تحریر: زین العابدین ندوی
آپ کو یاد ہوگا ماہ مارچ کی ۲۲/ تاریخ کو جنتا کرفیو کا نام دے کر ملک کو بند کیا گیا اور پھر بندش کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے،جس کا اثر ہر فرد بشر بنظر خود دیکھ رہا ہے، انسانی زندگی کا دھاگہ بکھر سا گیا، ہر شخص نعم و لا کا شکار ہوگیا، ہر طرف ہو کا سا عالم چھا گیا، تفریح گاہیں ویران خراباں میں تبدیل ہوگئیں، سراپا مودت ومحبت کا مجسم کامل انسان اپنی ہی برادری سے خوف ودہشت محسوس کرنے کا عادی سا بن گیا، ایسی ہی تکلیف دہ صورتحال کا شور تھا جس پر کسی کا کوئی بھی نہ زور تھا، پردیس میں رہ کر شکم کی آگ بجھانے والا ہر انسان اپنے وطن مالوف جانے کا خواہاں تھا، وہ ہر حال میں اپنوں کے درمیان پہونچنا چاہتا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے ہر کسی نے حکومت کی چیرہ دستیوں کے پرواہ کئے بغیر رخت سفر باندھنا شروع کیا اور اپنے اپنے وطن کا رخ کیا، جس میں کچھ تو اپنے مقام پر پہونچنے میں کامیاب ہوے اور کچھ کی ڈور زندگی راستہ میں ہی ٹوٹ گئی۔
اسی ہولناک صورتحال میں جب کوئی سبیل نہ رہی،ادارہ سے بھی تدریسی تعلق ختم کرنے کا پروانہ دیا جا چکا تھا، تو اب وہاں رہنا ضیاع وقت کے سامان کے سوا کچھ نہ بچا،تو پھر راقم نے بھی اپنی شریک حیات سمیت رخت سفر باندھ ہی لیا اور مرتا کیا نہ کرتا جب کوئی راستہ سجھائی نہ دیا تو اسی سادھن کا سہارا لیا جس کا سہارا لئے ہوے لاکھوں مزدور اپنے اپنے وطن جا رہے تھے، اس اہم سواری کا نام آنجناب ٹرک 🚛 صاحب ہے، جس کی بدولت لاکھوں افراد اپنوں کی شکل دیکھ سکے۔
قید وبند(لاک ڈاون) کے پچاس دن مکمل ہو چکے تھے مئی کی ۱۲/تاریخ تھی،وطن واپس جانے کی کوششیں جاری تھیں،افضل بھائی، جاوید سر، فوزان سر اور ہمارے دیگر احباب پوری مستعدی سے سواری کے انتظام وانصرام میں لگے ہوئے تھے،اللہ سب کو بہتر بدلہ عطا فرماے،بالآخر ہمارے بہت ہی مہربان قدردان دوست جناب نوید خان صاحب کی کاوشوں کے نتیجہ ممداپور نامی گاؤں کے نعیم بھائی اپنی کار سے نیرل سے بھیونڈی لے جانے کو تیار ہوے اور ہم بعافیت منصوبہ کے مطابق دانش سر کے مکان پر پہونچے جہاں وہ پہلے سے ہمارے استقبال میں شاہراہ پر کھڑے تھے،دانش سر نے ہمارے ورود پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے ہمارا سامان سفر لیے ہوئے اپنے گھر چلے جو کہ راو جی نگر بھیونڈی میں واقع ہے، ہم وہاں ان کے مہمان ہوئے، اور صبح 7:30 سے رات 8:00 بجے تک وہیں رکے رہے، دانش سر کی خوش مزاجی کے سبب وقت کا احساس تک بھی نہ ہوا اور وہ مسلسل ہمارے ساتھ رہے، جہاں ان کے والد ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی انہوں نے بھی خوشی کا اظہار کیا اور اپنی کلینک پر چلے گئے، صاحب زادہ دانش میاں محمد احمد نے اپنی تتلی زبان سے ادا کئے کلمات سے طبیعت خوش کردیا، اللہ اس بچے کو اپنے دین کی خدمت کے لئے قبول فرماے، آمین، افطار کے بعد مغرب کی نماز ادا کی اور ٹرک 🚛کے آنے کا وقت بھی آچکا تھا، ہم وہاں سے نکلے چلتے چلتے چاے لی