تحریر: شاہ خالد مصباحی سدھارتھ نگری
آج ملک اور بیرون ملک کا گزر جس ان دیکھی ، لا مقابلتی تباہی و بربادی سے ہورہا ہے _-- اس کا سپ و سق ہر انگل سے اقوام جہاں پر اپنی تنزلی ، معاشی وسائل کی بربادی کا پڑاو ڈال چکا ہے حتی کہ اس کے ذریعہ پائی گئی پستی عالم کا جائزہ اگر لیا جائے تو یکسر طور پر ہر ملک اپنے ترقی کے محور سے دو قدم پیچھا جا چکا ہے۔۔۔۔۔
*لیکن وہ ملک جس کا ترقیاتی وسائل پر قبضہ ہی نہ ہو__ جس کے یہاں دس افراد میں ایک بھی سائنس دان ، ڈاکٹر اور ملٹی کیپر آف پروگریس نہ ملتے ہوں _ بلکہ سب جاہل ہی جاہل ہوں _* *اس کا جلد از جلد اپنی سابقہ حالت پر آکر ترقی کی باگ دوڑ سنبھال لینا یہ چمگاڈر کے نسلی عکاس کی بات تو دور ، گاو ماتا کی پریبھاتا کو بھی نہیں بھاتا ہے * _____ 2013 میں ہمارا قومی پیسہ8▪️10 تھا اور آج انہی قوم کے ٹھیکاداروں ، نیتاوں کے ذریعہ ملک کی اتنی لوٹائی کردی گئی کہ 25▪️1 کی تنزلی کے ایٹوسیڈ سے وطن عزیز چلنے لگا _ آپ نے 2014 سے کیا کیا؟ اور کیا نہیں کیا__؟ عزت ماب پرائم منسٹر جی ملک کا دودھ پیتا ہوا بچہ بھی جانتا ہے ____
مگر غرض یہ ہے کہ اب آپ کیا کررہے ہیں__؟
لاک ڈاون کا تیسرا اسٹیپ چالو ہوچکا --- آپ نے ملک کی حالت کو دیکھ کر ، لاک ڈاون میں تخفیف کرکے کچھ تجارتی مراکز کو چھوٹ دے رکھی ہے _
لیکن ہر ذرہ افکار کا طنزاد ، ملک کی روشن حالت اور بہتری کی بحالی کے لیے آپ کا اور یوپی سی ایم یوگی ادیتھ ناتھ جی نے کل سے جو شراب نوشی کے اڈوں کو کھول رکھنے کی اجازت دے رکھی ہے ___ اس سے اہل شعور کے اندر کافی ناراضگی پائی جا رہی ہے _ اور یقینا اس سے صرف ، جھگڑے ، فساد ، اختلافات اور شوشل ڈسٹینس کا پالن نہ کرنے ہی کے واقعات سامنے آئیں گے __ جیسا کہ اس کا بد سے بد تر نتیجہ نظر آنے لگا ہے حیرت ہے!!
آج کھانے تک کے لالے پڑے ہوئے ہیں
اور آپ ان غریب مزدوروں کے پینے کی بات کرتے ہیں __؟
آپ ملک کی خستہ حالت میں ہماری ہی پروپرٹیوں کا رکھوالا بن کر ایک کا چالیس لے کر اپنی بھاپند عقلی کا جو تماشہ دیکھاتے جا رہے ہیں____ اس پر ملک کا ہر بچہ گواہ رہے گا __؛
سب بند رکھنا یعنی مسجد ،مندر ، چرچ اور گرجا گھر کے دروازوں کو بند کرکے آپ امن کے متلاشی ہیں!!؟!
کوئی بھی بتائے مجھے!!
کہ کیا آج تک ، شراب کے اڈوں سے امن و انسانیت کے پیغامات اور خوشحالی پیدا کرنے وسائل کریٹ ہوئے ہیں___؟
*تاریخ گواہ ہے اس سے صرف اور صرف بد امنیاں ، فتنے اور جھگڑے ہی کھڑے ہوئے ہیں ۔ گھر کا گھر برباد ہوگیا ہے ، عورتوں کا سہاگ لٹ گیا ہے ____*
لادو کوئئ مثال کہ اس سے کوئی گھر آباد ہوا ہو__!!
حکومت کو چاہیے کہ اس مخمور لبا پیمانے کا سماج و سوسائیٹی سے تیاگ دیں اور اس کے عملی افراد کے لیے بہتر اقدام کرے اور ملک انڈیا میں پورے طریقے سے اس کو بین کرے _ جیسا کہ ملک ہی کے کچھ پردیش میں شراب خانہ کھولنے کی اجازت نہیں!!
لیکن واہ جی! ہمارے یہاں تو یہ بربادی کے وسائل بھی سرکاری ہوتے ہیں جیسے سرکاری دارو خانہ!!
اگر آپ اتنے ہی انکم ٹیکس بٹورنے کے عادی ہیں----
*تو عزت ماب جی! آپ ملک کے گلی و کوچے کو دبئی جیسی فحاشییت و عروانیت سے بھرا ملک یعنی ریڈ ایریے کی اعلی مثالوں میں تبدیل کیوں نہیں کر دیتے __*
اس سے اچھا عادی بنانے اور بننے کا ہنر شاید ہی کوئی ہو جس کا نتیجہ آپ کو خود یورپ و امریکہ جیسے ممالک سے دیکھنے میں مل رہا ہوگا _
خدا را بلی کا بکرا بنانا بند کریں
اور ایک اچھی روش پر چل کر اچھے ذرائع پیدا کرنے کا منصوبہ بندی کریں جس سے ملک کی تہذیب و ثقافت ، حالت و پوزیشن میں تبدیلی آئے_!
آپ کیا گارنٹی لے سکتے ہیں! ؟
کہ ان دنوں میں ملک کی %75 شراب نوشی کے عادیوں کے پاس شراب کی بوٹلیں نہیں تھی۔
ہاں ضرور ان لوگوں کے پاس نہیں تھی جو وقتی کمائی کے محصول رقم کو عیاشیوں میں فنا کر دیتے تھے۔
لیکن لاکھوں ، کھربوں میں لوٹنے والے افراد شراب پینے والوں کے پاس اسٹوک میں شراب کی بولتیں ان کے گھروں کی زینت بنی ہوئی تھیں۔
آپ اپنے ہی اردگرد دیکھ لیں گے عزت ماب اس کی مثال بہت مل جائے گی۔
خدا را
پرائم منسٹر جی اور اتر پردیش کے یوگی و سی ایم صاحب کبھی کچھ ایسا بھی اقدام کریں
جو سیاست سے دور ، غریبوں ، مجبوروں لاچاروں کے لیے اور سچ کہیے کہ ملک کے روشن مستقبل کے لیے اک اچھا سا روش و کردار بن کر ابھرے
خدا خیر کرے۔۔۔۔۔
برباد گلستان کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا


0 تبصرے