تحریر:مولانا قمر انجم قادری فیضٰ
کائنات امتزاج ہے مادہ اور توانائی کا، انسان مرکب ہے جسم اور روح سے، زندگی تالیف ہے صورت اور سیرت کی، اسی طرح تہذیب مجموعہ ہے جوہرکا، Spirit اور مظہر Frohmکا ,اسلام خدا کی ابدی اور آفاقی تہذیب ہے اس تہذیب کا جوہر نسبت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور مظہر محمدی علی صاحبہاالتحیۃ ہےدوسرے لفظوں میں کہیئے تو دین کیا ہے مصطفی علیہ الصلاۃ والسلام کی غلامی کا نام اور غلامی جب علم کے پیکر میں ڈھلتی ہے تو شریعت محمدی کہلاتی ہے شریعت کیا ہے زندگی گزارنے کا سلیقہ و طریقہ، اور یہی تو حاصل تہذیب ہے نظام قدرت کے دو ہی رخ ہیں ایک تکوین کادوسرا تشریع ،خداجو کچھ بناتا ہے اس کی تکوین ہے اور جو کچھ ہوتا ہے جو چاہتا ہے وہ تشریع ہے، قرآن کے فیصلہ کن الفاظ میں *ربنا الذی عطا کل شی خلقہ ثم ھدی*یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے ہرچیزکوبنایا،اور پھر اسے ہدایت سے نوازا،خدائے تعالی نے آسمان زمین، پہاڑ، درخت ،ہوائیں،شجروحجر برگ وثمر، بحروبردیکھئے خدا کا پورا نظام قدرت یہاں صرف دو ہی لفظوں میں آشکارا ہو رہا ہے ایک خلق جو تکوین اےعبارت ہے اور دوسرا ہدایت جو تشریع سےکچھ الگ نہیں تو کہنے دیجئے کہ پوری کائنات میں خدا کی ذات کے دو ہی جلوے ہیں تکوین اور تشریع ،تکوین خداکی صفت ہے اور اس سےباہر جو کچھ ہے سب اس کی تشریع، تو کیا اب بھی اس میں کچھ شبہ ہے کہ تہذیب کی نمود تشریع میں ہی ہوتی ہے اور بس شریعت سے باہر جو کچھ ہے اس کا تہذیب سے کچھ رشتہ نہیں، ذرا سوچئے توسہی خدا تعالیٰ نے اس شخص کو کیا دانائی بخشی ہوگی جس نے شریعت کی تعریف ان لفظوں میں کی ہے (معرفۃ النفس مالہا وما علیہا)
یعنی شریعت نام ہے اسکا کہ جو نفس انسانی کوپہچان لے وہ سب کچھ جو اس کے لئے اور وہ سب کچھ جو اس پرعائد ہے"مالھاوماعلیہ"کی تعبیر اتنی ہمہ گیریت ومعنویت ہے کہ زندگی اور تہذیب درکنار خود کائنات اپنی ابتدا سے انتہا تک اس کی آغوش میں ڈوبی ہوئی ہے میں سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالی نے انبیاء کرامکےبعد پوری نسلانسانی میں جو دانائی بانٹی ہے اس کا بہت بڑا حصہ فقط اسی فقرے میں سمٹ آیاہے یہ شخص یقیناً انبیاء کرام اورحضورکےصحابہءِ کرام نیز اہل بیت کےبعد تاریخ انسانی کا سب سے بڑا دانا سب سے بڑا مفکر، سب سے بڑا مدبر سب سے بڑا حکیم، سب سےبڑا علامہ، سب سے بڑا فقیہہ، سب سےبڑا محدث، سب سے بڑا امام، سب سے بڑا قانون داں، سب سے بڑا دانشور، سب سےبڑا محافظ، اسلام وسنیت کا سب سےبڑا علمبردار، ،امام ذہبی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ساری زندگی کا خلاصہ یوں پیش کیاہے"کان اماماً ورعاً عالماً عاملاً متعبداً کبیراً لشان لایقبل جوائزالسلطان بل یتبحرویکتسب"امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دین کےامام، نہایت پرہیزگار، عالم باعمل، عبادت گزاراور بڑی شان والےتھے، آپ حاکموں کے انعامات قبول