Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

بدرملت!گوشۂ حیات کے زریں اوراق

از قلم: ازہرالقادری

اسم گرامی:۔بدرالدین احمد ،ولدیت :عاشق علی بن احمدحسن بن غلام نبی بن محمد نادر صدیقی ،خطاب: سندالمحققین ،رئیس الاتقیاء ،لقب: بدرالعلما ء  اوربدر ملت ہے۔
ولادت:آ پ کی پیدائش ۱۳۴۸ھ مطابق  ۱۹۲۹ء میں آپ کے ننہال مو ضع حمید پور گورکھ پور یوپی انڈیا میں ہوئی۔جو راوت پار سے تقریباً دو میل کے فاصلہ پر ہے۔ 
 خاندانی حالات:آپ کے لکڑ دادا شیخ محمد نادر مرحوم کے آبا و اجدادقصبہ یوسف پور محمد آباد ضلع غازی پور کے باشندہ تھے  جن کے تعلقات شاہ پور کوٹ، تحصیل بانس گاؤں ضلع گورکھ پور کے نواب سیدشاہ عنایت علی مرحوم کے سادات شاہی خاندان سے قدیم زمانہ سے قائم تھے۔اسی دیرینہ خاندانی تعلق کی بناپرشیخ محمدنادر کے والد اورچچا سید صاحب کی ایک جنگی مہم میں بحیثیت افسر، فوج میں شریک ہوکر کام آگئے۔
اس زمانہ میں شیخ محمد نادر مرحوم ایک ننھا بچہ تھے۔سید صاحب نے ایک جاں نثار فوجی افسر کی سعادت مند یادگار کو اپنی تربیت و کفالت میں پروان چڑھایا۔جب شیخ محمد نادر سن شعور کو پہونچے تو سید صاحب ممدوح نے اپنے دیوان خاص میں ایک ممتازعہدہ دے کر ان کو اپنا مقرب بنایا۔اور دو گاؤں بہ طور جاگیر عطا فرمایا۔ایک موضع راوت پار جو قصبہ شاہ پور سے ایک میل کے فاصلہ پر اتر جانب ہے۔ اوردوسرا موضع کھوکھرجوت جو تحصیل سگڑی ضلع اعظم گڈھ میں ہے۔غلام نبی مرحوم نے شاہ پور کے بہ جاے راوت پار کو اپنا وطن بنایا جہاں آپ کے خاندان والے آج بھی موجود ہیں اور کھوکھر جوت کی آبادی رفتہ رفتہ فروخت ہوکر دوسروں کے ہاتھوں میں منتقل ہوگئی۔
 تعلیم :آپ کی اردو تعلیم مقامی درس گاہ قصبہ شاہ پور میں ہوئی۔عربی فارسی تعلیم کے لیے آ پ کے پدر بزرگ وار نے ایک سنی درس گاہ مدرسہ انوارالعلوم قصبہ جین پور ضلع اعظم گڈھ میں داخلہ کرایا ۔ کچھ دنوں تک ابتدائی فارسی پڑھنے کے بعد مورخہ ۴؍ ربیع الآخر شریف ۱۳۶۳؁ھ مطابق ۲۹؍مارچ ۱۹۴۴؁ء بروز منگل میزان الصرف کی تعلیم شروع ہوئی۔تقریباً چار سال تک ادارہ ہٰذا میں حضرت مولانا مولوی محمد خلیل صاحب کچھوچھوی علیہ الرحمۃ کے سایۂ عاطفت میں زیر تعلیم رہ کرآپ نے ابتدائی و متوسطات عربی فارسی میں مہارت تامہ حاصل کیا۔
