Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

حضور انجم العلماء کا تدریسی مقام اور تعلیمی نظریہ

تحریر:مولانا محمد قمر انجم قادری فیضی

یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ خاکِ  ہندکی خمیرمیں علم وحمکت فضل وکمال ،فکروفن، دانائی اور بینائی، تدبروفکر،عقل وشعور،جیسی بےشمار خوبیاں ملی ہوئی ہیں
وہ بلند اقبال بقعئہ ارض ہےکہ ہر قرن اور ہر دوروعصرمیں یہاں سے ایسے انسانی قافلےتیار ہوئے ہیں جو پوری ملت اسلامیہ کےلئے قابل فخر سرمایہ کہلائے، 
جبین انسانیت پر دلکش جھومربنے اور دنیائےعلم وادب میں صدرمجلس رہے، ہندوستان کا وہ خطہ جسے آج "اترپردیش"کہاجاتاہے اسی مردم خیزعلم پرور اور قابل صدافتخارزمین سےبےشمار نامورعلماء فضلاء ادباء اور مؤرخین ومحققین مفسرین محدثین ومجددین پیداہوئے، اور لاتعداد اولیاء اصفیاء زہاد، عباد، فقہاء خطباء، نےجنم لیا جن کی دینی،ادبی علمی، دعوتی تبلیغی، اصلاحی، سیاسی، مذہبی اورسماجی خدمات کو تاریخ میں نمایاں مقام حاصل ہے،

*قاضی بگولہوا*
مشرقی اترپردیش کا مشہورومعروف ضلع سدھارتھنگرکےایک نامورشہر"شہرت گڑھ"سےتقریباً 5 کلو میٹر دورشمال کی طرف قاضی بگولہوا آبادہے
جہاں سے1950ء میں ایک عبقری اور ہمہ جہت  شخصیت نے منصئہ شہودپر جلوہ گری فرمائی،

جس کی گیسوئے علم وحکمت ،تدبرودانائی کی عطر بیزی سے ایک عالم معطر اور مشک بار ہورہاہے ،محراب ومنبر سے لےکر ایوان سیاست واقتدارتک جسکےعلم ووفن کی خوشبو پھوٹ رہی ہےجسے دنیاعظیم المرتبت خطیب جلیل القدرمفسر،بلندپایہ مفکر،عدیم المثال انشاء پرداز، نابغہءِ روزگار عبقری وقت مبلغ دین متین، حامئی سنیت، ماحئی بدعت خلیفئہِ مظہر شعیب الاولیاء انجم العلماء مفسرقرآن علامہ الحاج الشاہ سیداحمدانجم عثمانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کےنام سے جانتی اور پہچانتی ہے، 


آپ 2 جنوری 1950ء سرزمین قاضی بگولہواتحصیل شہرت گڑھ ضلع سدھارتھنگر یوپی میں پیدا ہوئے، 
اور 28 مارچ 2006 ء مطابق 27 صفرالمظفر1426ھجری کو اس دارفانی سےاور عالم ناپائدار کو خیرباد کہہ گئے، 
اگر چہ 14 سال کا طویل عرصہ گزر چکاہے مگر ملک کےطول وعرض میں لاکھوں عوام وخواص، علماء ادباء شعراء فضلاء، اور اساتذہ وتلامذہ مریدین ومتوسلین، کے قلوب واذہان میں آپ آج بھی زندہ وتابندہ ہیں، 
آپ کی ہمہ گیر مقناطیسی شخصیت، علمی وجاہت، فکری سطوت، طبعی بشاشت، ایسی نہ تھی کہ کوئی ایک بار آپ سے مل لیتا، تو پھر آپ کو بھلادیتا، یہ جاگتی آنکھوں کا مشاہدہ ہے، کہ مخالفین و حاسدین بھی جب آپ سے ایک بار ملاقات کرلیتے تو ان پر بھی آپ کی شخصیت کا ایک انمٹ نقش ثبت ہوجاتا، پھر وہ تلامذہ آپ کو کیسے اور کیوں فراموش کرسکتے ہیں جنہوں نے آپ کی علمی جلالت وتدریسی کردار کی عظمت و سطوت اور طبیعت کی بشاشت وظرافت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے

جن کے سامنے آپ کی دلآویزپربہاراور پُر اثر شخصیت کا ایک پہلو آج بھی روز روشن کی طرح عیاں اور بیاں ہے جو آج بھی خوش طبعی اور آپ کی پُرلطف زندگی سے بھر پورلطائف وظرائف کو یاد کرکے اپنے غموں کو دور بھگادیا کرتے ہیں، 
آپ ان معدود چند اساتذہ ءِ کرام میں سے ہیں جنہوں نے فرائضِ تدریس کو عبادت سمجھ کر ادا کیا، آپ نے عمر عزیز کےشب وروز محض تدریس میں صَرف کردئیے وعظ و خطابت اور تصنیف وتالیف کی طرف کم توجہ فرمائی، 
درج زیل سطورمیں آپ کی چند تدریسی خصوصیات پیش کی جاتی ہیں، جن سے آج کے علماء کرام درس وتدریس کا طریقہ وسلیقہ حاصل کرسکتے ہیں، 

(1)☜متعدد بار درسی کتب پڑھانےکےباجود مطالعہ کرکے پڑھاتے پھر یہی نہیں کہ کتاب پر ایک سرسری نظر ڈالتے بلکہ غائرانہ نظر سے ملاحظہ فرماتے، 
یہی وجہ تھی کہ آپ ہر دفعہ نئے نئے مضامین نئے نئے انداز میں پڑھاتے، 

(2)☜طلبہ سے مطالعہ کی سخت پابندی کرواتے، کسی طالب علم کےمتعلق اگر محسوس کرلیتے کہ اس نےمکمل  طورسے مطالعہ نہیں کیا ہے تو اسے اچھی طرح سرزنش فرماتے، اسی لئے آپ کے درس میں غیرمحنتی طالب علم کی گنجائش کم ہوتی، 
عبارت پڑھنے والا طالب علم ہر روز پہلے سے زیادہ سخت بازپرس اور جواب دہی کی کیفیت سے گزرتا تھا، 

(3) ☜مشکل سے مشکل مسئلہ کو اِس خوش اسلوبی اور فنکارانہ چابک دستی سے بیان فرماتے کی اس مسئلے کے مشکل ہونے پر اعتبار نہیں ہوتا اندازبیان ایسا پاکیزہ اور سہل ہوتا کی ہر بات دل دماغ میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی ،

(4)☜جب تک پڑھنے والے کو شرح صدر حاصل نہ ہو جاتا اس وقت تک آپ کو اطمینان حاصل نہ ہوتا ،بعض اوقات طلبہ کسی مطلب کی تکرا رکو طوالت سمجھنے لگتے، لیکن آپ کے پیش نظر ہر قسم کے طلبہ ہوتے تھے، اسی لئے آپ بالکل اکتاہٹ محسوس نہیں کرواتے، حد تو یہ ہے کہ آپ کی نظرعبارت کےہر گوشے پر ہوتی تھی  اور اس بات کو روا نہیں رکھتے کہ کسی پہلو کو نظر انداز کر دیا جائے، 

(5) ☜طلباء کے سامنے ان کی تعریف و توصیف نھیں کرتے چاہے وہ کتنا ہی لائق و فائق کیوں نہ ہو، ہاں خاص کر وہ طالب علم جو آپ کی زیادہ خدمت کرتا، اسکی بہت کم رعایت کرتے، اسکا اثر یہ ہوتا کہ طلبا میں خواہ مخواہ غرور وتکبر پیدا نہیں ہوتا
(6)☜تعلیمی علوم کے ساتھ ساتھ طلباء کی اخلاقی، عملی، واصلاحی توجہ فرماتے اور اکثر کمزوریوں کی نشاندہی فرما کر اخلاق صالحہ اور اعمال حسنہ کی تلقین  فرماتےرہتے،