نہیں کرتے تھے بلکہ تجارت کرکےاپنا رزق کماکرکھاتےتھے، امام ابن حجرشافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں، سیدناامام اعظم ابوحنیفہ نےازخودنہیں بلکک نبئی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کی تعمیل میں لوگوں کواپنے مذہب کی طرف بلاناشروع کیا، جب خداکی رحمت کےخزانےبانٹنے والے حضور محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اجازت آگئی توآپ سمجھ گئے کہ یہ معاملہ قطعی اور یقینی ہےپھرآپ نے لوگوں کو اپنےمذہب کی دعوت دی، اور آپ کا مذہب اسلام پھیل گیا، اور اللہ تعالیٰ نے مشرق ومغرب وعرب وعجم کوآپ کےفیض سے مستفیض کیا، حاسدین ومنافقین ہر دوروعصرمیں محبوبان خداکےخلاف بدگوئی وشرانگیزی کرتے رہے ہیں سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ کےخلاف بھی حاسدوں نے بہتان طرازی کا سلسلہ شروع کیا جسکےجواب میں چاروں مذاہب کے امام و ائمہ محدثین نےکتابیں لکھیں، حق کی ترویج اور ابطال باطل کےلئے علماء حق کا تحریری جہاد ابھی بھی جاری ہے،انسانی تہذیب کو اس سے بڑھ کر کسی نےنہیں سمجھا ، کسی نے نہیں سنبھالا، یہ شخص علی الاطلاق اسلامی تہذیب وتمدن کا سب سےبڑا مفکر بھی،سب سےبڑا محافظ بھی، سب سے بڑا فقیہہ بھی، اس شخص کو خدائے تعالیٰ نے صرف یہ سمجھایا ہی نہیں کہ تہذیب کیاہے؟ اور شریعت کیاہے؟ اور ان دونوں میں باہم کتنا گہرا ومضبوط ومستحکم رشتہ ہے بلکہ اسلامی شریعت، اسلامی تہذیب وتمدن کی حفاظت اور خدمت کا سب سے بڑا عظیم الشان کام بھی اس شخص سےلیاہے وہ تو بازار میں کپڑا بیچنے نکلاتھا، پر میرے خدانے اسے دنیا کا امام بنادیا، صرف امام ہی نہیں بلکہ امام اعظم، میں قربان تیری عظمتوں، رفعتوں، وقعتوں، اے کوفہ کےتاجر، تیرے جیسانصیب کوئی اور لےکرنہیں آیا، دنیاکےلاکھوں ولی خداکےحضور سجدہ ریزہوتے ہیں، اور ان سجدوں کا ثواب تجھے پہنچتاہے دنیابھرکےلوگ نماز پڑھتےہیں مگر اس کا ثواب تجھے پہنچتاہے پر تیرا حق بھی ادا نہیں ہوتا سواہلِ علم اور اہلِ دل کو کہنا پڑتاہے، یجب علی اھل الاسلام ان یدعوااللہ لابی حنیفۃ لحفظہ علیھم السنۃ والفقہ،یعنی اہل اسلام پرلازم ہے کہ وہ اپنے نمازوں میں امام اعظم ابوحنیفہ کےلئے دعاکیا کریں، کہ انھوں نےسنت رسول اور فقہ کی حفاظت کرکےعالم اسلام کےتمام مسلمانوں پر احسان عظیم کیاہے،، جی ہاں تمام اہل اسلام پرلازم ہےکہ وہ جب خداکویادکریں، ساتھ ہی امام اعظم ابوحنیفہ کےلئے دعا کی تڑپ بھی اس میں بسا دیں، وہ جب بھی دین کے کسی حکم پرعمل کریں. ساتھ ہی ابوحنیفہ کےلئے بھی والہانہ تشکروامتنان کا جذبہ بھی انڈیل دیں کیوں؟؟؟؟؟ اس لئے کہ امام اعظم نے پوری امت پر احسان کیاہےنام ونسب-حضرت سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسم گرامی نعمان، اور کنیت ابوحنیفہ ہے
