Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

سقوط اندلس کے اسباب وعلل

تحریر:مولانامحمدقمرانجم قادری فیضی

ایک ارب سےزائدتعدادمیں زندہ رہنے والی قوم مسلم آج جس پریشانی وزبوں حالی کا شکار ہے اسے بیان نہیں کیا جا سکتا، 
آئے دن نت نئے نئے فتنے اور قِسم قِسم کےفسادات وحادثات کےمصائب، قوم مسلم کا نصیبہ بن چکاہے، عالمی پیمانے پر مسلمانوں کی نسل کشی کا منصوبہ بروئے کار لانے کی تیاری کی جارہی ہے، حکومت سےلےکر بین الاقوامی ادارے،اور عدلیہ تک سبھی مسلمانوں کو کاٹ کھانے کی تیاری کر رہے ہیں ، اور جگ ہنسائی کےڈر سے گاہے بگاہے گھڑیالی آنسو بھی بہانے سےگریزنہیں کرتے، مسلمانوں کی عزت ووقار، حکومت وشوکت عظمت ورفعت ، سلطنت، عصمت وآبرو، جان ومال کا تحفظ گویا کہ تمام قومی ومذہبی تشخصات، درسگاہیں، مساجد مزارات خطرےمیں ہیں آج مسلمانوں سے ہندوستانی ہونےکاثبوت مانگا جارہاہے ، اور مسلمان روز بروز بلاکت وبربادی کا سامنا کرتے ہوئے زندگی کے تلخ گھونٹ پینے پر مجبور ہے، 

ادھر نصف صدی میں تمام غیر مسلم قومیں، عیسائی، یہودی، مجوسی، ہندو، بدھ، جین، پارسی، پوری دنیا جتنا ہی عروج وارتقاء کی بلندیوں کو پائی ہےاور کامیابیوں کےمراحل طئے کی ہے، اُتنا ہی مسلمان قوم َذلت وحقارت، اور پسماندگی کے قعرمذلت میں گرتی چلی گئی ہے، اور قتل وغارت گری تو جیسے چولی دامن کا ساتھ ہو،یا اسکے پیروں کی زنجیر بن گئی ہے، 

 اگر ہم‌موجودہ حال کے تناظرمیں دیکھیں ،توہم‌جس
دورسےگزر رہے ہیں اسکی قیامت خیزہولناکیاں محتاج تعارف نہیں، تباہیوں اور بربادیوں کا ایک سیلاب بہہ رہا ہےجس کی سرکش موجوں نے قوت انسانی کو شکست خوردگی کے احساس پر مجبور کردیا ہے معاشی، غریبی ،اقتصادی بےروزگاری، ،بھوک مری،بےروزگاری کا دباؤ اتنابڑھ گیا ہےآج زندگی کے لیے توازن برقرار رکھنا،وقت کا اہم ترین مسئلہ بن چکا ہےآج کا ماحول بہت پراگندہ ہوچکاہےبھوک اور بے روزگاری کے بے رحم ہاتھوں نے زندگی کا ساراجمال، اورحیات کےساری رعنائی اس طرح چھین لی ہےکہ آج پورے ملک کا دائرہ فکر ،معشیات کے اردگردمحدود ہو کر رہ گیا ہے

پھرمسلمان! جس کی زندگی کا تبسم وقت کی تیز دھوپ نے پہلے ہی جلا کر رکھ دیا ہے حالات کی نئی افتاداور موجودہ قیامت نےاس کےلئےزندگی کےسارےدروازےبندکردئیےہیں،

آج اس قوم کی صبح وشام‌ میں مسرت کی چاندنی ،تمناؤن کی روشنی،اور  امیدوں کی سنہری کرن کی بجائے زخموں کی کراہ ،مصائب کی تاریکی اور مایوسیوں کی دبیزاندھیاری ہے،

اب  نہیں کہہ سکتے کہ مدارس ومکاتب کا مستقبل کیاہوگا،مسجدوومحراب ومنبر کاکیاحال ہوگا،
 کسی شاعر نےکیاخوب کہاہے

؏وہ شورشیں کہ نظام حیات برہم ہے
  یہ زندگی تو نہیں زندگی کا ماتم ہے

ویسےہی مدارس ومکاتب کی دنیا کی زندگی میں قدم قدم پر نہ جانے کتنی دشواریاں اور مصیبتیں ہیں اس  کا صحیح اندازہ وہی لگا سکتے ہیں جو اس راہ  کے مسافر ہیں اوروقت کے حالات نے ان کی زندگی میں عافیت کی ٹھنڈی چھاؤں کو  کہیں بہت دور بہت دورکڑکتی اور تیز  دھوپ میں چھُپادیئےہیں،

