Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

کورونا کا قہر اور ہندوستانی عوام

تحریر: کوثر رضا مصباحی
ہم اور آپ جس ملک میں رہتے ہیں اسے ہندوستان کہتے ہیں. سونے کی چڑیا سے مشہور ہمارا یہ ملک ہے، بھانت بھانت اور قسم قسم کے رنگ و نسل، ذات پات اور مذہب و ملت کے لوگ اس کی آغوش میں زندگی بسر کرتے ہیں. جمہوریت، گھنی آبادی، گنگاجمنی تہذیب، اخوت و بھائی چارگی، آپس میں اتحاد و اتفاق رکھنا، طرح طرح کی تہواریں منانا اور مسجد، مندر، چرچ، گوردوارہ اور گرجا گھروں میں اپنے اپنے مذہب کے مطابق عبادتیں کرنا وطن عزیز کی پہچان ہے. بےبس کردینے والی کڑاکےدار سردی اور جھلسادینے والی سخت گرمی ہمارے دیش کی امتیازی خصوصیت ہے. اپریل اور مئی کے یہی تو وہ مہینے ہیں نا! جن میں سورج کی تپش اور دھوپ کی شدت سے دوچار ہونا پڑتا تھا لیکن آج حال کچھ اور ہے. آج انھیں مہینوں کے اسی موسم میں "کورونا" نامی چین سے پیدا ہونے والے وائرس نے اپنا ایسا قہر برپا کیا ہے کہ دکانیں بند ہیں، سڑکیں ویران ہیں، شہروں میں سناٹا ہےتو دیہاتوں میں خاموشی اور چپی سادھی ہوئی ہے. چاروں طرف خوف و دہشت کے بادل چھائے ہوئے ہیں. لاک ڈاؤن کے چلتے رکشے، گاڑیاں، بسیں، ٹرینیں اور فلائٹیں سبھی بند ہیں. ایسے میں کسب معاش کی خاطر ماں باپ، بھائی بہن، بال بچے اور دوست و احباب کو چھوڑ کر ہزاروں کلومیٹر دور شہروں میں جاکر رہنے والے لاکھوں لوگوں کی سانسیں اٹکی ہوئی ہیں. ہزاروں غریب اور مزدور لوگ سواریاں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے گاؤں کے لئے پیدل نکلنے پر مجبور ہوگئے ہیں. آہ! بڑی دکھ کی بات ہے کہ بھوک کی وجہ سے کئی لوگوں کی جانیں گئیں تو کچھ لوگوں نے پریوار سمیت خودکشی کرنا اپنے حق میں بہتر سمجھ لیا. گاؤں میں ماؤں کے سینوں میں ایک عجیب سی دھک دھکی پیدا ہوگئی ہے، دھڑکن تیزی سے دھڑکنے لگا ہے، دل کمزور ہوچکا ہے، رو رو کے آنکھیں سوج سی گئیں ہیں، ان کے کپکپاتے لبوں سے بس ایک ہی جملہ نکلتا ہے کہ "میرے جگر کے ٹکڑے کب ہوں گے میری نظروں کے سامنے". بوڑھی دادیاں کہتی ہیں ملک کو ہمارے کسی کی نظر لگ گئی ہے. بوڑھے بزرگ کہتے ہیں: یہ قیامت کی نشانی ہے. کہتے ہیں: محشر کی کچھ جھلکیاں دنیا میں نظر آرہی ہیں کہ اپنے اپنوں سے دور ہورہے ہیں. کہتے ہیں: گھر سے نکلے تھے لوگ سپنے پورے کرنے کس کو پتا تھا کہ گھر جانا ہی سپنا بن جائے گا. کہتے ہیں: ہائے! نہ علاج اور نہ ہی دوائی ہے اے عشق! تیرے مقابلہ کی ایک بیماری آئی ہے. دنیا کے مختلف حصوں سے دل دہلانے والی طرح طرح کی خبریں آرہی ہیں. روح کانپ اٹھتی ہے جب خبر آتی ہے اٹلی کے راستوں میں پڑی ان گنت لاشوں کی. رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جب خبر ملتی ہے اسپین کی بے تحاشہ موتوں کی. جسم لرز اٹھتا ہے جب خبر آتی ہے سپر پاور امریکہ کے مردہ گھروں کے بھر جانے کی. آنکھیں بھر آتی ہیں جب خبر ملتی ہے لاکھوں لوگوں کی جانیں چلی جانے کی. آج پوری دنیا اس وبائی مرض کی چپیٹ میں آچکی ہے. ایسے نازک اور پرخطر ماحول میں ہر ایک شخص کو فکر پڑی ہے اپنی اور اپنوں کی جانیں بچانے کی.