اور دانش سر نے ہمارا زاد راہ تیار کیا، اور بذریعہ کار ہماری سواری تک پہونچا دیا، ٹرک چونکہ ہمارے قریبی شخص کا ہی تھا جو اس کے مالک بھی تھے اور ڈرائیور بھی، انہوں نے ہمیں کیبن میں بیٹھنے کو کہا اور ہمارا سامان اپنے ذمہ رکھ لیا، کیبن میں ہمارے علاوہ ایک ڈرائیور اور ہمارے ہی علاقہ کے تین افراد اور بھی تھے، اور وہاں شارع عام کا منظر کچھ یوں تھا، کہ بس انسانوں کا ایک سمندر تھا جو اپنے وطن مالوف واپس ہو رہا تھا،ٹرکس ،جیپس،آٹو اور نہ جانے کتنی گاڑیا کھڑی تھیں،ہزار ،دیڑھ ہزار، دوہزار کلو میٹرس کا سفر کرنے والے مسافرین کا حال یہ تھا کہ انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونس ٹھونس کا بٹھایا جا رہا تھا،مگر مجبور مسافرین کا حال یہ تھا کہ انہیں وطن واپسی کے شوق میں یہ سب کچھ گوارا تھا،اس موقع پر انسانوں کی مجبوری اور حکومت کی بے حسی کے منظر نے دل دہلا کر رکھ دیا،جس کے بعد یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ حکومت اپنے وطن کے باشندوں کی کسی صورت بھی خیر خواہ نہیں۔
سفر دس بجے کے قریب شروع ہوا ، اور ہم کسارا گھاٹ ہوتے ہوئے ناسک پہونچے، راستے میں ایسا لگ رہا تھا حشر کا عالم ہے ہر کوئی اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے، سواریوں پر سوار لوگوں کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں وہ لوگ بھی تھے جنہیں دیکھ کر آنکھوں پر قابو نہ رہ سکا، جو پاپیادہ ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کر رہے تھے، ساتھ میں چھوٹے چھوٹے معصوم بچے اللہ اکبر، اس صورتحال کو دیکھ کر تقسیم ہند وپاک کا نقشہ ذہن میں گردش کرنے لگا۔
مہاراشٹر بارڈر کراس کرنے کے بعد گاڑی جوں ہی ایم پی میں داخل ہوئی تو ذرا سی خوشی اس معنی ہوئی کہ وہاں اصحاب خیر اپنی وسعت واستطاعت کے بقدر مسافرین کی خدمت میں مصروف تھے، کہیں سبیلیں تو کہیں کھانے کے سامان تقسیم کرنے کا ایک سلسلہ بندھا ہوا تھا، لیکن پا پیادہ سفر کرنے والے مسافرین کا تانتا بھی بندھا ہوا پایا، بعض مقامات پر پولیس اہلکار انہیں مختلف گاڑیوں میں بٹھاتے ہوے بھی نظر آے۔ ہم ۱۳/ مئی رات کے بارہ بجے جھانسی پہونچ چکے تھے اور یوپی میں جیسے ہی ہم داخل ہوے سبیلوں اور کھلانے پلانے کا یہ سلسلہ خال خال نظر آیا، کچھ جھلکیاں لکھنو میں اور کچھ بستی میں نظر آئیں، انسانوں کے پیدل، سائیکل سوار، بایک سوار، کار سوار اور اکثریت ٹرک سوار مسافرین کا یہ سمندری سلسلہ مہاراشٹر سے یوپی تک برابر نظر آتا رہا جنہیں دیکھ کر جو تکلیف ہوتی تھی اسے میں بیان نہیں کر سکتا، 14/ مئی کی شام بوقتِ افطار خدا خدا کر کے میں اپنے غربت کدہ پر پہونچ ہی گیا اور گھر والوں کے ساتھ افطار کا موقع ملا، میں شکر گزار ہوں اپنے ان تمام ساتھیوں (حافظ سالم،صدام ندوی،مولانا احمد، مولانا عبد المعبود، قاری انس،مفتی بلال اور دیگر احباب )کا جنہوں نے دامے درمے قدمے سخنے ہماری مدد فرمائی، اللہ سے دعا ہے کہ باری تعالیٰ سب کو اپنی شایان شان بدلے عطا فرمائے۔


0 تبصرے