تحریر:مولانا محمد قمر انجم قادری فیضی
تاریخ کتب کو عمق نظری سے مطالعہ کرنے سے یہ بات روز روشن کی طرح آشکارا ہوکر سامنے آجاتی ہے کہ جب سے دنیا آباد ہوئی ہے تب سے آمدورفت کا سلسلہ آب رواں کی طرح جاری جاری وساری ہے بعض بلبلیں شاخ چمن پر بیٹھتی ہیں اور اپنی دلکش ومترنم آوازسے چہچہاتی ہیں اور پھر اڑ کر چلی جاتی ہیں بعض بلبلوں کے چہچہےبےنام ہوجاتے ہیں جنکء چہچہے کہرام برپا کردیتے ہیں انہیں سے پورا چمن گونچ اٹھتاہےلیکن نصیب اپنا اپنا، بعض آنے والے آکر بھی نہیں آتے اور بعض جانے والے جاکربھی نہیں جاتے، وہ لوگوں کے قلوب واذہان میں شمع حیات بن کر برقرار رہتے ہیں ان کی یادیں لوگوں کے دلوں میں پیوستہ رہتی ہیں ظاہری دنیا سے وہ ضرور روپوش ہوجاتے ہیں
لیکن وہ ہمیشہ نظر آتے رہتے ہیں کبھی کتابوں کےصفحوں پر تو کبھی دانش گاہوں میں، تو کبھی اسکولوں میں، تو کبھی کالجوں میں تو کبھی علمائے کرام کی یادگار محفلوں میں ،خلاصہ یہ ہے کہ ان کی رشدوہدایت کا لامتناہی سلسلہ منقطع نہیں ہوتا ان کی پاکیزہ شعار زندگی شاہراہ شوق کےلئے طریق منزل ہوتے ہیں، اُنہیں جانے والوں میں ایک شیریں اور پاکیزہ ومتبرک نام و معتبر شخصیت صاحب طرزادیب امام النحو ولئی کامل صوفئی باصفا،استاذالشعراء عاشق رسول، وفنا فی الرسول حضرت علامہ مولانا عبدالرحمن جامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات والا صفات ہے،
23 شعبان المعظم 817ھجری مطابق 16 نومبربروزچہارشنبہ بوقت عشاء سرزمین جام میں آپ کی ولادت باسعادت ہوئی،
آپ کا نام عبدالرحمن ہے اور لقب عمادالدین ہے، نیز تاریخی نام نورالدین ہے اور تخلص جامی" ہے،
آپ کے والد گرامی اسم شریف "احمد'ہے
والدہ ماجدہ حضرت امام محمد بن حسن شیبانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نواسی تھیں، آپ سراج الائمہ استاذالفقہاء حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگردخاص اور امام محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل پاک سے تعلق رکھتے ہیں،
*جامی کی وجہ تسمیہ*
جامی کی وجہ تسمیہ کے دو اسباب بتائے جاتے ہیں، اول یہ کہ آپ نے قصبئہِ جام کو اپنا مولدومسکن بتایاہے دوم یہ کہ آپ کے پیرومرشد حضرت علامہ شیخ الاسلام احمد جامی سےآپ کا نسبتی تعلق تھا، جس کا اظہار آپ نے اپنے اشعارمیں یوں پیش کیاہے،
"مولدجام و رشحئہءِ قلم"
"جرعہ جام شیخ الاسلام است"
"لاجرم در، جریدہءِ اشعار"
"بدو معنیٰ تخلصم جامی است"
"حصول تعلیم"
ابتدائی تعلیم والد گرامی سے حاصل کی،
تعلیم کے بعد شہر ہرات کے مشہور و معروف مدرسہ میں داخل ہوئے یہ مدرسہ وقت اپنے وقت کا علم و ادب کے معاملے میں عظیم مراکز میں شمار ہوتا تھا وہاں تعلیم حاصل کرنا شروع کیاآپکے اساتذہ خواجہ علی سمرقندی تلمیذمیرسید شریف جرجانی ،مولانا شہاب الدین محمد جاجرمی،تلمیذعلامہ سعدالدین تفتازانی علیہم الرحمہ سے استفادہ علم کرتے رہے وہاں سے فارغ ہونے کے بعد والدگرامی کے ہمراہ سمرقندروانہ ہوۓ،وہاں تشریف لانےکےبعدکمالات کی منزلیں طے کرنا شروع کر دی ،
شیخ فتح اللہ تبریزی سے علم حاصل کرتے رہے تشنگئ علم دور نہ ہوئی لہذا قاضی زادہ روم کے درس میں شریک ہوئے ،قاضی روم اکثر فرمایاکرتے تھےجب سے سمرقند آباد ہوا ہے تب سے جامی جیسا ذہین و فطین میری آنکھوں نے نہیں دیکھا،
