Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

تیسرا لاک ڈاؤن اور ہماری ذمہ داریاں

تحریر: ظفر احمد خان

مختلف انسانی معاشروں اور  تہذیبوں نے غریب، مزدور، محنت کش، محتاج، مسکین، مفلس اور مجبوروں کو ہمیشہ سے حقیر، کم تر اور قابلِ نفرت جانا۔ ہر عہد اور زمانے میں ان لوگوں پر عرصۂ حیات تنگ کیا گیا اور ظلم وستم کو روا رکھا گیا، غریب ہونا ایک گالی اور ایک ایسا جرم ہے کہ جس کی سزا ساری زندگی ملتی رہتی ہے، غریب اور اس کا خاندان معاشرے کے ہر صاحبِ حیثیت کا ادنیٰ غلام اور خادم سمجھا جاتا ہے، جبکہ یہ ظلم و ستم اور قہر و جبر کے غیر انسانی رویّےدرحقیقت، تاریخِ انسانی کے چہرے پر بدنما داغ ہیں۔

        وبائی مرض کرونا وائرس کے پھیلنے کے بعد ملک میں پہلے اکیس اور دوبارہ انیس روزہ لاک ڈاؤن کے نفاذ پر جو صورتحال پیش آئی اس سے یہی طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا، ان یومیہ اجرت پر مزدوری کرنے والوں کی زندگی کا ایک المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ روز کام کریں تو اپنا اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پال سکتے ہیں، اور جس دن کام نہ کریں، اس روز ان کی جیب اور پیٹ دونوں خالی رہتے ہیں۔ ایسے مزدور مرد اور زن لاک ڈاؤن کے باعث اپنے گھروں سے باہر نہیں جا سکتے۔ انہیں بھی وائرس سے متاثر ہو جانے کا خوف لاحق رہتا ہے، اس بے یقینی کے ساتھ کہ بھوک لگی تو کھائیں گے کیا؟حالانکہ بہت سی سماجی فلاحی تنظیمیں مستحقین کی مدد کر رہی ہیں، حسب ضرورت کھانا، راشن، و دیگر اشیاء مہیا کرارہی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسے تمام گھرانوں کے بھوک کے مسائل ختم ہو گئے ہیں۔

         ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ہزاروں میں اور مرنے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہو چکی ہے، اس وبا کے باعث ملک میں پہلے اور دوسرے لاک ڈاؤن نے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے غریب مزدور طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، ایسے مزدوروں اور ان کے گھرانوں کی اکثریت کے لیے کورونا وائرس بیماری کے ساتھ ساتھ بھوک اور فاقے بھی ساتھ لایا ہے، ملک کے کروڑوں افراد خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، اور ایسے افراد عام حالات میں بھی بمشکل زندگی بسر کرتے ہیں، لاک ڈاؤن کی صورتحال میں ان کے گھر مفلسی و فاقہ کشی عام بات ہو گئی ہے، ایسے لوگوں کی مدد، معاونت ، حاجت روائی اور دلجوئی کرنا دین اسلام کا بنیادی پیغام ہے، دوسروں کی مدد کرنے،ان کے ساتھ تعاون کرنے، ان کے لیے روزمرہ کی ضرورت کی اشیاء فراہم کرنے کو دین اسلام نے کار ثواب اور اپنے ربّ کو راضی کرنے کا ذریعہ بتایاہے، ایک موقع پر ارشاد فرمایا:

    ’’جو شخص کسی مسلمان کی دنیوی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے آخرت کی پریشانیاں دور کرے گا اور جو کسی تنگ دست کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرے گا اللہ اس کیلئے دنیا وآخرت میں آسانیاں پیدا کرے گا اور جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ دنیا و آخرت میں اسکے گناہوں پر پردہ ڈال دے گا اور اللہ بندے کی اس وقت تک مدد کرتا رہتا ہے جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگارہتا ہے۔‘‘( مسلم)،

رسول اللہ ﷺنے اس فرمان کے ذریعے پوری امت کو ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی ‘غمخواری اور محبت کی تعلیم دی ہے. ایک دوسری روایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ ﷺنے ارشاد فر مایا:بیوائوں اور مسکینوں کے لئے کوشش کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے یا اس شخص کی طرح ہے جو دن میں روزے رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے۔(یعنی بیوائوں اور مسکینوں کے لئے کوشش کرنے والوں کو ایسا ہی ثواب عطا کیا جا تا ہے جیسے اللہ کے راستے میں اسلام کے دشمنوں سے جہاد کرنے والوں کو دیا جاتاہے یا اس شخص کو دیا جاتا ہے جو ہمیشہ دن میں روزہ رکھتا ہے اور رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا ہے۔(بخاری)

        اب آج 4 مئی سے شروع ہونے والے تیسرے مرحلے کے لاک ڈاؤن کے دورانیے میں ملازمین، مزدور، پڑوسیوں ، مستحق عزیز و اقارب ،رشتہ داروں، روزانہ کمانے کھانے والے افراد، اور ہمارے گھریلو کاموں میں مدد کرنے والوں کی مدد بغیر کسی تفریق کے محض انسانی بنیادوں پر پہلے دو مراحل کی طرح جاری رکھی جانی چاہیے، اپنی استطاعت کے مطابق جس قدر اور جیسی ضرورت مستحق افراد کو ہو ضرور پہنچانے کی کوشش کریں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین یا رب

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Comments