ایک مرتبہ ایک شاگرد ایک جگہ پر تدریس کےلئیے جانے لگا تو آپ نے دیگر ہدایات کے علاوہ خاص طور پر فرمایا، طلباء سے اوقات تدریس کےعلاوہ زیادہ اختلافات نہ رکھنا ،اس سے بہت سی خرابیوں کے ظہور ہونے کا خطرہ رہتا ہے، دور طالب علمی میں تمام طلباء سے بےتکلفی اور عام اختلاط ہوتا ہے اسی لیے دوران تدریس میں اس عادت کا چھوڑنا تھوڑا دشوار امر ہے ،
مزید فرمایا کہ اگر ہو سکے تو اپنے کپڑے خود بھی دھو لیا کریں، 

(7)☜دوران تدریس مناسبت مقام سے اختلافی مسائل کی تحقیقی  بیان فرماناآپ کی امتیازی خصوصیت ہے، ہر مسئلے کو شرح و بسیط سےبیان فرماتے،، مخالفین کے شبہات کا رد اور اہل سنت الجماعت کے دلائل وبراہین کو زوردار طریقے سے بیان فرماتے، اسکےعلاوہ مسئلہ نور، علم غیب، حاضر و ناظر وغیرہ مسائل کا نہایت مدلل ومبرہن انداز میں بیان فرماتے،

 یہی وجہ ہے کہ آپ کے تلامذہ نہایت راسخ الاعتقاد 
واقع ہوئے ہیں ،اور مسلک اہلسنت والجماعت کے پرجوش مبلغ اور ترجمان مسلک اعلی حضرت ہیں، 

آپ کا علمی فیضان آج پورے ملک ہند، وبیرون ہند جاری و ساری ہےآپ کی تدریسی لیاقت وصلاحیت کا زمانہ معترف ہے اپنے اور بیگانے علماء مشائخ اور دانشوران قوم ملت سب آپ  کے تدریسی تعلیمی عظمت و رفعت کے مداح ہیں، بلاشبہ آپ کے تدریس کی یہ نمایاں خوبی تھی کہ نہایت ذہین و فطین تلامذہ اور طلبہ کے ساتھ کندذہن شرکاء درس کو بھی مکمل سیراب فرماتے ان کے قلوب و اذہان میں مسائل و مضامین کو نقش کالحجر فرما دیتے، حقیقت یہ ہے آپ صرف پڑھاتے ہی  نہ تھےبلکہ  گھول کر پلاتے بھی تھے،

 آپ کمالات و فضائل کاعطر مجموعہ اور ہمہ جہت شخصیت کا حسین گلدستہ تھے، آپ ایک مومن کامل اور علمی کمال کے ساتھ عمل صالح اور خلوص کے بھی حامل تھے، آپ علم وحکومت کے اسرار ورموز کےایسے شناور تھے،کہ تعلیم وتربیت، تدریسی مہارت نیز نونہالان قوم و ملت کو زیورعلم وفن سےمزین کرنے میں دستگاہ حاصل تھی ،

ظاہرہےکہ جو علمی کمالات محاسن کی ایسی بلندقدآور خصوصیات سے سرفراز ہو کر ملک و ملت کےاندرعلمی ماحول برپا کرنے کا تصورنہایت اعلی اور پاکیزہ رکھے گا، تو اسکے تراشے ہوئے ہیرے بھی گوہرِ آبدار ہونگے، اور اسکا نظریہءِ تعلیم وتعلم بھی آسمان کی رفعت و بلندی پر ہوگا ،

آئیے ،حضور انجم العلماء کے نظریہءِ تعلیم کا مطالعہ کریں اور ان کی جلوؤں سے اپنی محفل کو پرنور بنائیں، 

زمانےکے بدلتے حالات نےعروج زوال، نیز ترقی و تنزلی کا معیار اکثر بدل کررکھ دیاہے،تہذیب و تمدن اور تعلیم و ثقافت سے لیکر حرفت و تجارت کے پیمانے اتھل پتھل ہو گئے ہیں، 
آج تعلیم کوصرف اور صرف مال و زر ،مادی عیش وعشرت اور آسائش کےطرب انگیز اسباب کےحصول کیلئےاستعمال کیا جانےلگاہے،