 علماء کرام اور دینِ اسلام کی نشرواشاعت کرنےوالوں کو قدم قدم  پرآزمائشوں کی تیز دھوپ کا سامنا کرناپڑتاہےاور آزمائش کی راہوں میں چلنےکےلئے ،اور منزل تک پہنچنے کےلئےکوئی مشعلِ راہ  بھی نظر نہیں آ رہاہے، 

 مسلمان اس حقیقت کوخوب اچھی طرح سےسمجھ لیں کہ یہ تاریک ترین وخوفناک دور صرف جانی مالی بربادی کادور نہیں ، اس میں صرف ملازمت وتجارتوں  کا سوال نہیں بلکہ یہ دور ہمارےسب سے انمول سرمایہءِ دین وایمان‌کےلئےکھلا چیلینج ہے رسول اللہ ﷺکی عظمت، اسلاف کی تاریخ ،دین‌کے‌معتقدات اور اسلام‌کے قوانین‌کو‌سر بازار قتل کیا جارہاہے،

ایک‌منظم‌سازش کے تحت،پری پلان‌ منصوبےکےتحت، اسکول‌وکالجز کا‌نصاب تعلیم‌ بھی اسی سازش کی ایک‌اہم‌کڑی ہے،مصنفوں نے کتابوں میں غلط تاریخ بیانی کی ہیں مسلمانوں کے اسلام کے قوانین کو مسخ کرنےکاسلسلہ ابھی تک جاری وساری ہے ایک‌منظم‌سازش کے تحت پیغمبر اسلامﷺ کے بے داغ کردار پرغلط اور گمراہ کن پروپیگنڈہ پھیلایا جارہا ہے

،ہماری مسجدوں کو جلایاجارہاہے ،ہمارے مدرسوں کو نذرآتش کیا جارہاہے،ہماری مسجدوں کے میناروں پر بھگوا جھنڈا پھہرایا جارہاہےاورمزارات اولیاء کو بھی آگ کے حوالےکیا جارہاہے ،مسلمانوں کی بہوبیٹیوں،بہنوں کی عزت وعظمت کو تارتارکیا جارہاہے
یہ مسلمانوں کےلئے کتنی شرمناک بات اور افسوس صد افسوس ہے، 

کالجزوینورسٹی کے نصاب تعلیم بھی اسی منظم سازش کی ایک اہم کڑی ہیں اور اسی مذموم سازش کے قائم کردہ ہیں اگر ہم نے اسی طرح اپنے تغافل روویئوں سے کام لیا تو آنے والے نسل کاحال کیا ہوگا،اور قوم کدھر جائے گی
مسلمان ،مسلمان‌بھی رہےگا یہ بھی کہنا محال  ہے،کیونکہ‌برہمنیت کےچیلوں نےتوایساہندوستان‌،نیوڈیجیٹل انڈیا"بنانےکی کوشش کی ہے جہاں صرف  برہمنیت اور اسکے چاہنے والے ہی خوش دلی کے ساتھ اور" اچھے دن‌"کےساتھ زندگی گزاریں‌گے، ہم نہیں کہہ سکتے کی مشرکانہ نصاب کے تحت نسلوں کا مستقبل کیا ہوگااگر میں یہ کہوں تو بےجا نہ ہوگا کہ یہ ساری کرم فرمائیاں ومہربانیاں ہمارے قائدین‌ ورہنماؤں کی‌ہے، 
شہراندلس کے واقعات وحادثات واسباب کودلچسپی کے ساتھ پڑھیئے اورغوروفکرکیجئےنیز درس عبرت حاصل کجیئے، کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہندوستان کےمسلمانوں کابھی وہی حال ہوجائے، 

سن 92ہجری میں اسلام شہر 'اندلس' میں پھیلااور آٹھ سوسال تک مسلمانوں نے وہاں حکومت کی، وہ ایک نہایت عظیم اورمضبوط ومستحکم سلطنت تھی، اور اس وقت کے ممالکِ نصاریٰ میں اسلامی فوجوں کا اِسی طرح اثر و رسوخ تھاجیسےآج بہت سے ممالک میں امریکہ کی فوجوں کادخل ہے، پھرآہستہ آہستہ مسلمانوں کی حکومت اندلس میں کمزور ہونے لگی اور اس کےایک ایک علاقے آہستہ آہستہ ختم ہونےلگےاور یہودونصاری کےقبضےمیں جانےلگے، 