علامہ ابن حجرمکی رحمۃ اللہُ تعالیٰ علیہ آپ کے نام کےتعلق سے یہ لطیف نکتہ لکھتے ہیں "نعمان کا معنی لغت میں اس خون کے ہیں جس پربدن کا سارا ڈھانچہ قائم ودائم ہوتاہے اس کے ذریعے جسم کے تمام اعضاء کام کرتے ہیں بعض علماء کرام نےکہا کہ اس کا معنی روح کے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوا، کہ امام اعظم کی ذات گرامی دستور اسلام کےلئے بنیاد اور محور اور فقہی مسائل وتعلیمات کےلئے روح کی طرح ہے، (الخیرات الحسان ص 79)
سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےوالد گرامی کا اسم شریف ثابت ہے آپکےپوتے حضرت اسمعیل بن حماد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں میں اسمعیل بن حمادبن نعمان بن ثابت بن نعمان بن مرزبان ہوں،ہم لوگ فارسئی النسل ہین اور خداکی قسم ہم کبھی کسی کی غلانی میں نہیں رہے،ہمارےدادا حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ 80 ہجری میں پیداہوئے جب انکےدادااپنے نومولودبیٹے ثابت کولےکرامیرالمومنین علی ابن ابی طالب کرم اللہ تعالیٰ وجہ الکریم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے توحضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہ الکریم نے ان کے لیئے اور انکی اولادکےلئے برکت کی دعافرمائی، اور ہم اللہ تعالیٰ سے امید رکھتے ہیں کہ اس نے حضرت سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہ الکریم کی دعا ہمارےحق میں ضرور قبول فرمائی (تبییض الصحیفہ ص5)یہ حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ تعالیٰ وجہ الکریم کی دعاؤں کا ہی ثمرہ ہے کہ حضرت ثابت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گھر امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیداہوئے، ایک اور روایت میں ہے کہ امام اعظم کے دادا نعمان بن مرزبان کےحضرت سیدنا علی سے گہرے تعلقات تھے آپ نے نو روزکےبعد حضرت سیدنا علی کی خدمت میں فالودہ کا تحفہ بھیجا تو حضرت سیدنا علی نے فرمایا ہمارے لئے ہردن نو روزہے،
ان روایات میں ِحضرت اسمعاعیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ امام اعظم کےدادا کااسم گرامی نعمان بن مرزبان بتایاہے جب کہ بعض روایات میں ان کا نام زوطی بن ماہ بیان ہواہے اسی اختلاف کی توجیہ علماء کرام نے یہ کی ہے کہ ایک راوی نےانکےنام لکھےہونگے اور دوسرے راوی نے القاب بیان کئے ہونگے، بعض کےقول کےمطابق جب زوطی ایمان لائے توان کانام نعمان سےبدل گیا، اسی لئے اسمعاعیل رحمۃ اللہ علیہ نے سلسلہءِ نسب بیان میں زوطی کا اسلامی نام نعمان لیا ہے اور اسلامی حمیت کا تقاضہ بھی یہی تھا(سوانح بےبہاامام اعظم ص 54)
امام اعظم کی کنیت-امام اعظم رضی اللہ عنہ کےتمام تذکرہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ آپ کی کنیت ابوحنیفہ تھی، اکثروبیشتر تذکارنگار لکھتے ہیں کہ امام اعظم کے صرف ایک بیٹے حضرت حمادتھے انکے علاوہ آپ کی کوئی اولادنہ تھی، وہ آپ کی کنیت ابوحنیفہ کی مندرجہ ذیل توجیہات بنان کرتے ہین،
★حنیف کا تا، تانیث ہے جس کا معنی ہے عبادت کرنے والا اور دین کی طرف راغب ہونےوالا