اس کے بعد جنداصولی کےنا جہاد وصولی کےحلقہءِ درس میں شریک ہوئے شریک ہوئے اس دور میں آپ کی ذکاوت و ذہانت خداداد صلاحیت کا یہ عالم تھا کہ آپ مولانا جند وصولی سے پڑھتے نیر دیگرطلباء بھی شریک رہتےلیکن ان طلباءکوبعد میں خود سمجھاتے تھے ،
مُلا علاالدین قوشجی شارح تجرید سے مباحثہ ہوا،آپکوفتح حاصل ہوئی یہاں تک کہملاعلاء الدین قوشجی کو اپنے طلباء سے کہنا پڑا کہ مجھے یقین ہو گیا کہ نفس قدسی سی عالم میں موجود ہے ،،،
*روحانی تربیت *
روحانی تربیت میں جن اہل اللہ نے حصہ لیا ہے وہ اپنے عہد کے ممتاز صوفیاء کرام میں سے تھے حضرت علامہ سعد الدین کا شغری آپ وہ پہلے بزرگ ہیں جن کی نگاہ کرم نے علامہ جامی جیسے جوہر کو منتخب فرماکر روحانیت کی دنیا میں روشناس کرایا ،حضرت عبید اللہ احرار نے آپ کو بے حد متاثر کیا عبیداللہ احرار کے نگاہ میں آپ اترتے چلے گئے، اور روحانیت کی رفیع الدرجات منزلیں طے کرتے رہے حضرت عبیداللہ احرار سلاطین تیموریہ کی روحانی تربیت کر رہے تھے علامہ جامی خواجہ احرار کے خانقاہ میں قیام پذیر ہوئےاور شاہان تیموریہ کے مخدوم بن گئے ،،،،
*عشق رسولﷺ*
سرورکونین صلی اللہ تعالی وسلم کے ایسے عاشق صادق تھے تازیست یہ دریا سینے میں موجزن رہا،عشق رسول ﷺ آپ کے رگ و پے میں سمایا ہوا تھا جس کا اظہار آپ کی زبان و قلم سے اکثر و بیشتر ہوتا رہتا تھا یہ آپ کا دیوان شاہد عدل ہے
عربی وفارسی کامِلاجُلاشعر ہے،
(۱) احسن شوقا الی دیارلقیت فیہا جمالی سلمی*
کہ می رسانندازاں نواحی پیام وصلت بجانب ما*
(۲)زہےجمال تو قبلہ جاں حریم کوۓتوکعبہءِ دل*
فان سجدنا ایاک نسجدوان سعینالک نسعی*
ان اشعارمیں ایک ادبی حسن یہ ہے کہ پہلا مصرع عربی میں تو دوسرافارسی میں ہے
اور پہلا مصرع فارسی میں ہےتو دوسرا عربی میں ہےاس سے صاف ظاہر ہےکہ آپ کو دونوں زبانوں پریکساں قدرت حاصل تھی جس کا مظہر آپ کے بے شمار اشعار ہیں
آپ کی تصانیف دونوں زبانوں میں موجود ہیں آپ فارسی شعراء کے مابین ایک ممتازومنفردمقام رکھتے ہیں فارسی کے بلند پایہ شعراء حضرت شیخ سعدی حافظ شیرازی اور مولاناروم وغیرہ میں آپ کا شمار ہوتا ہے بلکہ عشق رسولﷺ نے آپ کی شاعری میں چار چاند لگا دیۓ ہیں
*سفرحج*
آپ کی دیار نبی ﷺ میں حاضری روحانی زندگی کی خصوصی واقعات میں سے ہے
877 ہجری میں زیارت حرمین شریفین کو روانہ ہوئے اس وقت آپ کی عمر ساٹھ سال کی تھی دو ماہ کی مدت کے بعد بغداد شریف پہنچے وہاں حضرت علی کرم اللہ تعالی وجہ الکریم کے روزے مبارک کی زیارت فرماتے ہیں پھر وہاں سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے آپ جس جذب و مستی کےعالم میں بارگاہ رسول
اللہ ﷺ میں حاضری کے لیے جاتے ہیں تو اس میں سیدالطائفہ حضرت جنید بغدادی ،حضرت بایزیدبسطامی علیہمالرحمہ کاادب بھی ہے اور حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہ کی کا رقت و ولوہیت بھی ہے کچھ اشعار تالیف کرکے سید عالم صلی اللہ وسلم کے مواجہ شریف میں پڑھنے کا ارادہ دل میں لیے جارہے تھے، وہ اشعار یہ ہیں،
(۱)* زمہجوری برآمدم جان عالم *
*ترحم یا نبی اللہ ترحم*
(۲)* نہ آخر رحمتہ للعلمین*
* زمحروماں چرا غافل نشینی*
(۳)*زخاک اۓ لاالہ سیراب برخیز *
*چوں نرگس خواب چندازخواب برخیز*