 الجامعۃالاشرفیہ مبارک پور میںداخلہ:۔بماہ شوال المکرم ۱۳۶۷؁ ھ مطابق ستمبر ۱۹۴۸؁ء  ازہر ہند الجامعۃالاشرفیہ مبارک پور اعظم گڈھ میں داخلہ ہوا۔وہاں بھی تقریباً چارسال تک رہ کر اپنے وقت کے رازی و غزالی جیسے چوٹی کے علما وفضلا سے اکتساب فیض کیا۔اس طرح آپ کو کتب درسیہ متداولہ پر کامل عبور حاصل ہوانیزمروجہ علوم و فنون میں اپنے وقت کے فرد فرید بھی رہے۔
شرف بیعت:۔الجامعۃالاشرفیہ مبارک پور کے زمانہ ٔ طالب علمی میں مورخہ ۷ ربیع الآخرشریف ۱۳۷۰؁ھ مطابق ۱۶ جنوری ۱۹۵۱؁ء بروز دوشنبہ بعد نماز عشا شبیہ غوث اعظم شہ زادۂ اعلیٰ حضرت ابوالبرکات محی الدین الحاج الشاہ مصطفیٰ رضا خان مفتی اعظم ہند رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے نورانی اور بابرکت ہاتھوں پر سلسلہ ٔعالیہ قادریہ نوریہ میں بیعت کا شرف حاصل ہوا۔
فراغت:۔مورخہ ۱۰؍شعبان المعظم ۱۳۷۱  ؁ھ مطابق ۵؍مئی ۱۹۵۲  ؁ء بروز دوشنبہ استاذالاساتذہ جلالۃالعلم حافظ ملت علامہ الشاہ ابوالفیض عبدالعزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمۃ والرضوان کے زیر سایۂ کرم مقتدرمشائخ عظام اورمشاہیر علماے اعلام کے بابرکت ہاتھوں سند و دستار فراغ کی خلعت فاخرہ سے نوازاگیا۔
اساتذہ:۔حضرت مولانا محمد خلیل کچھوچھوی، جلالۃالعلم حضور حافظ ملت ، شیخ العلمائعلامہ غلام جیلانی اعظمی، شیخ الخطباء علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی ، فاضل محقق حافظ عبدالرؤف  بلیاوی ، شیخ القرأقاری محمد یحیٰ،سابق ناظم اعلیٰ جامعہ اشرفیہ۔علیہم الرحمہ
اولاد:۔ قدرت نے آپ کوبہ شمول ذکور و اناث کل چھ اولاد سے نوازاتھا جن کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے : چارصاحب زادے اوردوصاحب زادیاں۔ جن میں سے دوصاحب زادے الگ الگ دومیدانوں میں لاجواب وبے مثال ہیں ، (۱) محمداول المعروف نیرچرخ خطابت حضرت علامہ مولانامفتی جمال الدین صاحب قبلہ دارالعلوم غوث اعظم کھیرنہ گاؤں نیوممبئی واشی مہاراشٹر(مقیم حال آبائی وطن راوت پار گورکھ پو،ریوپی)(۲)خلیفۂ تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمدرابع نورانی شاہ بدری استاذ دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف،قاضی شرع ضلع سدھارتھ نگر۔
 درس وتدریس اور دینی خدمات کی ابتدا:۔مورخہ ۱۰؍شعبان المعظم ۱۳۷۱  ؁ھ مطابق ۵؍مئی ۱۹۵۲  ؁ء بروزدوشنبہ سند فراغ حاصل کرنے کے بعد حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کے مشورہ کے مطابق ایام رمضان کی سالانہ تعطیل گزار کر آ پ اپنے مادر علمی جامعہ اشرفیہ ہی میں تدریسی مشق میں ہمہ تن مصروف ہوگئے۔اور تقریباً سال بھر تدریسی مشق کا سلسلہ چلا۔