خالق کائنات کو رزّاق ماننے کے بجائے، تعلیم کو ہی رزاّق قرار دیا جارہاہے، 
مگر آپ کا نقطۂ نظر یہ تھا،کہ تعلیم  وہ حاصل کرو جو خوف خدا لائے ،تعلیم حاصل کرنےکا مقصد 
اتباع شریعت کرنے اور رضائے مولیٰ حاصل کرنے کے لئے ہو،اور انسان اس میدان میں نیت خیر لےکرآئے، 
چنانچہ آپ ارشاد فرماتے ہیں، 

 طالب علم اگر اچھی نیت سےہوتوہرعمل خیر سےبہتر ہے،کیونکہ اُس کانفع سب سے زیادہ ہے
مگر یہ ضروری ہے کی فرائض کی انجام دہی میں خلل ونقصان واقع نہ ہو،

اچھی نیت کا مطلب یہ ہے کہ رضائے الہی اور آخرت کےلئے علم سیکھے،طلب دنیاوطلب جاہ نہ ہو،

اورطالب کا اگرمقصد یہ ہے کہ میں اپنے سے جہالت کو دور کروں گا، اور مخلوق خدا کو نفع پہنچاؤں، یا پڑھنے سے مقصود علم کا احیاء  ہےتو یہ بھی اچھی نیت ہے، 

آپ کی کی نگاہ ایمان و عرفان میں سب سے زیادہ علم کی اہمیت و افادیت حاصل تھی آپ بخوبی جانتے تھے کہ اس لئے اسلامی گہوارہ میں نشونما پانے والے نونہال پہلے مسلمان ہیں،پھراورکچھ اس لئیے کہ ان طلباء کا علمی سفر دینی تعلیم سےشروع ہو،اور ان کے قلوب و اذہان کی تعمیر اسلامی تعلیم و ہدایات کی روشنی میں ہو، اور ان کا اولین فکری سرمایہ علوم دینیہ کی شکل میں ان کے پاس موجود ہو، 

چنانچہ آپ ارشاد فرماتے ہیں سب سے پہلے یہ مقدم ہے کی بچوں کو قرآن مجید پڑھائیں، اور دین کی ضروری باتیں سکھائیں،روزہ نمازحج زکوة،اور طہارت ربیع اجارہ ودیگر معاملات کے مسائل جس کی روزانہ حاجت پڑتی ہے، ناواقفی کی وجہ سے خلاف شرع عمل کرنے کے جرم میں مبتلا ہو جاتے ہیں، 

لہذا ان کی تعلیم اچھے سے ہو، اگر دیکھیں کی بچہ کو علم کی طرف رجحان ورغبت ہے اور بچہ سمجھدار ہے تو اسکے لئے علم دین کی خدمت سے بڑھ کراور کیاکام ہے اگر استطاعت نہ ہوتو صحیح تعلیم، عقائداور ضروری مسائل کی تعلیم کے بعدجس جائز کام میں چاہیں لگائیں آپ کو اختیارحاصل ہے
اس زمانے میں علم دین کی عظمت ورفعت اور وقعت لوگوں کے دلوں میں بہت کم باقی ہے اہل علم اس قسم کی باتوں کی طرف توجہ نہیں دے رہے ہیں جسکی بہت سخت ضرورت ہے جس سے علم کی عظمت ورفعت پیداہو،
اس طرح ہر گز تواضع نہ کی جائے کہ علم و اہل علم کی عزت وتعظیم میں کمی پیداہو،

