تحریر:مولانا محمد قمر انجم قادری فیضی
دنیا کے تمام تر کوششوں کےباوجود چین کے ووہان شہر سے پیداہوا ایک چھوٹا سا جرثومہ کرونا وائرس کاقہر تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے اس موذی بیماری کے شکار ہوئےلوگوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے اوپر پہنچ گئی ہے، جو کہ قید تنہائی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، دنیا بھرمیں پانچ ہزار لوگ اس وبا کے شکارہوکرموت کی نیند سو گئے،
تمام عیش وعشرت اور پاورفُل ہتھیاروالے،ترقی یافتہ نیزسب سے زیادہ طاقت ور ممالک یورپ، اور امریکہ میں بھی کرونا وائرس کا قہر جاری اور ساری ہےادھر ہمارے ملک میں بھی اس وبا نے قہر ڈھانا شروع کردیاہے نیز اس وباء کے شکار ہونے والے لوگوں کی تعدادخبررساں اداروں کےمطابق سو سے زائد پہنچ چکی ہے اور دو سے زیادہ لوگوں کی موتیں بھی ہوچکی ہیں،
اس وباکی وجہ سےپوری دنیا میں اقتصادی ومعاشی تباہ کاریاں عروج پر ہیں، اور ہرچہارجانب ایک خوف کاعالم ہے، چھوٹے سے لیکربڑےتک، امیرسے لےکرغریب تک، ترقی یافتہ قوم سےلےکر ترقی پذیر قوم تک، ہرکوئی اس جرثومےسے سہمااور ڈراہوا نظر آرہاہے، ماہر سائنسداں وماہران طب ابھی تک اس موذی بیماری کا علاج ڈھونڈھ نہیں پائے ہیں،
اس بیماری کی پیدائش وشروعات چین کے ووہان شہر میں جانوروں کےگوشت بیچنے والے بازار سے ہوئی ہے
پہلے بھی چین میں اس طرح کے موذی بیماریاں پیدا ہوچکی ہیں ان میں سب سے زیادہ خاص "سارس، نام کی بیماری ہے
یہ بہت ہی تعجب خیزاور افسوس ناک پہلو ہے کہ پچھلے پچاس ساٹھ برسوں میں اس طرح کی بیماریاں بہت ہی تیزی کےساتھ لوگوں کےبیچ میں پھیلی ہیں اسکی اسباب وعلل اور وجوہات کیا ہیں، ؟؟؟
سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ عام طور پر چرندوپرند میں پیدا ہونے والی بیماریاں انسانوں کےاندربھی جنم لےرہی ہیں، لیکن چڑیوں اور جانوروں میں پیدا ہونے والی بیماریاں کوئی نئی بات نہیں ہے،
، زہریلی ہوائیں،اور کھانے پینےوالی چیزوں میں تبدیلی، شہروں اور آبادیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد،ایک ملک سے دوسرے ملک کے اسفار، ان سب کی وجہ سے یہ چھوا چھات بیماریاں بہت ہی تیزی کےساتھ پھیلنےلگی ہیں ، پوری دنیا میں شہری آبادی اور شرح پیدائش بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے،
پچاس سال پیشتر جہاں،شہروں میں 35% فیصد لوگ بستےاور رہتے تھے، مگر اب یہ تعداد بڑھ کر 55% فیصدتک ہوگئی ہے،زیادہ تر شہروں کی ترقی عجیب ڈھنگ سے ہورہی یے، اِن شہروں میں گندی بستیاں اور جھونپڑیاں بے شمار ہیں، جو ان بیماریوں کی پیداوارکےلئے سب سے قوی اور مناسب جگہ ہے،
جنگلات بھی دھیرے دھیرے ختم ہورہے ہیں، درختوں کی کٹائی بہت تیزی سے ہو رہی ہے،
اسی کا نتیجہ یہ ہواہے کہ لومڑی، بندر، بھالو، اور گیدڑ وغیرہ جانوروں کا شہروں گاؤں قصبوں میں آناجانا کثرت سے بڑھاہے،جسکی وجہ سے جانوروں میں پایا جانے والا وائرس انسانوں کےاندر کثرت سے بڑھ رہاہے، اور نئی نئی بیماریاں اور وائرس پیدا ہو رہے ہیں،