پھر اپنے محسن و مشفق استاذ(حضورحافظ ملت)کے اشارۂ ابرو پر ۲۵؍ رجب ۱۳۷۲؁ ھ مطابق ۹؍اپریل ۱۹۵۳؁ء بروز جمعرات تبلیغی خدمات انجام دینے کے لیے آپ مقام کوٹواری ضلع بلیا یوپی تشریف لے گئے اور وہاں پر ۲۸؍ رجب المرجب ۱۳۷۲؁ ھ مطابق ۱۳؍اپریل ۱۹۵۳ ؁ء سے ۱۹؍ ذی قعدہ ۱۳۷۲؁ ھ مطابق ۳۱؍جولائی ۱۹۵۳؁ء تک اپنے فرائض منصبی بہ حسن و خوبی انجام دیے۔اس کے بعد فوراً حضور ممدوح نے آپ کو تدریسی خدمات کی انجام دہی کے لیے شہر بستی بھیج دیا۔
۲۲؍ ذی القعدہ ۱۳۷۲ ؁ھ مطابق ۳؍اگست ۱۹۵۳ ؁ ء کو انجمب معین الاسلام پرانی بستی ،شہر بستی یوپی میں درس نظامیہ کی تدریس کے لیے آپ کا تقرر عمل میں آیا۔اس ادارہ میں آپ تقریباً ڈھائی برس تک تدریسی خدمات انجام دیے۔پھرگنوار اراکین سے عدم موافقت کی بنیاد پر وہاں سے مستعفی ہوگئے۔
اجازت و خلافت از شیربیشۂ اہل سنت:۔انجمن معین الاسلام بستی کے زمانۂ تدریس میں مورد الطاف قدرت، شیر بیشۂ اہل سنت ،مظہر اعلیٰ حضرت مناظر اعظم ہند علامہ شاہ محمد حشمت علی خان لکھنوی ثم پیلی بھیتی رحمۃاللہ تعالی علیہ نے سلسلہ ٔ عالیہ قادریہ رضویہ اور سلسلہ ٔ عالیہ قادریہ برکاتیہ صادقیہ وغیرہ سلاسل مقدسہ کی اجازت و خلافت عطا فرمایا۔
  براؤں شریف میں تدریسی خدمات:۔انجمن معین الاسلام بستی سے استعفا دیے ہوے ابھی تین؍چار مہینے گزرے تھے کہ ادیب شہیر علامہ صابرالقادری نسیم بستوی علیہ الرحمہ کی نشاندہی پر شمالی مشرقی یوپی سدھارتھ نگرمیں اہل سنت کی مرکزی درس گاہ دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف کے بانی حضور شعیب الاولیاء شیخ المشائخ سیدی شاہ محمد یار علی لقد رضی المولیٰ تعالیٰ عنہ نے اپنی جوہر شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ کواسی ادارہ میں صدرالمدرسین کے عہدے پر فائز کیا۔
یکم ذی الحجہ ۱۳۷۵؁ھ مطابق ۱۰؍جولائی ۱۹۵۶ ؁ء سے ۲۰ ؍ شوال المکرم ۱۳۹۴؁ھ مطابق ۵؍نومبر ۱۹۷۵؁ء تک دارالعلوم فیض الرسول میں بحیثیت صدرالمدرسین تدریسی فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ دیگر فرائض منصبی بھی بہ حسن و خوبی نبھاتے رہے۔پھر بعض نامساعد و ناموافق حالات کی بنا پرآپ نے ۲۱؍ شوال المکرم ۱۳۹۴؁ھ مطابق ۶؍نومبر ۱۹۷۵؁ء کو تدریسی خدمات نیز دیگر تمام متعلقہ فرائض منصبی سے استعفا دے دیا۔