★آپکا حلقہءِ درس وسیع تھا آپکےشاگرد اپنےساتھ قلم دوات رکھا کرتے تھے چونکہ اہل عراق دوات کو حنیفہ کہتے ہیں اس لیئے آپکو حنیفہ کہاگیا، یعنی دوات والے،
★آپکی کنیت وضع معنی کے اعتبارسے کہا گیا ہے یعنی ابوالملۃ الحنیفۃ، قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سےخطاب فرمایا، (فاتبعوا ملۃ ابراہیم حنیفاً) سورہِ آل عمران*امام اعظم اسی نسبت سے اپنی کنیت ابوحنیفہ اختیارکی تھی، اس کا مفہوم ہے باطل ادیان کو ترک کرکےدین حق کو اختیار کرنےوالا(الخیرات الحسان ص71)امام اعظم کا ذکر اسی کنیت کےساتھ توریت میں بھی آیاہے محقق علی الاطلاق علامہ شیخ مدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں "بعض علماء نےبیان کیاہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ کاذکرتوریت میں ہے حضرت کعب بن احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےمروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جوتوریت حضرت موسی کلیم اللہ علیہ السلام پر نازل فرمائی، اس میں ہمیں یہ بات ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت محمد مصطفی صلی الله تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں ایک نورہوگا جس کی کنیت ابو حنیفہ ہوگی، امام اعظم کےلقب "سراج الامۃ" سے اسکی تائیدہوتی ہے (تعارف فقہ و تصوف ص50)
*بشارت نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم *علامہ موفق ابن احمدمکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ متوفی 578ہجری روایت فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہےکہ رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں ایک مرد پیدا ہوگا جس کا نام ابوحنیفہ ہوگا، وہ قیامت میں میری امت کا چراغ ہے(مناقب القلوب ص 50)
آپ نےیہ روایت بھی تحریر فرمائی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نبئی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کےپاس حکمت کا اتنا بڑا ذخیرہ تھا کہ اگر وہ اپنے خرمن حکمت سے ایک دانہ بیان فرماتےتو ساری دنیاکی حکمتیں آپ کے سامنے دست بستہ کھڑی ہوتیں، یہ سن کر حضور صلی الله تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو خیال آیاکہ کاش کوئی میری امت میں کوئی شخص ایسا ہوتا جوحضرت لقمان کی حکمت کا سرمایہ ہوتا، حضرت جبریل علیہ السلام دوبارہ حاضرہوئے، عرض کی یارسول اللہ، آپکی امت میں ایک ایسا مرد پیداہوگا جو حکمت کےخزانے سےہزاروں حکمتیں بیان کرےگا، اور آپ کی امت کوآپکےاحکام سےآگاہ کرےگا، حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواپنے پاس بلایااور انکے منہ میں اپنا لعاب دہن عنایت فرمایااور وصیت کی کہ ابوحنیفہ کےمنہ میں یہ امانت ڈال دینا، حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی یہ امانت امام اعظم کو حضرت انس کی وساطت سے ملی،ایک حدیث پاک میں امام شافعی رضی اللہ عنہ کےلیئے یہ بشارت دی کہ قریش کو برا نہ کہو کہ کیونکہ ان میں ایک عالن زمین کوعلم سے بھردےگا، یہ امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا فرمان ہے، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنے فرمایا کہ میری امت میں ایک ایسا شخص پیداہوگا، جسے نعمان کہاجائے گا