ارباب علم و فن کا اس بات پر تقریبااتفاق ہے کہ علوم وفنون کی تعلیم وتعلم کسی فلک بوس سنگ مرمر سے مزین کسی تاج محل اور وہائٹ ہاؤس پر موقوف نہیں ہے اگر عمارت نہ بھی ہو تو اعلی اور معیاری تعلیم ممکن ہے، یوں ہی اچھی اور عمدہ کتاب وجامع نصاب کے بغیر بھی بالغ نظرعلماء فضلاء ادباء، شعراء وجود میں آسکتے ہیں، 

مگر ایک باکمال اور باصلاحیت اور کردار سازاستاذ ومعلم کے بغیر یہ بہت مشکل ہےکہ طلبہ آفتابِ حکمت و دانائی اور ماہتابِ فضل فضل وکمال بن کر دین اسلام کو نورعطا کریں اور دین اسلام کی ترویج واشاعت کرسکیں، مزید فکروفن کےگلاب لالا و نسترن سے فضائے بسیط کو خوشگوارکر سکیں، 

استاذ نسلوں کی عظمت وبلندی اوراقوام وملل کی عظمت رفتہ کی بازیافت میں کلیدی کردار اور مرکزی حیثیت کا حامل ہوتاہے، 

حضورمصدرعلم وفن صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی مصنف بہار شریعت علیہ الرحمۃ الرضوان  استاذ کے خصائل و محامد کے،جو لعل و گوہر بکھیرے ہیں اس سے یہ پتہ چلتاہے کہ ایک کامیاب استاد ہونے کے کن اوصاف و کمالات کا حامل ہونا نہایت ناگزیر ہے، 

(1) ☜اول، علم و فن میں قدرت رکھتاہو

(2)☜دوسرا،دینی استاذہو بدعقیدگی کی نحوست سے پاک ہو 

(3)☜ تیسرا،دیانتدار ہو
(4) ☜چوتھا،محنت ولگن اورتوجہ سے تعلیم دیتاہو

(5)☜ پانچواں ⇜عدل و انصاف کی صفات کا حامل ہو 

(6)چھٹاواں ☜حرص وطمع، لالچ سے خالی ہو 
(7)ساتواں- نرم خوئی  متانت و سنجیدگی سےمزین ہو

(8)آٹھواں ☜کتب بینی اور مطالعے کا خوگر ہو

(9)نواواں☜ اخلاص وللہیت رکھتاہو
(10)دسواں -اشاعت علم کے سلسلے میں کوتاہی نہ کرتا

(11)گیارہواں☜طلباء سےشفقت ومحبت سے پیش آتا ہو

(12) بارہواں ☜ تقوی و طہارت اور تقدس و پاکیزگی کی دولت حاصل ہو

(13) تیرہواں☜علم دین کی توقیر و تکریم کرتا

( 14)چودہواں☜ جذبہءِ اصلاح و تربیت میسر ہو

( 15)پندرہواں ☜خوف خدا اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے محبت، اور علماء کرام صوفیان عظام مشائخ کبار کی عظمت بھی پاس ہو

 (بہارشریعت وفتاوی امجدیہ) 

مذکورہ فضائل و خصائل ومحامد حضور انجم العلماء علیہ الرحمہکے اندر مکمل طور سے پائے جاتے تھے
علم اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک لازوال عظیم نعمت ہے لہذا اس کی قدرومنزلت ملحوظ رکھنا ہر صاحب ایمان اذعان وایقان اور اہل عقل وخرد کی فطرت ہونی چاہیے، 

اور اگر کوئی اس کی ناقدری کرتا ہے تو اسے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ نورِ علم اس سے چھن گیا ہے، 

علم کا اعزاز و احترام آپ کے نظریے سے کس طرح ہونی چاہیے 

حضور انجم العلماء ارشاد فرماتے ہیں
کہ  عالم ومتعلم کو علم کی توقیر کرنی چاہیئے، یہ نہ ہو کہ زمین پر کتاب رکھے، اورپاخانہ پیشاب کے بعد کتابیں چھونا نہیں چاہیئے اگر چھوناچاہے تو وضو کر لینا مستحب ہےاگر وضو نہ کر پائے تو ہاتھ ہی دھو ڈالے، اب کتاب چھوئے،