 اجازت و خلافت از مفتی اعظم ہند :۔جب آپ دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف میں بحیثیت صدرالمدرسین تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے انھیں دنوں  امام اہل سنت کے عرس سراپا قدس یعنی عرس رضوی کے سنہرے موقع پربریلی شریف تشریف لے گیے وہیں پر آپ کے مرشد بیعت حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے آپ کو سلسلہ ٔ عالیہ قادریہ رضویہ اور دیگر سلاسل مبارکہ کا مجاز بنایا۔
اعتراف نعمت:۔حضور شعیب الاولیاء علیہ الرحمہ کا وصال آپ کے زمانۂ قیام براؤں شریف ہی میں ہوا ۔ان سے آپ کو دینی تربیت میں بے پناہ قوت ملی ، چنانچہ آپ خود تحریر فرماتے ہیں ’’میرے زمانۂ قیام براؤں شریف میں حضرت سیدی شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے ۲۲؍محرم ۱۳۸۷؁ھ کا دن گزار کر تیئسویں محرم کی شب میں وصال فرمایامیں نے بفضلہ تعالیٰ گیارہ سال حضرت کی حیات مبارکہ کا زمانہ پایا جس سے میرے دین کی تربیت میں بہت کچھ مددملی‘‘۔
مدرسہ غوثیہ فیض العلوم بڑھیا میں تدریسی خدمات:۔دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف سے مستعفی ہونے کے بعد مدرسہ غوثیہ فیض العلوم بڑھیا ،کھنڈسری ،سدھارتھ نگر یوپی کے دور اندیش اور متحرک و فعال ارباب بست و کشاد نے اپنے ادارہ کی خدمت کے لیے آپ کو مدعو کیا ۔آپ ان کی دعوت پر بڑھیا تشریف لائے اور ۹؍ ذی قعدہ ۱۳۹۴؁ھ مطابق ۲۴؍نومبر ۱۹۷۵؁ ء سے تا دم آخر اسی ادارہ کو بام عروج تک پہنچانے میں ہمہ تن مصروف عمل رہے ۔
بحمدہ تعالیٰ آپ کی شبانہ روز کی مساعی جمیلہ اور خدمات جلیلہ نے بلا شبہ اس ادارہ کوتعلیمی ،تعمیری اور تبلیغی ہرلحاظ سے شہرت کے چو تھے آسمان پر پہنچا کرہی چھوڑا۔اور بلا مبالغہ آج بھی خصوصاً ہندوستان بالتخصیص صوبہ اتر پردیش میں یہ ادارہ فیضان غوثیہ کے طفیل آپ کے توسط سے قطعی محتاج تعارف نہیں ! فلحمد للہ علیٰ منہ و کرمہ۔
تصنیفات:۔(۱)سوانح اعلیٰ حضرت(۲)جواہرالمنطق،(۳)عروس الادب،(۴)تلخیص الاعراب،(۵)فیض الادب اول، (۶)فیض الادب دوم،(۷) تعمیر قواعد اول،(۸) تعمیرقواعد دوم،(۹)تعمیرادب قاعدہ،(۱۰)اول، (۱۱)دوم،(۱۲)سوم، (۱۳) چہارم، (۱۴)پنجم،(۱۵)نورانی گل دستہ،(۱۶)رسائل بدرملت(الجواب المتین،ردتقویۃ الایمان سے متعلق اہم دستاویز،نورانی فتویٰ،مقالۂ نورانی اورالجواب النورانی عن سوال الہمدانی، کا مجموعہ)(۱۷)عطیۂ ربانی درمقالۂ نورانی،(۱۸) الجواب المتین عن سوال محمدامین، (۱۹) تذکرۂ غوث وخواجہ،(۲۰)اظہارحق،(۲۱)تحقیقی جواب ۔۔۔ طوالت کاخوف دامن گیرہے بدیں سبب تلامذہ سے متعلق صرف اورصرف اتناہی کہناکافی ہوگا  ؎
