Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

ماں! تو مری پیاری جنت ہے نا

نتیجہ فکر: وزیر احمد مصباحی
ماں! تو مری پیاری جنت ہے نا 
جہاں چین و سکوں اور ہر غم کا مداوا ہے
نہ تو کسی خوف و دہشت اور نہ ہی پرائیوں کا پہرا ہے
تیری یادیں، غموں کی دھوپ میں سائباں کا کام کرتی ہیں
آپ کی گزری، بھولی یادیں بڑی ستاتی ہیں
 ماں! تو مری پیاری جنت ہے نا 

رختِ سفر باندھے ہوئے آپ کو اک زمانہ ہوا 
پر جیسے مجھے یوں احساس ہو، یہ گزرے کل کا حادثہ ہے
میں پل پل تجھے ڈھونڈتا ہوں 
خلوت میں، جلوت میں 
ہاں ہر سمت نگاہِ تجسس سے بھی نقب لگاتا ہوں 
پر تیری ہی یادیں تو مرا تسکین خاطر ہیں 
اور ایک انچھوا سا احساسِ جمال 
جس کے سہارے میں اپنے لڑکھڑاتے وجود کو توانا بناتا ہوں 
آپ کی گزری، بھولی یادیں بڑی ستاتی ہیں 
ماں! تو مری پیاری جنت ہے نا 

 جب مری نگاہِ جستجو مُصلّہ سے اک لو لگاتی ہے
آہِ سحر گاہی بھی کچھ یاد سی آتی ہے 
خیالِ صبرو استقلال اور ثبات و پامردی 
جانبِ وجودِ من حصارِ آہینی بن کر لپکتا ہے
ہاں! اب وجودِ ناتواں راکھ کرنے کو مرا دل چاہتا ہے 
تا کہ زمانے کے تھپیڑوں سے بچ بچا کر، 
ہر محشر آلام سے دامن چُرا کر 
دُور کہیں ایک آشیاں بساؤں 
تیری گزری، بھولی یادیں بڑی ستاتی ہیں 
ماں! تو مری پیاری جنت ہے نا 

یہاں کی تُند بھیڑ میں کہیں کوئی اپنا سا نظر نہیں آتا 
مفاد پرستی، ابن الوقتی اور حوس کے انگارے لڑھکتے ہیں 
ہاں!یہاں شرافت کے مکھوٹے لگا کر ہر کوئی دل کو جلاتا ہے
مجھے، تو اکثر یاد آتی ہے 
میں نے انجان پتہ پہ ایک خط لکھا ہے 
اب، ڈھونڈنتے ہوئے مرے بازو شل ہو چکے ہیں 
آبلہ پائی کا مارا ہوں 
قوی مضمحل ہے، میں تھک ہار گیا ہوں 
 ہمت گہرے بھنور میں کہیں گُم سی ہے
پر، تو مجھے اب تک کہیں نظر بھی  نہ آئی  
جی، آپ کی گزری، بھولی یادیں بڑی ستاتی ہیں 
ماں! تو مری پیاری جنت ہے نا 

میں ہر آن تیرے حجرے میں آتا ہوں 
خموش دیواروں سے سوالی بنتا ہوں 
ہر ایک آہٹ پہ سہم سا جاتا ہوں 
پر آپ کا وجودِ جاں فزا کسی سمت نظر نہیں آتا 
دل بھر سا آتا ہے، روح تڑپ سی اٹھتی ہے 
مگر اب عزم و وفا سے دل لگی پہ من گھبراتا ہے 
آپ کی گزری، بھولی یادیں بڑی ستاتی ہیں 
ہاں ماں! تو مری پیاری جنت ہے نا

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Comments