Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

مسلمانوں کا اسلام سے عملی اور فکری تعلق

تحریر: فیاض احمد برکاتی مصباحی
ہم نے خود بھی دیکھا اور اپنے بزرگوں سے بھی سنا کہ کچھ سالوں پہلے تک  ہمارے ملک میں اشراف لوگ جانوروں کا ریوڑ پالتے تھے ، اسے چرانے کے لیے چراگاہیں بھی ہوتی تھیں جس میں چرواہے اپنے اپنے جانور چراتے ، بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ کسی چراگاہ میں تمام چرواہے اپنے جانوروں کے ریوڑ چھوڑ کر کھیل کود میں مصروف ہوجاتے ۔ اگر چراگاہ کے قریب ہی کوئ فصل لہلہا رہی ہوتی تو سارے چرواہے چوکنا رہتے ، جیسے ہی کوئ جانور منہ اٹھائے کھیت کی طرف بڑھتاکہ جس چرواہے کا جانور ہوتا وہ اسے زور سے آواز دیتا ، جانور بھی عجب عضب کے ہوتے تھے اپنے چرواہے کے علاوہ کسی کی نہیں سنتے ، اس لیے  جس چرواہے کی ذمہ داری میں جانور ہوتاوہی آواز دیتا جسے سن کر جانور فصل لگی کھیت کی طرف نہ جاکر واپس ریوڑ میں پلٹ آتا، کوئ جانور ڈھیٹ قسم کا ہوتا تو چراوہا " ہے اے اخ " کی آواز کے ساتھ اپناڈنڈا سنبھالے دوڑتا اور کھیت میں پہونچنے سے پہلے ہی اس جانور کی خاطرومدارت کرکے اسے جانوروں میں شامل کردیتا ، کبھی کبھی سارے چرواہے اپنے دھن میں مگن ہوجاتے تو کوئ "بے بوجھ جانور" کھیت چٹ کرجاتا۔ اگر کسان آس پاس ہی کہیں موجود ہوتاتو اپنے کھیت تباہ ہوتا دیکھ آپے سے باہر ہوجاتا اس جرم کے پاداش میں اکثر چرواہوں کی مرمت ہوجایا کرتی تھی ، کبھی کبھی تو جانوروں کے مالکان کے خلاف مقامی عدالت میں کیس  بھی ہوجاتا اور جانور گرفتار کرلیے جاتے ۔پھر ہرجانے اور جرمانے کے مرحلے سے بھی گزرنا ہوتا تھا ۔

جو کچھ بیان کیا گیا ہے کوئ خیالی دنیا نہیں ہے بلکہ اس طرح کے شواہد آج بھی مہاراشٹرا ، ہریانہ اور جھارکھنڈ میں مل جائیں گے ۔ اوپر جو کچھ بیان کیا گیا ہے اسے ایک بار پھر پڑھ لیں اور ملک کی موجودہ صورت حال میں مسلمانوں پر اسے منطبق کریں بہت کچھ میں جانوروں کی سوجھ بوجھ کی داد دئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ہندوستانی مسلمانوں کو سدھائے ہوئے جانور کی شکل میں دیکھ لیں اور چرواہوں کو مختلف مسالک کے نمائندے کے طور پر ۔ اس وقت ملک کے تمام مسالک کے نمائندے کی صورت حال بالکل یہی ہے کہ وہ کسی کھیل میں محو ہیں اور ان کی بھیڑیں من مانی کرنے کے جرم میں باربار کسانوں کے ہتھے چڑھ رہی ہے ۔ یہ بات بھی طے ہے کہ بسا اوقات ظلم کے دریا سے بھی گزرنا پڑرہاہے لیکن اس میں بھی کمزوری چرواہے کی ہے ، اگر چرواہے نے اس قدر اچھی تربیت کی ہوتی اور اتنے سلیقے سے سدھایا ہوتا تو بھیڑیں اس قدر قربان نہ ہوئ ہوتیں ۔ 

اس رمضان سے پہلے ملک میں ہی نہیں پوری دنیا میں کورونا کی مصیبت آئ جس کی آڑ میں ملکی میڈیا نے ایک خاص نظریے کے تحت مسلمانوں کو نشانہ بنایا ، مسلمانوں کا معاشی بائکاٹ تک کرنے کی نوبت آگئی ، ہر ذی عقل اور ذی شعور چیخ اٹھا ، اسی بیچ مسلمانوں کے مختلف مسالک کے نمائندوں نے مسلمانوں سے گزارش کی کہ موجودہ حالات کے ہیش نظر عیدی خریدوفروخت سے پرہیز کریں ، جو پیسے عید کے سامان کے لیے خرچ کرنے ہیں اسے ضرورت مندوں پر خرچ کریں ، مدارس اسلامیہ کی مدد کریں ۔ اس لیے کہ اس سال عید کے بعد 90/فیصد مدارس اسلامیہ بند ہوسکتے ہیں ، آپ سوچئے ! ہندوستانی مسلمانوں کا  دوفیصد سے بھی کم وہ بھی صرف غریب طبقہ اس تعلیم سے جڑا ہوا ہے اگر اندیشے صحیح ثابت ہوگئے اور مدارس کے بند ہونے کا سلسلہ چل پڑا تو ممکن ہے کہ ہمارے ملک میں مسلمان تو مل جائیں لیکن اسلام ڈھونڈنے پر بھی نہ ملے ۔