کس کس کا انتخاب کروں کس کو چھوڑدوں
جو  ذرہ  جس جگہ ہے  وہیں آفتاب ہے
وصال: غالباً۲۸؍۲۹؍شعبان المعظم  ۱۴۱۲  ؁ھ کو، ملی درد  اور  دینی تڑپ کے پیش نظر آپ اپنے معتقدین و متوسلین کے اصرار پر بغرض دعوت وتبلیغ بڑھیا سے بمبئی کے لیے روانہ ہوئے ،الغرض !یکم رمضان المبارک  ۱۴۱۲؁ھ کوعروس البلاد کے خاص مقام کرلا محمدی اسٹیٹ (سی ایس،ٹی روڈ )پر واقع اپنے خاص اور متدین معتقدمخیر دین و ملت سیٹھ شاہ عالم صاحب کے یہاں قیام پذیر ہوئے، سردی،زکام اور ہلکے پھلکے بخار کے سبب آپ پر علالت کا غلبہ ہوا۔ضرورت کے مطابق علاج کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔یہاں تک کہ ۷؍رمضان المبارک کو آپ نے مہوا کے مولانا مبارک حسین صاحب سے ایک بکرا منگواکر صدقہ بھی کیا ۔ دن گزرگیا ۔افطار کا وقت آپہنچا ۔افطاری کیے۔مغرب کی نماز پڑھے بعدہ‘ معمول کے مطابق اورادووظائف میں مشغول ہوئے۔
’’مرضی مولیٰ ازہمہ اولیٰ‘‘رحمت الٰہی نے ’’ارجعی الیٰ ربک راضیۃ مرضیۃ‘‘کا مژدۂ جاں فزا سنایا اور اللہ جل مجدہ الکریم کے اٹل وعدہ ’’کل نفس ذائقۃ الموت‘‘کے مطابق ساتویں رمضان المبارک جمعہ کا دن گزارکربعد نماز مغرب بحالت اورادو وظائف مصلے ہی پراس  علوم و فنون کے آفتاب و ماہتاب نے اپنی ۶۳؍سالہ حیات مستعار میں تقریباً۴۰؍سال تک علم وفن کے جواہروزواہر لٹاتے ہوئے۸؍ رمضان المبارک ۱۴۱۲  ؁ ھ مطابق ۱۳؍مارچ ۱۹۹۲ ؁ ء ،بروزجمعہ بعد نماز مغرب اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کردیا ! اناللہ و انا الیہ راجعون !
آج کی طرح ذرائع ابلاغ نہ ہوتے ہوئے بھی اس سانحۂ ارتحال کی جاں کاہ خبر پورے ہندوستان بالخصوص اتر پردیش اور مہاراشٹر کے عروس البلاد ممبئی میںآنا فانا جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ،علمی طبقہ حیرت و استعجاب کے عالم میں ڈوب گیا۔عام معتقدین و متوسلین کے سروں پر بھی حیران کن کیفیتوں نے اپنی بساط سلطنت بچھا دیا۔ 
 جسدخاکی سے متعلق انتقال مکانی کے قوانین و ضوابط کے پیش نظر آپ کا جسدخاکی’’جے جے ہاسپٹل‘‘لایا گیا ۔اصولی کارروائیوں کے بعدپھول گلی ممبئی میں عام زیارت کرائی گئی ،کثیر تعداد میں عوام و خواص معتقدین و متوسلین خصوصاًعلما و فضلا کے جم غفیر نے اپنے عظیم محسن اوردینی رہنما کا اپنی ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے آخری دیدار کرتے ہوے الوداع کہا!