سارس"(Sors) سوائن فلو، اور ٹائفائڈ جیسی خطرناک بیماریاں اُسی کی دین ہیں، شہر میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی آبادی، بڑھتےہوئے پیسے کی کثرت، اور ڈیجیٹل دنیانیز کھانےپینےکی چیزوں میں تغیر وتبدل، یہاں چین کی مثال صادق آ رہی ہے، کبھی خنزیرکا گوشت، وہاں کے بہت ہی امیروکبیر لوگوں کو نصیب ہوتا تھا لیکن آج چین کا غریب طبقہ بھی خنزیر کا گوشت کھانے لگا ہے چین ہی نہیں پوری دنیا میں گوشت خوری ،اورغیر ملکی کھانے پینے والی اشیاء کو امیری والی اسٹیٹس سمبل سے جوڑ دینے کی وجہ سے ان کی خریدوفروخت تیزی کےساتھ بڑھی ہےاور انکی مانگ بھی زیادہ ہے، مزید گوشت کی کثرت سے خریدوفروخت کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے اب جانوروں کا پالن پوشن اور انکی دیکھ ریکھ بڑی بڑی مشینوں کے ذریعے سے ہوتاہے ،
جس کےذریعے بڑے پیمانے پر گوشت کی خریدوفروخت ہوتی ہے وہ سستا پڑتا ہے لیکن اس سستے گوشت نے لوگوں سے اپنے سستےپَن کی بھاری قیمت وصول کی ہے اس چھوٹے سے طبیلےمیں ہزاروں جانوروں کو ایک ساتھ خوردونوش کا انتظام رہتاہے،
اور جانوروں کو عمدہ قسم کا چارہ دینے کے بجائے،اناج تلہن، اور خراب چارہ کھلایا جاتا ہے تاکہ مالکان طبیلہ جلدازجلد زیادہ سےزیادہ گوشت حاصل کرسکیں،جانوروں کے چارہ کےلئے دنیا بھر میں جنگلوں کو کاٹ کر مکئی اور سویابین کی کھیتی کی جارہی ہے
چونکہ یہ بات سچ ہےکہ شہروں میں بڑھتی ہوئی آبادی،جنگلوں کی کٹائی اورختم ہوتےہوئے درخت، نیز انٹرنیٹ سےلیس زندگی، یہ ساری چیزیں ان موذی وائرس کو بڑھاوا دے رہے ہیں،جس سے دنیا کا پوار نظام درہم برہم ہے،
تجارت میں ایک دوسرےپر سبقت لےجانےاور زیادہ پیسہ کمانے کی ہوس نے نیز سب سے سستی اشیاء کی خریدوفروخت سے چین میں امیری آئی، اور دوئم درجے کے شہریوں کی تعداد بہت تیزی کےساتھ پھیلی
اور سب سے تعجب خیز بات تو یہ ہے اس ملک کےلوگوں کے کھانے پینے کی عادتیں بھی مختلف النوع رہی ہیں، لیکن چین میں گوشت منڈی اور مچھلی بازار بہترین طور طریقے سے بَنا نہیں ہے، چین کی گلیوں میں زندہ مرغی سے لیکر سانپ چوہے چمگادڑ، گرگٹ، کاکروچ، بچھو، مینڈک، تک بکنے لگے ہیں،
لہذا چین کے نئےطبقے نے دیگر کھانے والے جانوروں کو چھوڑ کر ان زہرآلود وغلیظ جانوروں کو اپنے کھانےکا اہم حصہ بنا لیا ہے، انکے یہاں ان سب کے گوشت بہت شوق وذوق سے کھائے جاتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا بھر میں نہ کھانے والے جانوروں کوبےخوفی کے ساتھ بیچنےلگے، بہت زور وشور سے انکی خریدوفروخت ہونے لگی،
چونکہ ان جانوروں کے خریداری میں بڑا منافع حاصل ہوتاتھا،
اسی لئے چین سےمنع شدہ جانوروں(جن جانوروں کو کھانے کی ممانعت ہے) کی خریداری بہت زور وشورکےساتھ پوری دنیا میں تیزی سے پھیلا،
اور چین نے غیرقانونی جانوروں کے بازار کو بڑھاوا دیا، اس کا خطرناک اور سب سے نقصان دہ نتیجہ 2003 میں جب (سیویئر ایکیوٹ ریسیپریٹری سنڈروم)
یعنی سارس (Sors) نام کی بیماری تیزی سے پھیلی تھی، اِس موذی بیماری نےصرف اور صرف چھ ماہ میں عالمی معاشیات کو اورعالمی اقتصادی کو تقریباً 40 ارب ڈالر کا نقصان جھیلنا پڑا تھا،
اُس وقت عالمی محکمہء صحت نے کہا تھا کہ غیرقانونی جانوروں کی خرید وفروخت پر پابندی عائد نہیں کی گئی ،اور کھانے پینے کی عادتوں میں تبدیلی نہیں لائی گئی تو اس طرح کے اور بھی خطرناک وائرس پیدا ہوسکتے ہیں، اسے دیکھتے ہوئے چینی حکومت نے گلی کوچوں میں چلنے والے گوشت ومچھلی بازارنیز دیگرجانوروں کے گوشت کےخریروفرخت پر پابندی عائد کردی تھی،