شان و عـظمت امام اعظم ابُو حنیفہ رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَـنۡـہۡ ،نبئ اکرم ﷺ کی امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر شفقت،حضرت یحییٰ بن معاذ رازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا تو پوچھا میں آپ کو کہاں تلاش کروں ؟فرمایا ابو حنیفہ کے علم کے پاس حضرت داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کشف المحجوب میں فرماتے ہیں میں نے خواب میں دیکھا کی نبئ کریم ﷺ تشریف لائے اور آپ نے اپنی بغل میں ایک بزرگ کو ایسے پکڑا ہوا ہے جیسے شفقت سے بچوں کو پکڑتے ہیں ،میں نے دل میں سوچا یہ کون ہے ؟رحمت عالم ﷺ نے میرے خیال پرمطلع ہو کر خود ہی جواب دیا یہ تمہارا اور تمہارے شہر والوں کا امام ہے (یعنی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)اسی طرح کی اور بھی روایات ہیں جن میں حضور نے آپ کا نام لےکرآپکی فضیلت بیان کیا ہے. لیکن ان احادیث پر بعض لوگوں نے جرح کیا ہے البتہ نبی کریم کی امام اعظم ابوکےحق میں ایک ایسی بشارت ہے جس پر تمام محدثین کرام متفق ہیں امام جلال الدین سیوطی شافعی فرماتے ہیں کہ نبی کریم نےایک حدیث میں امام مالک کےلیئے یہ بشارت دی، ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ لوگ اونٹوں پر سوار ہوکر علم کی جستجو وتلاش میں نکلیں گے. مگر مدینہ منورہ کےایک عالم سے بڑھ کر کسی کو نہ پائیں گے، اور میں کہتاہوں کہ آقا نے سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ کےلئے اس حدیث میں بشارت دی ہے جسے حافظ ابونعیم نے الحلیہ میں حضرت ابوہریرہ سے روایت کیاہے کہ سر کارمدینہ نے ارشاد فرمایا کہ اگرعلم ثریاکےپاس ہوتوفارس کےجواں مردوں میں ایک مرد ضرور اس تک پہنچ جائےگا، اور حضرت ابوہریرہ کی وہ حدیث جس کے الفاظ صحیح وبخاری ومسلم میں ہیں وہ یہ ہے "لوکان الایمان عندالثریا لتناولہ رجال من فارس"اگرایمان ثریاکےپاس ہوتوفارس کے کچھ لوگ اس کو ضرور حاصل کرلیں گے،
*آپ کا سن ولادت*امام اعظم ابوحنیفہ کےسن ولادت میں اختلاف ہےایک روایت کےمطابق آپ 80 ہجری میں پیداہوئے، علامہ شاہ ابوالحسن زیدی فاروقی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کےنزدیک امام اعظم کایہ سن ولادت اہل حدیث نے مشہورکررکھاہے، (سوانح بےبہاامام اعظم ص 63)خبیب بغدادی روایت کرتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ کی ولادت 61 ہجری اور وفات 150 ہجری میں ہوئی (تاریخ بغدادی ص 13)