یہاں تک کہ انکی حکومت صرف شہر غرناطہ تک محدود ہوکر رہ گئی،اور(1492ء)چودہ سوبانوےعیسوی میں وہ بھی ساقط ہوگئی،  جس کا آخری بادشاہ ابو عبداللہ الصغیر تھا،

پھرتمام کافر بادشاہوں نے مل کر اندلس میں اسلامی وجود کو ختم کرنے کی ناپاک کوششیں شروع کیں، اور جو مسلمان وہاں سے بھاگ سکے وہ بھاگ لئے، اور جو وہاں رہ گئے ان کو تہ تیغ کر دیا گیا ہے ان کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی عزتوں کو تار تار کیا گیا،مال ومتاع لوٹ لیا گیا، آبادیوں کو اُجاڑ دیاگیا، محلات ومکانات کھنڈرمیں تبدیل کردیئےگئے، 
انکے مال وجائیدادکو لوٹ لیاگیا، 

قارئین کرام! یہاں میں آپ سے ایک اہم سوال کرتاہوں اور وہ سوال یہ ہے کہ اس ملک سے مسلمان کیوں ختم ہوگئے اور وہاں سے اسلامی وجود اپنے وقار و تمکنت کے بعد بھی کیوں فنا ہوا اور اتنی عظیم سلطنت کا وجود کیسے نیست ونابودہوگیا؟؟؟؟

تو اس سوال کا مختصرسا جواب یہ ہےکہ اس کے چندوجوہات ہیں جن کی وجہ  سے شہر اندلس سے مسلمان اور مسلمانوں کی حکومت دونوں کو نیست ونابود کر دیا گیا تھا،


(1)پہلاوجہ ☜ ضعفِ عقیدہ عقیدہ اور شریعت اسلامیہ اور صحیح اسلامی منہج سے انحراف*

 اور یہ ایک ایسا سبب ہےجو تباہی و بربادی کا سب سےبڑا اور بنیادی واہم سبب ہےکیونکہ اندلس میں شراب نوشی جائز ہوچکی تھی، اور حال یہ ہوچکا تھاکہ شراب پینےوالےپرحدود بھی قائم ہونا بندہوگئے تھے اور اس طرح وہاں لہوولعب، گانے بجانے موسیقی اور گانے والی عورتوں کی کثرت ہو چکی تھی، اور حکام واُمراء، اس طرح کے غیر شرعی تقریبات میں ایک دوسرے پر سبقت کرنے لگے اور ان فحش افعال وکرتوت کے لیے اپنے اپنے محلوں کے قریب "محلات خواتین"تعمیر کرنے لگے اور گانےبجانے وموسیقی کی تعلیم کے لیئے اسکول کھولنے لگے، اور یہ سب حرکت اُس وقت میں جبکہ اندلس کے شہر ختم ہو رہے تھے اور لوگوں کےقتل ہورہے تھے، عورتوں کو گرفتار کرکےعیسائی لے جا رہے تھے، ماں بہنوں کےعزتوں کو تارتارکر رہے تھے، 


(2)دوسرا وجہ☜
* عیش و عشرت کی زندگی *

اہل اندلس اور وہاں کے حکام وامراء اس طرح عیش و عشرت میں ڈوبے ہوئے تھےکہ مکانات وملابس اور کھانے پینے میں بے دریغ خرچ کرنے لگے تھے اور ساری مشغولیت زمین و جائیداد بنانے اور ان کی حفاظت میں اس طرح ڈوب گئے کہ جہاد سے کنارہ کش ہوگئے اور جو زندگی کو موت سے بچانےکا حریص ہوتاہےوہ زمین،عزت،دین اور بزرگی میں سے کسی کی حفاظت نہیں کر پاتا،تو اسکی زمین وجائیداد،اور دولت وثروت سب ضائع وبرباد ہو جاتی ہے، 