   جب تمام مکاتیب فکر کے  ذمہ داران نے مسلمانوں سے مئودبانہ گزارش کی کہ "عیدی خریدوفروخت " سے رک جائیں تو سب کو رک جانا چاہیے لیکن یہاں کون کس کی سنتا ہے ؟ ۔ ہماری آپسی چپقلش نے ہمیں اپنی عوام میں بے وقعت کرکے رکھ دیا ہے ۔ اس سے ایک بات صاف اجاگر ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے نوے  90/سے پنچانوے 95 /فیصد طبقے  میں ہمارے فیصلے اور اپیلیں اپنی عصمت لٹا چکی ہیں ۔سوچنے کی بات ہے کہ مختلف مذہبی رہنماءوں کے مذہبی درد کی عکاس فرامین کی وہ حیثیت بھی نہیں ہے جوایک سیاسی لیڈر کے سیاسیانہ مذہبی بیان کو حاصل ہے ۔ تھالی موم بتی کی طرف لطیف اشارہ ہے ۔ کہاں سے کہاں آگئے ؟ ۔ کبھی تنہائ میں بیٹھ کرسوچنے کی ضرورت ہے ۔ اب آئیے !  مسلمانوں کے مذہب کے ساتھ عملی تعلق پر بھی ایک  نظر ڈال لیں اور غور کریں کہ آخر اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ ہم اپنے آپ کو بچانے کے لیے یہ کہ دامن بچاسکتے ہیں کہ" ضروریات دین کی تعلیم کا حصول  ہر مسلمان پر فرض ہے " دنیا میں کسی کو خاموش کرنے کے لیے واقعی اچھی دلیل ہوسکتی ہے لیکن کیا خود کی ضمیر  کو بھی اس دلیل سے مطمئن کیا جا سکتاہے ؟ یا قیامت کے دن بھی ہم اپنے رب کے حضور اس جواب سے سرخرو ہوسکتے ہیں ؟ میرا جواب تو نفی میں ہے وہ بھی نون مشدد کے ساتھ ۔

کرونا وبا ، مسلمانوں پر ظلم وستم اور مختلف حیلے بہانے سے اسلام کو نشانہ بنائے جانے کے منظر کے بعد بھی کیا آپ کو لگتا ہے کہ مسلم جوانوں میں مذہبی ، فکری اعتبار سے عملی طور پر کوئ تبدیلی آئ ہے ؟ شاید آپ کا بھی جواب انکار  میں ہی ہوگا ۔ لاک ڈاءون میں رمضان کے مہینے میں مسلمانوں کو مساجدوں سے دور ہونا پڑا ، یہ بھی ایک بہانہ بن گیا ظالموں کے لیے نماز وروزہ کو ترک کرنے کا ۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ  ہر مسلمان اس رمضان میں اپنے گھروں کو مساجد میں تبدیل کرسکتاتھا ۔لیکن کرنا کیا ہے ہماری قوم کے رہنماءوں کی فکری قوت بھی بہت پہلے فنا چکی ہے اور جو کچھ مذہبی معاملات میں ہمیں سننے دیکھنے کو مل رہاہے یہ ہماری سوسالہ دعوت وتبلیغ کا بھیانک نتیجہ ہے ۔ جوانوں میں کھلے عام روزہ چھوڑنے کا جو فیشن پہلے تھا وہ اب بھی ہے ، بوڑھوں کے ادھر ادھر بیٹھ کر  گپی مارنے کی جو بیماری پہلے تھی وہ اب بھی ، سبزی فروشوں کی مکاری کی لعنت جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے ۔  دوکان داروں کی بے ایمانی کی لت جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے ۔زکوہ فطرہ اور صدقہ پر بری نظر رکھنے والے اشخاص جس لالچ میں پہلے مبتلاتھے اب بھی مبتلا ہیں ۔ آپسی فتنہ وفساد جس دلجمعی سے پہلے برپاتھا اب بھی برپا ہے ۔ دیر رات تک جاگنے کی جو روش پہلے تھی وہ اب بھی ہے ۔ نماز فجر چھوڑ کر مسلمانوں کا 97/فیصد طبقہ سورج نکلنے کے بعد تک پہلے بھی سوتاتھا اب تک گھوڑا گدھا سب بیچ کر سورہاہے  ۔علماء اور عالمات پہلے بھی سوشل میڈیا پر اٹکھیلیاں کرتے تھے اب بھی کرتے ہیں ۔ ہم کرامات سن سنا کر اتنے بڑے کراماتی ہوگئے ہیں کہ اب سب کچھ کرامات سے حل کرانے کے امید وار ہیں ۔ سب جانتے ہیں کہ قوموں کی تقدیریں کراماتیں نہیں بدلاکرتیں بلکہ ان کا عزم وحوصلہ اور سعی مسلسل ہی تقدیر کا فیصلہ کرتاہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Comments