لیکن جیسے ہی سارس ماہماری بیماری کا اثر کم ہوا تو سب کچھ پھر پہلے کے جیسا چلنے لگا،
دنیا کے تمام ممالک کو اس کی اَن دیکھی نہیں کرنی چاہیئے کی چین کایہ غیرزمہ دارانہ قدم اور غیرقانونی جانوروں کی گوشت خوری اب کرونا وائرس کے ذریعے پوری دنیا پر قہر برپا رہی ہے،اور چین نے دنیا کو جس طرح سے پریشانی ومصیبت میں ڈالا ہے، اس کا عالمی فلاح و بہبود ادارے اور عالمی صحت ادارہ کو اس کی معلومات فراہم کرنی چاہئے نیز اس طرف توجہ کرنے کی سخت ضرورت ہے،
کرونا وائرس سے پیدا ہوئی خطرناک بیماری (کےوِڈ 19) کو صرف ماہماری یا وائرس گرداننے سےکام نہیں چلےگا،
آج تو نہیں مگر کَل تک پوری دنیا اس وائرس پر قابو حاصل کرلےگی،اور اس موذی مرض کا، علاج تلاش کرلے گی، لیکن ایسی خطرناک بیماریاں پھر سے ازسر نو ابھرنے نہ پائے، اس کےلئے مضبوط ومستحکم طریقہ اور علاج تلاشناہوگا اور اسمیں سب سے اہم ضروری چیز، شہروں میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی آبادی، کثرت کےساتھ گوشت خوری، اور ڈیجیٹل لائف، ان سب چیزوں سے اپنے آپ کو دور کرنا ہوگا، مزید اسی کےساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ نظام صحت و تندرستی کے ڈھانچے کو مزید مضبوط ومستحکم بنانے پر زور دیا جائے اور اس خطرناک وائرس و بیماریوں سے بچنے کے لئے لائحہ عمل بنایاجائے اور ہندوستان میں شرح پیدائش سب سے زیادہ ہے لہذا ہندوستان اور اس طرح کے ممالک کو کوئی لائحہءِ عمل وعلاج تلاشنا ہوگا،
تاکہ لوگ اسکے خطرناک جرثوموں سے بچ سکیں،
(ایک عام مشورہ)
کرونا وائرس ایک ایسا خطرناک وائرس ہے جسکی علامت کئی دن تک ظاہر نہیں ہوتی، اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ اگر کسی شخص کو یہ بیماری لاحق ہوجائے تو اسے کیسے معلوم ہوگا، کہ وہ کرونا وائرس کا شکار ہے، بدقسمتی سے جسکو یہ وائرس ہوجاتاہے ڈاکٹر تک پہنچنے تک اسکے 50% فیصد پھیپھڑے ختم ہوچکے ہوتے ہیں، تائیوان کے ڈاکٹرز نے ایک آسان ٹیسٹ متعارف کروایا ہے جو آپ خود بھی کرسکتے ہیں، طریقہ یہ ہےکہ صبح اٹھ کرلمبی سانس کو روک کر رکھیں، اور پھیپھڑوں میں سانس بھریں، اس دوران اگر آپ کو کھانسی نہیں آتی ہو یا آپ کا دَم. نہیں گھٹتاتو اسکا مطلب یہ ہے کہ آپ کو کرونا وائرس نہیں ہے، اس نازک ترین دور میں ہر کسی سے یہ گذارش ہے کہ دن میں ایک دو مرتبہ اپنا ٹیسٹ ضرور کریں، اور دوسروں کو بھی بتائیں، اپنے گلے اور منھ کو ہرگز خشک نہ ہونے دیں، ہر پندرہ منٹ کے بعد کوئی Liquid ہر حال میں منھ میں جانا چاہئے، اس طرح کرنے سے کوئی بھی وائرس آپکے منھ یا گلے میں نہیں رک سکےگا، بلکہ معدے میں ٹرانسفر ہوکر ڈائجسٹ ہوجائےگا، اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو یہ وائرس آپکی سانس کی نالیوں کےذریعے پھیپھڑوں میں داخل ہوجائے گا،
اس بات کوزیادہ سے زیادہ اپنے عزیزوں ،دوست واحباب اور ہر انسان کو بتایا جائے، کیونکہ آپ کے بتانے کی وجہ سے کیا پتہ کسی انسان کی جان بچ جائے، خداوند قدوس کا فرمان ہے، جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے تمام انسانیت کی جان بچائی


0 تبصرے