پھر حضرت علامہ محمد شمیم القادری صدرالمدرسین مدرسہ غوثیہ فیض العلوم بڑھیا اور الحاج نظام الدین صاحب گورکھ پوری (مقیم ممبرا ، تھانہ مہاراشٹر) کی نگرانی میں آپ کا جسدخاکی بمبئی سے بہ ذریعہ ہوائی جہاز لکھنؤ پہنچا ۔وہاں سے ایمبو لینس کی مدد سے بڑھیا لایا گیا۔اور بڑھیا ہی میں تجہیز وتکفین اور تدفین کی رسومات عمل میں آئیں ۔
ہرگزنہ میرد آں کہ دلش زندہ شد بہ عشق 
 ثبت است  بر  جریدۂ عالم  دوامِ  ما
 نماز جنازہ :۔آپ کی نماز جنازہ آپ کے برادر اصغر حضرت علامہ مولانا حکیم ابوالبرکات محمد نعیم الدین گورکھ پوری  علیہ الرحمہ سابق شیخ الحدیث دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف نے پڑھائی ۔بعدہ‘آپ کے حقیقی وارثین بہ شمول روحانی وارثین یعنی علما،طلبہ اور دیگر معتقدین و متوسلین نے آپ کو سپرد خاک کیا۔
سب کہاں ؟  کچھ !  لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں 
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی جو پنہاں ہوگئیں
چنداکابرعلما و مشائخ کے تأثرات:۔٭’’۔۔۔فقیر حقیرذوالقلب الکسیروالذنب الکثیرغفر لہ ربہ القدیر۔۔۔ نے برادردینی ویقینی محب سنیت عدو لامذہبیت گل گلزار رضویت مولانا بدرالدین احمد صاحب گورکھ پوری ادام اللہ فیضہ النوری کو مخلص و متصلب فی الدین اور اسلام و سنیت کا ناصر اور بد مذہبوں لا مذہبیوں بددینیوں کا کاسراور خلافت و اجازت کا مستحق ولائق باذن الرب الغافر پایا۔۔۔‘‘ فقیر:۔ابوالفتح عبیدالرضا محمد حشمت علی خان،۶؍شوال المکرم ۱۳۷۳؁ھ،بروز سہ شنبہ ) (معارف بدرالعلماء،ص:۱۷)
٭ ’’۔۔۔حصرت بدرالعلماء کی چند خوبیاں قابل ذکر پیں ۔آپ عقیدۃً مسلک کے اعتبار سے متصلب سنی اور سنی گر تھے۔سرکار اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز اور خانوادۂ رضویہ سے غایت درجہ عقیدت و محبت رکھتے تھے۔زندگی کے آخری ایام تک تدریس ، تصنیف اور تبلیغ کے ذریعہ ہدایات و تعلیمات اعلیٰ حضرت کو عام کرنے کے لیے ہمہ وقت فکر مند اور متحرک رہے۔زہدو تقویٰ میں علماے کبار کی روش پر سختی کے ساتھ کار بند رہے۔اپنے تلامذہ ،معتقدین اور متعلقین کو بھی شریعت مطہرہ کا پابند اور صالحین کا پیروکار بنانے کے لیے بیتاب اور مضطرب رہے۔اور اس راہ میں انتھک کوششوں کا مظاہرہ کرتے رہے۔حضرت مولانا کی تعلیم و تربیت بڑی بافیض اور اپنی مثال ؤپ تھی۔۔۔‘‘ فقیرمحمد اختر رضاقادری ازہری، ۲۱؍صفرالمظفر ۱۴۲۶؁ء ،یکم اپریل۲۰۰۵؁ء جمعہ مبارکہ (معارف بدرالعلماء،ص:۱۳)