    لیکن...... حوصلہ بلند رکھیں، ہمت سے کام لیں اور امیدیں برقرار رکھیں یقیناً رب کے فضل سے ایک ایسا بھی دن آئے گا کہ آسمان پھر سے گلابی ہوگا، ایک دن آئے گا کہ مرجھا ہوا گلاب پھر کھلنے لگے گا، وہ دن بھی لوٹ آئے گا کہ خاموش ندیاں لہریں مارتی اور شور مچاتی نظر آئیں گی، وہ دن آئے گا کہ بےآب و گیاہ میدان سرسبزوشاداب نظر آئے گا. بہت ہی خوبصورت اور سازگار ماحول ہوگا. ایک بار پھر سے سڑکیں مصروف ہوں گی، دکانوں میں بند پڑے تالے کھلنے لگیں گے، کارخانے آباد کئے جائیں گے، مزدوروں اور بے بس لوگوں کی بھوک مری ختم ہونے لگے گی اور آمد و رفت کا سلسلہ پھر سے زوروں پر ہوگا.  ایک بار پھر سے مسجدوں سے اذانوں کی صدائیں گونجنے لگیں گی، نمازیں باجماعت ادا کی جائیں گی، مصافحہ اور دست بوسی کا سلسلہ پھر سے شروع ہونے لگے گا. ایک بار پھر سے عورتوں کا جماؤڑا ہوگا اور اس میں طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں گی. ایک بار پھر سے بوڑھے بزرگوں کی کرسیوں سے سجی گلیوں اور چوڑاہوں میں شام کی میٹنگ ہوگی، پھر سے چائے کی دکانوں میں چسکیاں لیتے اور پان مسالے کھاتے لوگوں کی بھیڑ دکھنے لگے گی. ایک بار پھر سے لکڑی کی ڈنڈی سے ٹائر کو سڑکوں پہ دوڑاتے بچے دکھنے لگیں گے، پھر سے بچیاں چور پولس کھیلتے نظر آئیں گی، پھر سے کرکٹ کے شوقین کا امنڈتا ہوا سیلاب دکھے گا. ایک بار پھر سے دوستوں کے ساتھ گزرے چند لمحے دفتر کی پوری تکان کو دور کرنے کے لئے کافی ہوں گے. گویا پوری دنیا خوشی سے جھوم اٹھے گی، فرحت و شادمانی کا خوش گوار ماحول ہوگا، ہر ایک کے چہرے پہ ایک خوبصورت مسکان ہوگی اور انسانیت کی بہت بڑی جیت ہوگی. ایسے میں آسمان میں اڑنے والے پرندے کہنے لگیں گے: "یہ کم بخت انسان بھی عجیب ہوتا ہے کہ مرتے مرتے جینا سیکھ لیتا ہے".

     خیال رہے.... یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب کہ ہم اپنے گھروں کو لازم پکڑیں، اپنے اور اپنوں کا خیال رکھیں، سوشل ڈسٹینسنگ بنائے رکھیں، بغیر ضرورت گھروں سے باہر قدم بھی نہ نکالیں، صاف صفائی کا خوب خوب دھیان رکھیں، ہاتھوں کو بار بار دھوئیں، آس پاس کے غریبوں کی مدد کریں، بھوکوں کو کھانا کھلانے کی حتیٰ المقدور کوشش کریں اور ایک ذمہ دار ناگرک اور شہری بن کر حکومت کا تعاون کریں.  ان شاءاللہ منزل کے پاس ہونے اور چاروں طرف سے کامیابی کی آہٹ محسوس ہونے لگے گی۔
   کچھ دیر کی خاموشی ہے پھر شور آئے گا
    تمھارا صرف وقت آیا ہے ہمارا دور آئے گا

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Comments