اور یہ بھی چاہیے کہ عیش پسندی میں نہ پڑے، کھانے پینے رہنے سہنے میں معمولی حالت اختیارکرے، 
کھانےپینے طرف زیادہ توجہ نہ دے ،مگر یہ بھی نہ ہو کی اتنی کم کردے کی تقلیل غذاءغزاے اور کم خوابی میں اپنی جسمانی حالت خراب کرلے، 

یہ بات ناقابل تردید ہے کہ اِس زمانے میں علم دین اور علماء کرام کی عظمت لوگوں کے دلوں سے نکلتی جارہی ہے اس قسم کی باتوں کی طرف توجہ کی بہت ضرورت ہے جس سے علم کی عظمت وقعت پیدا ہو، 

اللہ تعالی نے حضور انجم العلماء کو آپ کے نانا جان صوفی باصفا مصدرجودوسخا منبع علم وحکمت مصدرفیض وبرکت سیدی یارعلی حضورشعیب الاولیاء رضی اللہ تعالی عنہ کے کرم سے زبردست قوت حافظہ کی نعمت سے مالا مال فرمایا تھا،

جس کابین ثبوت یہ ہے(اورحضورشعیب الاولیاء کی ایک زندہ کرامت ہے) 
کہ حضور انجم العلماء کو جملہ علوم وفنون میں مہارت تامہ حاصل تھا، 
نیز ہر فن کی کتاب پڑھانے میں مہارت حاصل تھی صدر المدرسین صاحب قبلہ نے ایک سال فن منطق کی معروف و مشہورو مشکل ترین کتاب"سلم العلوم" آپ کے پاس کردی،اور فرمایا کہ اس سال  اس کتاب کو حضرت علامہ سید احمد انجم عثمانی صاحب قبلہ مدظلہ العالی پڑھائیں گے، 

اتفاق دیکھئے کی کتاب پڑھنے والےطلباء کی تعداد کثیر تھی اور لائبریری میں کتاب قلیل تھی ،الغرض جب طلبہ کتاب لے کر درسگاہ میں حاضر ہوئے تو عرض کرنے لگے کہ حضور کتابوں کی قلت کی بنا پر ابھی نہ شروع کریں تو بہتر رہے گا، 
بلکہ ایک مہینہ گزر جانے کے بعد شروع کرائے کیوں کی کتابیں قلیل مقدار میں موجود ہیں اورہڑھنےوالے طلبہ کی جماعت بہت بڑی ہے آپ نے یہ سن کر کے مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا
تم لوگ کتابیں شروع کروجب تک کتابیں نہ آجائے تب تک کسی طریقے سے کام چلایاجائے گا،الحاصل کتاب شروع ہوگئی، دوسرے روز طلباء سبق کے لیے درسگاہ میں حاضر ہوئے، آپ نے طلباء سے ارشاد فرمایا کہ عبارت خوانی کرو، ایک طالب علم نےعبارت خوانی شروع کردی، آپ نے کتاب دیکھے بغیر زبانی ہی پڑھا دیا،

چار دن کے بعد ایک طالب علم نے ڈرتے اور سہمے ہوئے اندازمیں پوچھ ہی لیا کہ حضور بتائے نہ ،آپ کے ہاس کتاب بھی نہیں تھی پھر بھی آپ نے بغیر کتاب دیکھے ہی ،اور بغیر عبارت دیکھےہی سبق پڑھادی، آپ نے کچھ دیر سوچا پھر مسکراتے ہوئے کہنے لگے کہ جب تم لوگ عبارت  پڑھ رہے تھے، تو اس وقت میں اپنے ناناجان شیخ المشائخ سیدنا سرکار حضور شعیب الاولیاء علیہ الرحمہ کےمزار کی طرف تھوڑی دیر تک دیکھ رہاتھا 
پھرعرض کیا، کہ حضور کرم فرمائیں تاکہ ذہن میں عبارت اور ترجمہ محفوظ ہوجائے تاکہ طلبہ کو خوش اسلوبی نیز اچھی طرح سے کتاب کو سمجھاسکوں، تو حضورناناجان سیدنا سرکار شعیب الاولیاء رضی اللہ تعالی عنہ کا فوراً کرم ہوجاتا ہے، 