مروی ہے کہ ایک وزیر انکے کسی ایک بادشاہ کے پاس گیا تو اسے غمگین و ناراض پایا تو اس وزیر نے گمان کیا کہ بادشاہ اس لئے غضب ناک ہے کہ پڑوس کی سلطنت پر عیسائیوں نے حملہ کر کے وہاں قتل و غارت گری  کی ہے اور عورتوں کو گرفتار کر لیا ہے اور ان پر ظلم وتشددکےپہاڑ توڑےہیں، 
وزیرنےجب غضب ناکی کی وجہ اس بادشاہ سے دریافت کیا، تو بادشاہ نے جواب دیا کی میں اس وجہ سے غضبناک نہیں ہوں بلکہ میری غضبناکی کی وجہ یہ ہے کہ انجینئر جو میرا محل بنانے کے لئے مقرر ہے وہ من مانی کرتا ہے میرے حکم کا التزام نہیں کرتا، جیسامیں چاہتاہوں میرےمحل کو ویسا تعمیر نہیں کررہاہے، افسوس صدافسوس

(3)تیسراوجہ ☜
*امت مسلمہ کے دشمن صلیبیوں سے موالات*
 (دوستی) اور ان سے اچھا گمان اور احسان کی امید کیونکہ حکام اندلس صلیبیوں سے دوستی قائم کرکے اپنی آپس کی لڑائیوں میں ان میں سے ایک دوسرے مسلمان حاکم پر مددمانگتے اور صلیبیوں کے عہدوپیمان پر بھروسہ کرنے لگے،انکی باہمی عداوت اس حدتک پہنچ گئی تھی کہ ذرا ذرا سی بات میں بگڑ جاتے
اور اس طرح کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں انہیں میں سے ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ ایک حاکم ابن رزین حسام الدولہ نےایک صلیبی حاکم کے پاس عمدہ تحفے بھیجے تھے اور ایک اپنے مسلمان حاکم پر حملہ کی طرف توجہ دلائی تو صلیبی حاکم نے اس کے پاس بندر بھجوائے اس کی تحقیر کیلئے  لیکن حسام الدولہ نے اس کو اپنے لئے فخر سمجھا تھا ،

(4)چوتھاوجہ ☜مسلمانوں کے درمیان آپس میں دنیاوی تنازع اور مقدمہ بازی اور ذات برادری کا جھگڑا شروع ہوگیا کہ یہ عرب کےہیں ،یہ عجم کے ہیں ،یہ بربر نہیں ہیں، یہ یمن کے ہیں، یہ قسیۃ کےہیں، اور خود ایک خاندان والےاور ایک برادری والے، (اورآج یہی حال ہمارا ہے، آج ہم کو آپسی انتشار میں الجھاکرایک دوسرے سے دست وگریباں کیا جارہاہے، آج ہمارے اندر بھی دنیاوی جھگڑا اور مقدمہ بازی میں پھنساکراور گھریلو جھگڑوں میں الجھاکر تفرقہ بازی کروائی جارہی ہے آج ہمارے مابین اتحادواتفاق نہیں ہے،، اقوم وملل کی شیرازہ بندی کےلئے، عظمت رفتہ کی بازیابی کےلئے، باوقار زندگی گزارنےکےلئے اتحاد واتفاق بہت ضروری ہے، اتحاد کے بغیر اقوام عالم کی ترقی مکمن نہیں، جو قومیں شوکت واقتداراور کرسی کی متلاشی ہوتی ہیں وہ بھی دھیرے دھیرے اتحاد کی رسی کو مضبوطی کےساتھ تھام لیتی ہیں، اور اتحادواتفاق کی برکات سے مستفید ہوتی ہیں، 
چنانچہ ایک مسلمان خواہ دنیاکے کسی بھی خطے، قصبے، شہر، ملک میں ہو، دوسرے مسلمان پر ہوئےمظالم کو دیکھ کر یاسُن کرتڑپ اٹھتاہے، عراقی مسلمانوں پر جب ظلم ہو رہا تھا تب ہندوستانی مسلمان آہ وزاری کررہاتھا، اورنمازوں میں صحت وسلامتی کی دعائیں مانگ رہاتھا، افغانستان پر حملے ہورہے تھے، تب بھی، دہلی کے فسادات ہوں یا کشمیرکے مسلمانوں پرظلم و بربریت، یابرماکے مسلمانوں پر ظلم وستم، اور انکی قتل وغارت گری، سارے مسلمان بےقرارتھے، وہ کون سی چیزتھی جو ہر مسلمانان عاَلَم کوبےقرار کر رہی تھی، وہ اسلامی ہمدردی ،وہ محبت اتحادواتفاق کی تھی اور مذہبی رشتہ تھا) 