اس پر ہزاروں علماء ازہرنے درج زیل حاشیہ لکھاہے قدیم علماءکرام کی وہ جماعت جس نے امام اعظم ابوحنیفہ کی روایت کی تدوین کی ہے، جوآپکے صحابہءِ کرام سے کی ہیں اس نے اس قول کک طرف میلان کیاہے جیسے امام ابومعثرطبری شافعی وغیرہ ،حضرت امام اعظم ابوحنیفہ 70 ہجری میں پیدا ہوئے علامہ کوثر مصری نے70 ہجری کو دلائل وقرآئن سے ترجیح دی ہے آپ 87 ہجری کو اپنے والد کےساتھ حج کوگئےوہاں صحابئی رسول حضرت عبداللہ بن الحارث رضی اللہ عنہ کی زیارت ہوئی اور ان سےحدیث بھی سُنی، 96 ہجری میں پھر حج کوگئے اور جو صحابہءکرام زندہ تھے ان سے ملاقات کاشرف حاصل ہوا
علامہ قاضی ابو عبداللہ حسین بن صمیری اور امام ابن عبدالبر متصل سندسےقاضی القضاۃ امام ابو یوسف کےنزدیک یہ روایت ہےکہ میں نے امام اعظم ابوحنیفہ سے سناکہ میں 93 ہجری میں اپنے والدکےساتھ حج کو گیااس وقت میری عمرسولہ سال کی تھی وہاں میں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جن کے اردگرد لوگوں کاہجوم تھا میرے والد گرامی نے بتایا کہ رسول پاک کےصحابی حضرت عبداللہ بن الحارث بن جزء ہیں اور لوگ انکے ارد گرد اس لئے جمع ہیں تاکہ ان سے رسول کریم کی حدیثیں سنیں میں نے عرض کی آپ مجھے ان کے پاس لے جائیں تاکہ میں بھی حدیثیں سنیں، چنانچہ وہ مجمع کو چیرتے ہوئے مجھے لےکرآگےبڑھے،
حتی کہ میں ان کے قریب پہنچ گیا اور میں نے اُنہیں فرماتے سنا کہ، میں نے رسول اللہ سے سنا کہ جس نے دین کی سمجھ حاصل کرلی، اسکی فکروں کا علاج اللہ تعالیٰ کرتاہے اور اسے اس طرح روزی دیتاہےکہ اسکےگمان میں بھی نہیں ہوتا،
امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اس روایت سےظاہرہےکہ امام اعظم کی ولادت 77ہجری کی ہے،
اسکے متعلق علامہ ابوالحسن زیدی فاروقی فرماتے ہیں، عاجزکےنزدیک یہ روایت دیگر روایتوں سے ارجح وقابل اعتماد ہے اور امام اعظم ابوحنیفہ کاسال ولادت 77 ہجری ہے
شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ امام اعظم ابوحنیفہ کےسن ولادت کےمتعلق فرماتے ہیں، زیادہ تر لوگ 80 کو ترجیح دیتے ہیں لیکن بہت سے محققین نے70 ہجری کوترجیح دی ہے اور اس خادم کےنزدیک بھی یہی اصح ہے،کہ ِحضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا سن ولادت 70 ہجری ہے (مقدمۃ نزہۃ القاری شرح بخاری ص 169)
*علم کی طرف رجحان* امام اعظم دینی ابتدائی تعلیم حاصل کرنےکےبعد تجارت کی طرف متوجہ ہوئے، آپ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن بازار جا رہا تھا کہ کوفہ کےمشہورومعروف امام شعبی علیہ الرحمہ سے ملاقات ہوگئی، انھوں نے مجھ سے کہا بیٹا کیا کام کرتے ہو،؟ میں نےکہا کہ بازار میں کپڑےکا کاروبار کرتا ہوں ،کپڑےبیچتاہوں،آپ نے فرمایا تم علماء کی مجلس میں بیٹھاکرو مجھےتمہاری پیشانی پرعلم وفضل اور دانشمندی کےاثر پائے جا رہے ہیں ان کے ارشادنے بہت متاثر کیا اور میں نے علم دین کےحصول کا راستہ اختیار کیا،