(۴)*بروں آور سر از بود یمانی"
*کہ روۓ نیست صبح زندگانی*
(۵)* بحسن اہتمامت کار جامی*
*طفیل دیگراں یا بد تمامی *
*ترجمہ*
اس کا ترجمہ یہ ہے
(۱) آپ کے فراق کائنات عالم ذرہ جاں بلب ہےاور دم توڑ رہا ہےاۓ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کرم فرمائیۓ،
اۓ رحمت اللعالمین رحم فرمائیۓ
(۲)آپ یقیناًرحمتہ اللعالمین ہیں ہم حرماں نصیبوں پر اور ناکامان قسمت سے آپ کیسے تغافل کر سکتے ہیں،
(۳) اۓلالہءِ خوش رنگ اپنی شادابی و سیرابی سے عالم کو مستفید فرمائیۓ اور خواب نرگس سے بیدار ہو کر ہممحتاجان ہدایت کے قلوب کو منور فرمائیۓ،
(۴) اپنے سرمبارک کو یمنی چادروں کے کفن سے نکالئے کیونکہ آپ کا روۓانور صبح زندگانی ہے،
(۵)آپ کے حسن اہتمام اور سعئ جمیل سے دوسرے مقبول بندگان خدا کے صدقے میں غریب جامی کا بھی کام بن جائے،
مندرجہ ذیل اشعار بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں پہنچ کرمواجہ اقدس میں ھکڑےہو کر پڑھیں گے لیکن جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچےتوسرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کو خواب میں حکم فرمایا کی جامی آرہا ہے اس سے کہہ دیناکہ یہ اشعار مواجہ شریف میں نہ پڑھے،
"خواہم ازشوق دست بوس توبردست بیروں کن از یمانی برد"
یعنی اس کی خاطردست مبارکہ قبرشریف سے باہر نکالنا پڑے گا جس سے فتنہءِ عظیم برپاہونےکاخطرہ ہے چنانچہ آپکواناشعار کو پڑھنے سے منع کردیا گیا،
* تصنیف و تالیف *
آپ نے عربی و فارسی زبان میں منظومومنثورتصانیف کا ایک واقیع وقابل تحسین وآفرین ذخیرہ یادگار چھوڑا ہے چنانچہ آپ کی کل تصانیف کی تعداد 54 بتائی گئی ہےآپنے جس فن پر قلم اٹھایااور جس صنف سخن کو اپنایا اس کو کمال تک پہنچایا ہے خواک قصیدہ ہویاغزل مثنوی ہو یا رباعی ،
آپ کی وہ کتاب جس کا نام *لوامح جامی* ہے
محتاج تعارف نہیں ہے جو آپ کی قابل قدر عقلمندی ودانشمندی فہموفراست کامنہ بولتا ثبوت ہے جو چند رباعیات پر مشتمل ہے آپ کی مشہورزمانہ اور تالیف جلیلہ *الفوائدالضیائیہ فی الشرح الکافیہ*
اہنے موضوع پر فقید المثال اور آفاقی شہرت کی حامل تصنیف ہے آپنے عربی وفارسی زبان میں کثیر تصانیف یادگار چھوڑی ہیں جو مختلف علوم و فنون پر مشتمل ہےان تمام کتب کےدرمیان شرح کافیہ المعروف شرح جامی کو جومقبولیت عامہ حاصل ہے وہ محتاج تعارف نہیں،
نہحویں مباحث کو اس کتاب میں ایساعقلی رنگ دیا ہے جو خوب استعداد اور اعلی صلاحیت پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے،
سینکڑوں سال کیا،جب سے درس نظامی کا آغاز ہوا ہے تب سے لے کر تادم تحریرداخل نصاب ہے،جس کو پڑھ کر علم نحو میں کامل تحقیق ہو جاتی ہے ،
*وفات*
وفات 898ہجری مطابق 18 محرم الحرام جمعہ کے دن شہر ہرات میں وفات ہوئی آپکی عمر 81 سال کی ہوئی تھی،جولفظِ (کاس) کے اعداد ہیں
شہر ہرات میں آپکودفن کیا گیا،آپ کی تاریخ وفات آیت کریمہ* ومن دخلہ کان آمناً*
بعض شعراء کرام نے اس کو اس طرح بیان کیا ہے *جامی کی بود بلبل جنت بشوق رفت*
*کلک قضانوشت بدروازہءِ بہشت*
ابر رحمت تیری مرقد پر گہر باری کرے
حشرتک شان کریمی ناز برداری کرے
* مراجع ومصادر*
(۱) جامع الغموض (۲)شواہد النبوہ (۳)عرفان اور تصوف (۴)نفحات الانس(۶) نوادرالنعیمی


0 تبصرے