نتیجہ فکر:محمدعرف صدام حسین احمد قادری بركاتي فيضي
خواجہ پیا کرو اب نظر کرم خدارا
جھولی کو میرے بھر دو میں منگتا ہوں تمہارا
نانا تمہارے خواجہ مختار دوجہاں ہیں
کیا شان ہے تمہاری کیا رتبہ ہے تمہارا
کیوں گیت ہم نہ گائیں خواجہ پیا کے ہردم
ٹکڑوں پہ جب انہیں کے ہم سب کا ہے گزارہ
غوث الوری کاصدقہ سب اولیاء کا صدقہ
مل جائے ہم کو خواجہ حسنین کااتارا
بگڑی بنادو سب کی خواجہ یہ التجا ہے
سب نے بڑے ادب سے دامن کو ہے پسارا
جاؤں کہاں پہ خواجہ کس کو بھلا پکاروں
"میرا بجز تمارے کوئی نہیں سہارا"
فورا ٹلی ہے مشکل بگڑی مری بنی ہے
یاخواجہ المدد جب میں نے جہاں پکارا
احمد کو بھیک دیدو یا خواجہ لاج رکھ لو
در چھوڑ کرتمہارا جائے کہاں بے چارہ


0 تبصرے