٭’’حضرت مولانا مفتی بدرالدین احمد قادری رضوی ایک متدین عالم دین وکامیاب مدرس و مصنف اور عظیم مصلح تھے۔میرے پیر بھائی اور حضور مفتی اعظم علیہ الرحمۃ والرضوان کے اجل خلفاسے تھے۔فیض حضور مفتی اعظم علیہ الرحمہ سے اس قدر سیراب ہوے کہ تقویٰ و طہارت ،صدق و صفا ،زہدوورع کے جبل شامخ پر فائز تھے۔قلمی دنیا میں آپ کے قلم نے ملت کے سرمایہ میں کافی اضافہ کیا ہے۔آپ کے علمی اور قلمی شاہ کار پر آپ کی تصنیفات اظہر من الشمس ہیں۔آپ کے معتقدین آپ کو بدر ملت کے لقب سے ملقب کرتے ہیں میں سمجھتا ہوں یہ لقب بے جا نہیں بلکہ بجا ہے ۔کیوں کہ آپ اپنی خدمات دینیہ واشاعت مسلک اعلیٰ حضرت کے سبب واقعی دین و ملت کے بدر یعنی چودہویں کے چاند تھے‘‘  ۔فقیرمحمد صالح القادری البریلوی عفی عنہ، ۱۱؍جمادی الاخریٰ۱۴۲۷  ؁ھ ؍۸؍جولائی ۲۰۰۶ ؁ء بروز دوشنبہ (معارف بدرالعلماء،ص:۱۴)
٭’’۔۔۔حضرت العلام مولانا بدرالدین احمد صاحب رضوی علیہ الرحمہ اہل سنت کے عظیم عالم دین اورزہدو تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے ۔صاحب طرز مصنف بھی تھے۔مدارس اسلامیہ کے ابتدائی درجات میں آپ کی کئی تصانیف داخل نصاب ہیں ۔جن سے بچوں میں ترقی کی قوت پیدا ہوتی ہیاورذوق تحصیل بھی
دین کی بنیادی عقائد میں آپ کا تصلب بے مثل تھا۔بد مذہبوں کی گرفت اور ان کی رد میں آپ کو ملکہ حاصل تھا۔درس وتدریس میں آپ منصب کمال پر فائز تھے۔فیض الرسول براؤں شریف اوراس کی ترقی کے منصوبہ بندی سے لے کر اسے میدان عمل تک لانے میں آپ ہی خشت اول تھے۔۔۔‘‘ ضیاء المصطفیٰ قادری غفرلہ،  ۲۱؍محرم الحرام ۱۴۲۳؁ھ  (معارف بدرالعلماء،ص:۲۷)
٭’’حضرت علامہ مولانا بدرالدین احمد صاحب قبلہ قادری رضوی گورکھ پوری قدس سرہ اپنی جماعت کے ایک جلیل القدر عالم دین تھے ۔الحب فی اللہ والبغض فی اللہ ان کا شعار زندگی تھا ۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی عنہ ربہ القوی کے شیدائی و فدائی تھے۔اسی بنیاد پر انھوں نے بڑی عرق ریزی سے کتاب ’’سوانح اعلیٰ حضرت‘‘تصنیف فرمائی۔جو بہت زیادہ مقبول ہوئی۔اسلام و سنیت اور مسلک اعلیٰ حضرت کی تبلیغ و اشاعت میں ہروقت سرگرم عمل رہے۔۔۔‘‘جلال الدین احمد امجدی،۱۳؍ ذوقعدہ  ۱۴۱۹  ؁ھ (معارف بدرالعلماء ،ص:۲۷)
٭’’حضرت مولانا (بدرالدین احمد قادری رضوی گورکھ پوری )رحمۃاللہ تعالی علیہ کو میں ان کی تصنیفات کے توسط سے جانتا تھا ۔پہلی بار ملاقات کا شرف اس وقت حاصل ہوا جب ۱۴۰۷ ؁ھ مطابق ۱۹۸۷ ؁ء میں ’’مجلس شرعی ‘‘ مبارک پور کی شرکت کے بعد ’’براؤں شریف ‘‘حاضری کا کا اتفاق ہوا۔میرا قیام اشتاذ گرامی امام علم و فن حضرت خواجہ صاحب مدظلہ کے کمرے میں تھا ۔رات کے تقریباً گیارہ بجے تھے۔