنگلاخ وادیں میں اپنی زندگی گزارنے لگی ،کبھی خشکی ،کبھی تری ،بری وبحری اقامت گاہوں سےگزرتے لیکن نظام سے سمجھوتا نہیں !اور نہ ہی اپنی قوم کی عزت وعصمت کو داوں پر لگنے دیتے ،اس کے تحفظ وبقا کے لیے آخری سانس تک جنگ کو اپنی سرفرازی تصور کرتے تھے ،اسی جذبہ وجنون نے اسلام مخالف طاقتوں کا جینا حرام کردیا تھا۔شہر حلب کے پاس ہی صلیبیوں کا عالمی مرکز تھا جس میں صلیبی دنیا کے خودساختہ محافظ بیت المقدس اسلام کے خلاف سازشیں کرتے تھے ،جب صلیبیوں کو معلوم ہوچلا کہ وہ جنونی قوم ہمارے محل کے قریب آکر بسنے کو ہے ،شاہ حلب کو کئی طرح سے ورغلا کر اجازت کو مسترد کردیا ،لیکن اس قوم کے سرداروں نے اجازت سابقہ کو ہی قبول کرکے اس زمین پر خیمہ زن ہوے جو صلیبی مرکزکے سر پر تھا تو دوسری طرف سفاک قوم منگول کی راہ گزر،قوم قائی جاں باز،بلند حوصلہ،شمشیر بکف ،صف آرا قوم تھی اس قوم کا نصب العین عشق نبوی کی روشنی میں ”پوری دنیا میں اسلامی نظام کو قائم کرنا “۔ایک بار پھر پڑھیے اس جملے کو ،کیا دور جدید کے لحاظ سے یہ حماقت سے تعبیر نہیں کی جاےگی کہ چند لوگ جس کے رہنے کو اپنی زمین نہیں ،ایک خانہ بدوش کے چند جنونی لوگ مل کر نفاذ اسلام اور اقتدار کی باتیں کرتے ہیں ،اب اس دور جدید کے نظریہ کا تجزیہ کیجیے تو نتیجہ حاصل ہوگا کہ اگر ارادے مضبوط ہوں تونصرت ایزدی کی تائید حاصل ہوتی ہے ،اسی قوم میں میں ایک نوجوان شہزادہ غیرت وحمیت کی سانسیں لیتا ہوا ،پہاڑیوں پر جنگی مشق کیا ،تلوار کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا ، وہ تلوار ظلم واستبداد کے خلاف قہر بن کر اٹھتی تھی ،مظلوموں کی حمایت وحفاظت کی سرفرازی اس نیام کو حاصل تھی ،اس تلوار کا محافظ نہ تو کسی وفادار اور شریف وعفیف کی صیانت سے چوکتا تھا اور نہ ہی غدار ودشمن کا سر تن سے جدا کرنے میں کوئی دریغ کرتا ،جب بھی بات کرتا تو انصاف ،عدل مساوات اور شرافت و انسانیت کے تقدسات کے حفاظت کی ،جب کسی کو قیدی بناتا تو ایسا سلوک کرتا کہ اس سلوک سے متاثر ہوکر قیدی اس کے دین کو بے چوں چرا قبول کرلیتے پھر تو چاہے زندان ملے یا معصوموں کی خون سے لت پت صلیبی تلوار کی دھار ،اس نوجون کے ساتھیوں نے ایک مرتبہ ایک قیدی پر جھپٹ لگائی تو وہ بہادر وجاں باز پوری سنجیدگی ومتانت سے وا بلب ہوا ”ٹھہرو!غصہ میں بھی ہمارے اور شیطان کے درمیان فرق ہونا چاہیے “۔جب بھی اٹھتا تو یقین محکم کی تعبیر دکھتا تھا ،صحراؤں اور بیابانوں کے نشیب و فراز کی ہمیشہ اپنے مرکب کی دھول سے ملاقات کراتا ،بزرگوں کی عزت وعصمت پر جان دیتا تھا ،ایمان ایسا مضبوط کی ہزاروں کی لشکر میں تن تنہا خیمہ سے نکل کر پیٹھ پیچھے وار کرنے والےصلیبی گیدڑ وں راستے کو اڑتی ہوئی گرد سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا ،اس کا بھروسہ ،اس کا ایمان ،ایقان ،اعتماد صرف اسی ذات پر تھا جس نے ذات نے پوری دنیا کو وجود بخشا ہے ،جب اس قوم پر صلیبی قوتوں نے یلغار کرنا چاہا تب اس مجاہد دوراں نے کمان سنبھالی ،تلوار کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لہراتا ہوا،۱۲؍ویں صدی کے دارلندوۃ کو نیست ناود کرنے کے نکل پڑا ،چلتے چلتے قبیلے ،دوست واحباب اور والدین سے کہہ گیا کہ ”اس وقت تک مجھ پر نیند حرام ہے جب تک میں اس قلعہ کو فتح نہیں کر لیتا “اپنے دو چند جاں بازوں کو اپنے ہم راہ لیا اور منزل کی طرف رواں ہوگیا ،صلیبی سازش گاہ کو پہنچ کر للکار رہاتھا ”تم پر لازم ہے کہ تم اس قلعہ کوخالی کردو! ہم تمہارے جان مال اور عزت وآبرو کی حفاظت کے ساتھ تمہارے وطن پہنچانے کے ضامن ہوں گے “براہ دیگر یہ پکے ہوے سر اپنی ٹہنیوں سے جدا ہوکر ابد الاباد تمہارے ارادوں کی تاریکیوں کی تاریخ بن جاے گی ۔آخر کار صلیبی سفاک اپنی سفاکیت سے باز نہ آے اور خون بہانے پر آمادہ ہوگیے ،وہ دیکھتے تھے کہ یہ چند لوگ لوگ کیا کرپائیں گے ؟لیکن وہ اپنے راہبوں کی بات”یہ قوم مسلم ہے اس کے پاک ایک چیز اتنی نشہ آور ہے کہ اس نشہ کے سامنے دنیا کے سارے نشے ہیچ ہیں ، وہ نشہ ہے ”ایمان““ سنتے تو ایک شہزادہ اسلام سے بھی آنکھیں ملانے جرأت نہ کرتے ۔گر غیرت مسلم زندہ ہے۔تو پھر انقلاب آے گا۔
آج کا خصوصی اداریہ ڈاکٹر محمد ساجد احمد صاحب کی تحریر ہے۔


0 تبصرے