امام اعظم نے علم کلام کا عمیق مطالعہ کرکے اس میں کمال حاصل کیا اور ایک عرصے تک علم کے ذریعے بحث ومباحثہ مناظرہ میں مشغول ہوگئے، پھر انہیں الہام ہوا کہ صحابہءِ کرام اور تابعین عظام ایسانہ کرتے تھے حالانکہ وہ علم کلام کو مزید جانتے تھے وہ شرعی وفقہی مسائل کےحصول اور انکی تعلیم میں منہمک رہتے تھے، چنانچہ آپ کی توجہ مناظروں سے ہٹنےلگی، آپکےاس خیال کو مزید تقویت حاصل یوں ہوئی کہ آپ امام حمادکےحلقہءِ درس کےقریب رہتے تھے، کہ آپ کے پاس ایک عورت آئی اور اس کاسوال یہ تھاکہ ایک شخص اپنی بیوی کو سنت کےمطابق طلاق دینا چاہتا ہے وہ کونسا طریقہ راستہ اختیار کرے،؟؟ آپ نے اسے حضرت حماد کی خدمت میں بھیج دیا اور فرمایاکہ وہ جو بھی جواب دیں مجھے بتاکر جانا، امام حماد نے فرمایا کہ وہ شخص عورت کو اس طہرمیں طلاق دے جس میں جماع نہ کیا ہو اور پھر اس سے علیحدہ ریے حتی کہ تین حیض گزر جائیں، تیسرے حیض کےاختتام پر وہ عورت غسل کرےگی اور پھر نکاح کےلئےآزادہوگی،یہ جواب سن کر امام اعظم ابوحنیفہ اسی وقت اٹھے اور امام حمادکے حلقہ درس میں شریک ہوگئے، آپ فرماتے ہیں کہ میں حضرت حمادکی گفتگو اکثر حفظ کر لیا کرتے تھے مجھے انکے اسباق مکمل طورپرحفظ ہو جاتے تھے، آپکےشاگردجب مسئلہ بیان کرتے تو میں ان کی غلطیوں کی نشاندہی کرتا، چنانچہ استاذگرامی حضرت حمادنےمیری ذہانت ولگن کو دیکھ کر فرمایاکہ ابوحنیفہ میرے سامنے صف اول میں بیٹھاکریں، اس بحرعلم سے سیراب ہونےکا تسلسل دس، سال تک جاری ساری رہا،
*ابتدائی تدریس*
امام اعظم کو امام حمادکےحلقہءدرس میں ہمیشہ نمایاں مقام حاصل رہا، بعدہ عرصہ درازآپکےخیال میں آیاکہ کیوں نہ اپنا حلقہءِ درس علیٰحدہ کریں، جس دن آپ نے حلقہ درس قائم کرنےکا ادارہ ظاہر کیا اسی رات کوآپ حضرت حمادکےپاس بیٹھے تھے کہ اچانک انکواطلاع ملی کے کسی قریبی رشتہ دار کا انتقال ہوگیاہے چنانچہ وہ سفر پر روانہ ہوگئے اور آپکو خلیفہ بناگئے،، ان کی غیر موجودگی میں آپ نے ساٹھ ایسے دقیق مسائل پر فتوےدیئے جن کے متعلق آپ نے استاذسےنہ سناتھااور نہ ہی پڑھا تھا،بعدمیں آپ نے وک جواب استاذکو دکھائےتو انھوں نے چالیس مسائل سے اتفاق کیا اور بیس مسائل میں اصلاح کی، اسی وقت امام اعظم ابوحنیفہ نےقسم کھائی کہ جب تک زندگی ہےحضرت امام حمادکی مجلس ترک نہیں کروں گا ،
جب آپکے استاذ ِحضرت امام حمادکا انتقال ہوگیا تو لوگوں نے ان کے بیٹے سے استدعاکی کہ وہ اپنے والد گرامی کے مسندپر تشریف رکھیں مگروہ اس ذمہ داری کےلئے راضی نہ ہوئے آخر کارامام اعظم ابوحنیفہ کی خدمت میں گزارش کی گئی توآپ نے فرمایا، میں نہیں چاہتا کہ علم مٹ جائے، اور ہم دیکھتے رہ جائیں، چنانچہ آپ اپنے استاذمکرم کی مسنداعلی پر بیٹھے، اہل علم کا ایک بڑا حلقہ آپ کے گرد جمع ہونے لگا، آپ نے اپنے شاگردوں کےلئے علم وفضل کےبابوں کو وا کردیا، محبت وشفقت کے دامن پھیلادیئے، احسان وکرم کی اعلی مثالیں قائم کردیئے، اپنے شاگردوں کا اسطرح زیورعلم سے آراستہ وپیراستہ کیا کہ یہی لوگ مستقبل میں آسمان علم وفضل کے آفتاب وماہتاب ودرخشندہ ستارے بنے، اور پورے عالم اسلام میں حکومت کی،