دنیاوی عہدوں اور منصوبوں کے لیے ایک دوسرے سے لڑ پڑے، انکی باہمی دشمنی حدسے تجاوز کرچکی تھی، ان کو آپس میں ملانےکےلئے تمام کوششیں بیکارتھیں، اورکوئی صورت باقی نہ رہی تھی، ذرا ذرا سی بات پر جھگڑا کرتے، اور کئی دنوں تک یہ جنگ جاری رہتی،دلوں سے عداوتیں اور بغض وعناد دور نہیں ہو رہی تھیں، جس کی بنا پر صفِ اسلامی کمزور ہونا شروع ہوگئی اور بہت سےخون ان کی خود  آپسی لڑائی میں بہہ گئے،اوریہ لڑائیاں ان میں دائمی صورت اختیار کر گئیں، ایک مرتبہ ایک مصری شخص نے ایک یمنی کےباغ سے پتے توڑ لیئے،صرف اتنی سی بات پریمنی نے اسے قتل کر دیا پھردونوں میں لڑائی شروع ہوگئی اور برسوں تک جاری رہی اور اس لڑائی میں سینکڑوں مسلمان بےدریغ قتل کر دیے گئے، 

(5)پانچواں وجہ ☜چند روحانی باعمل علماء کے علاوہ بہت سے علماء کہے جانے والوں کا اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ جانا *

دعوت واصلاح اور اصولوں کے خلاف جہاد کی ترغیب کے بجائے ان میں بہت سے فروعی مسائل اختلافیہ میں مشغول ہو گئے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں مصروف ہونے کے بجائے بہتوں نے حکام امراء کی مدح و تعریف کو اپنا پیشہ بنا لیا اور سلاطین وحکام کے عیوب و حرکات ذمیمہ سے آنکھیں بند کر لیں صرف یہی نہیں بلکہ منکرات میں ان حکام کے شریک ہوگئے،اور ایسے ہوگئے کہ فقہ کی طرف منسوب تو تھے مگر افسوس صد افسوس فسق کےخوگرہو گئے،ان کی مثال ایسے ہوگئی تھی جیسے بکریوں کی کھال  ہو، درندوں کے سروں پر ،اور وہ اہلِ شرکیلئے ان کے شر کو مزین کرتے اور فسق وگناہ پر ان کی مدد کرتے اور لوگوں کو ظلم وجبرکے خلاف جہاد اور ثابت قدمی کی دعوت دینے کے بجائے بزدلی اورخوف کی باتیں کرتے اور اندلس چھوڑنے کی دعوت دیتے ان میں کوئی کہتا، 

" ائے اہل اندلس اپنی سواریوں کو ہانکو،کیونکہ یہاں ٹھہرنا غلطی ہے ہم ایسے دشمنوں کے درمیان میں ہیں جو ہم سے جدا نہیں ہوتے تو سانپوں کے ساتھ ٹوکری میں زندگی کیسے گزر سکتی ہے،

یہ ہیں بعض وہ اہم اَسباب جن کی بنا پر شہر اندلس سے مسلمان ختم ہوئے لہٰذاجوچاہتا ہے کہ اس کی جان،مال عزت آبرو، جائیداد، ملک قوم بربادی سے بچیں رہے تو وہ قوم اور قوم کے قائدین نیز ارباب علم وفن ان وجوہاتوں کو یاد رکھیں اور ہر سبب سے خودبچےاور اپنی قوم کو بھی بچانےکی کوششیں جاری رکھیں 
نیز قوم کے سربراہان قائدین ودانشوارن قوم وملت کو کوئی نہ کوئی لائحہءِ عمل تیار کرنا ہوگا، ورنہ قوم مسلم کو اس ملک کےحکومتوں اوردشمن عناصر، فرقہ پرستوں کےظلم وتشدد اور بربریت کا نشانہ بننا پڑےگا،
آپ تاریخ کا مطالعہ کریں اور ان اسباب کوبھی دریافت کریں جنکے باعث امت مسلمہ پر تباہی وبربادی اور ظلم وستم کےبادل منڈلا رہے ہیں، 

ایک ہوجائیں توبن سکتےہیں خورشیدمبیں
ورنہ بکھرے ہوئے تاروں سے کیا بات بنے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Comments