کہ حضرت مولانا رحمۃاللہ علیہ اچانک تشریف لاے اور سلام مصافحہ کے مجھ سے فرمایا:’’میں ابھی تھوڑی دیر پہلے آیا ہوں اور علی الصباح چلا جانا ہے ۔اس لیے اسی وقت زحمت دینے چلا آیا۔طلبا اور علما کے ذریعہ آپ کا تذکرہ سنتا چلا آیا ہوں ۔رسالوں میں چند ایک مضامین بھی پڑھے ہیں۔ آج یہ پہلی ملاقات ہے ۔پھرتقریباً ایک گھنٹے تک مختلف موضوعات پر دینی و علمی گفتگو فرماکر تشریف لے گیے۔حضرت مولانا تو تشریف لے گیے اور میرے دل پر اپنے علم و فضل، اخلاق و انکسار اور بزرگی و خرداں نوازی کے تابندہ نقوش ثبت کرگئے۔۔۔‘‘ {فقیر محمد مطیع الرحمن رضوی غفر لہ ، ۶؍رجب المرجب ۱۴۲۵  ؁ھ (معارف بدرالعلماء ،ص:۲۹}
٭’’۔۔۔استاذ گرامی حضرت بدر ملت علیہ الرحمہ کی سادہ زندگی ایک کھلی ہوئی کتاب تھی ۔ہروقت اپنے قول وعمل اور کردارو گفتار سے اہل سنت کی تعمیرواصلاح ہی کی دھن میں مست رہتے تھے ۔اور الحب فی اللہ والبغض فی اللہ کا عملی نمونہ تھے۔اپنے آنے والوں میں عقیدہ و عمل کی جوبھی خامی اور کمزوری ملاحظہ فرماتے بلا خوف لومۃ لائم اس پر تنبیہ فرماتے۔{محمد قدرت اللہ رضوی غفر لہ القوی، ۶؍ ذو ی الحجہ  ۱۴۱۹  ؁ھ (معارف بدرالعلماء ،ص:۳۱}
مزارشریف :۔آ پ کا مزارمقدس مدرسہ غوثیہ فیض العلوم کے ٹھیک پچھم طرف آپ کی تعمیر کردہ ’’مسجد غوثیہ ‘‘سے متصل دکھن جانب لب روڈ مرجع خلائق اور منبع فیوض وبرکات ہے۔آپ کی نورانی تربت پر تعمیر شدہ ہرا گنبد ہرخاص و عام کو دعوت نظارہ دیتا ہے۔ہرسال عرس کے موقع پر اسے دولہن کی طرح سجادیا جاتاہے۔اس کی نورانیت سے دلوں پرایک عجیب سی کیفیت طاری ہوتی ہے جس کی سرمستیاں ہر کس و ناکس کو فطرتاً اپنی آغوش کرم میں لے لیتی ہیں ۔
عرس مقدس :۔اسلامی تاریخ کے حساب سے ہرسال ۷؍رمضان المبارک کو آپ کا عرس مقدس بہ نام ’’عرس بدرالعلماء‘‘ آپ کے نورنظر لخت جگر حضرت العلام مولانامفتی محمدرابع نورانی میاں کی خوب صورت قیادت میں نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ جس میں ہند و نیپال کے مشائخ ذوی الاحترام ،علماے اعلام ،طلبۂ کرام ،خطباے عظام ،شعراے اسلام اور دیگر عوام وخواص بہ کثرت شریک ہوکر اللہ جل جلالہ و رسول اللہ ﷺ کے ذکرجمیل کے ساتھ ساتھ آپ کے ایک عظیم محسن ہونے کا گن بھی گاتے ہیں ۔مغرب و عشا کے درمیان قل شریف کا روح پرور منظر قطعی قابل دید ہوتا ہے۔خصوصاً اس سہانے موقع پر شرکا آپ کے فیوض و برکات سے مالا مال ہوتے ہیں ۔(تفصیل کے لیے آپ جلدہی دیکھیں گے راقم الحروف کی( دوسوصفحات پرمشتمل) ترتیب’’ سوانح بدرملت‘‘)
فنا کے بعد بھی باقی ہے شان  رہ بری تیری 
ہزاروں رحمتیں ہوں اے امیر کارواں تم پر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Comments