چونکہ آپ کی درسگاہ،مزار حضور شعیب الاولیاء رضی المولی عنہ سے بالکل قریب تھی حضور درسگاہ میں بیٹھ کر ایک نظر مزار پار کی جانب دیکھتے اس کے بعد ہی عبارت کا ترجمہ کرتے اور اس کا مفہوم سمجھاتے، 
  نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ارادت ہوتودیکھ انکو
          ید بیضا لئے بیٹھے ہیں اپنی آ ستیوں میں


قارئین اکرام!  یقین جانئے، لعل و گوہر ہمیشہ سمندر کی گہرائی اور پردہءِ تاریکی میں مستور ہوتے ہیں ان تک کسی کی رسائی نہ ہو سکے تویہ الگ بات ہے، 
لیکن اگر کسی غواص کی رسائی اس دُرِّ یکتا تک ہوجائے اسکے باوجود بھی اسکو قعر سمندرسےنکالنے میں کوتاہی وکاہلی سے کام لے تو یقیناً اس پر کم عقلی وبےوقوفی وبےہمتی کا لیبل چسپاں کر دیا جاتا ہے 

،علماء صوفیاء اتقیاء باکمال ہوتے ہیں نام نونمود کی خواہش نہیں رکھتے وہ ریاء کاری سے کوسوں دور رہتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے انہیں علم وفضل جیسی بے بہا انمول دولت سے نوازاہے، 

رہی شہرت و مقبولیت تو یہ ایک امرِ عارضی ہے جس کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا،، 

چلتے چلتے آخری بات ☜
سب سے زیادہ قابل غوروفکر یہ بات ہے ایسے اراب علم وفن کی مذہبی ملی، قومی، دینی اسلامی اصلاحی، کارناموں کو منظر عام پرلانا چاہئے اور انکی علمی تدریسی اور مذہبی خدمات سے عوام وخواص کو متعارف کروانا چائیے،اور ان کے متعلق بہت کچھ جاننے کے باوجودبھی ان کی سیرت وسوانح کو محفوظ
 کر لینی چاہئے،اور اس قسم کے بہت سے اور سوالات کے جوابات ہر حساس شخص تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے یقینا ہر شخص ان سوالات کا جواب اثبات میں دے گا لیکن بہت کم حضرات یہ سوچنے کی زحمت گوارا فرمائیں گے کہ آخر اس کا ذمہ دار کون ہے اور آخر اس ذمہ داری کو کون نبھائےگا،
کیا غیروں سےیہ توقع رکھی جا سکتی ہے یا بعد میں آنے والی نسلیں اس فریضے سے عہدہ برآورہو سکیں  گی ،

حقیقت تو یہ ہے مک صرف اور صرف علماء ادباء دانشوران قوم نیز ارباب علم و فن کی ذمہ داری ہے،

لہذا!ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اس  ذمہ داری کو محسوس کرکے میدان  علم و عمل میں قدم رکھیں حضور سید احمد انجم عثمان علیہ الرضوان کی شخصیت پر دارالعلوم اہلسنت فیض الرسول براؤں شریف ضلع سدھارتھ نگر کو فخر حاصل ہے آپ اپنے تدریسی اور تحریری کارناموں کی وجہ سے رہتی دنیا تک زندہ و تابندہ رہیں گے زمانہءِ طالب علمی میں بھی سرمایہ فیضُ الرسُول تھے اور زمانہ ءِ تدریس میں بھی سرمائے فیض الرسول تھے اور تا قیام قیامت اثاثہءِ فیض الرسول اور سرمائے فیض الرسول رہیں گے
ان،شاء اللہ الرحمن 

نشان منزل مقصود ہے میری تربت
نشاں چھوڑتاہوں اہل‌کارواں کےلئے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Comments