*اخلاق وکرداد*امام اعظم ابوحنیفہ میانہ قدر، خوبصورت، خوش گفتار، وشیریں لہجےوالے تھے آپکی گفتگو فصیحانہ وبلیغانہ ہوتی، حضرت ابو نعیم کہتے ہیں کہ آپ کا چہرہ اچھا، کپڑے اچھے، خوشبودار بہترین اور مجلس اچھی ہوتی تھی آپ بہت کرم کرنے والے اور رفیقوں کےبڑے غم خوارتھے، حضرت عبداللہ ابن مبارک نے حضرت سفیان ثوری سے کہا، امام ابوحنیفہ غیبت کرنےسےکوسوں دور رہتے تھے، میں نے کبھی نہیں سناکہ انھوں نے اپنے کسی مخالف کی غیبت کی ہو، حضرت ابو سفیان نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی قسم وہ بہت عقلمندتھے جوانکی نیکیوں کو ضائع کعدے، ضمرہ کےقول کے مطابق، لوگوں کا اتفاق ہےکہ امام اعظم ابوحنیفہ درست لسان تھے، انھوں نے کبھی کسی کا ذکر برائی سے نہیں کیا، جب ان سے کہا گیا کہ آپ پر لوگ اعتراض کرتے ییں اورآپ کسی پر اعتراض نہیں کرتے ہیں توآپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطاکرے،
*امام اعظم بحیثیت تاجر*
ریشمی کپڑےکو عربی میں الخزاز کہتے ہی، امام اعظم ابوحنیفہ ریشمی کپڑے کی تجارت کرتے تھے، آپکی تجارت بہت وسیع وعریض تھی، لاکھوں کا لین دین تھا، اکثر شہروں مین کارندےمقررتھے، بڑےبڑےسوداگروں سے معاملہ رہتاتھا، اتنے وسیع پیمانے پرمشتمل کاروبار کے باوجود دیانت داری اور احتیاط کا اس قدر خیال رکھتے تھے. کہ ناجائز طورپر ایک دوآنہ بھی انکی امدنی میں داخل نہیں ہو سکتا تھا، امام اعظم ابوحنیفہ صفات اربعہ کی وجہ سےایک کامل وماہر تاجرہوئے، (1)آپکا نسب غنی تھا کالچ کا اثرکسی وقت بھی آپ پر ظہور نہ ہوا (2)آپ نہایت درجےکےامانت دارتھے(3)آپ معاف در گزر کرنے والے تھے(4)آپ شریعت کےاحکام پرسختی ومستحکم سےعمل پیرا تھے، ان اوصاف عالیہ کا اجتماعی طورپر جو اثر آپ کے تجارتی معاملات پر ہوا،
اسکی وجہ سےآپ تاجروں کےطبقہ میں انوکھے اور بےمثل وبےمثال تاجرہوئے، بیشترافرادنےآپ کی تجارت کوحضرت امیرالمؤمنین حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تجارت سے تشبیہہ دی ہے گویاآپ حضرت سیدنا ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کی ایک عملی مثال پیش کررہےہیں اورآپ ان راستوں پرچل کر بتا رہے ہیں جن پرصحابہ وصالحین کا عمل تھا، ایک دن ایک عورت آپ کےپاس ریشمی کپڑے کی تھان بیچنےکےلئے لائی، آپ نےقمیت پوچھی، اس نے ایک سوبتائی، آپ نے فرمایا یہ کم ہیں، کپڑا بیش قیمتی ہت، اس نےدوسوبتائی، آپ نے پھر کہا، یہ دام قلیل ہیں، اس نےپھرسوروپئے زیادہ کردیئے، حتی کہ چارسو تک پہنچ گئی، آپ نے فرمایا یہ چارسوسےزیادہ کاہے، وہ بولی کہ آپ مذاق کرتے ہو، آپ نے اس کو پانچ او دےکرکےوہ کپڑا خرید لیا، اس تقوی اور دیانت داری نےآپکےکاروبار کوبجائے نقصان پہنچانےکےاور مزید چمکادیا،*عبادت وریاضت*علامہ ابن حجرعلیہ الرحمہ لکھتےہیں کہ امام ذہبی نےفرمایا کہ امام اعظم ابوحنیفہ کا پوری رات عبادت کرناتہجدپڑھنا تواترکےساتھ ثابت ہے، یہی وجہ ہےکہ کثرت قیام کی وجہ سےآپ کو وتدیعنی میخ، کھیل کہا جاتا تھا، آپ تیس سال تک ایک رکعت میں مکمل قرآن مجیدپڑھتے رہتے، آپ کے بارے میں مروی ہے کہ آپ نےعشاء کےوضوسےفجرکی نمازچالیس سال تک پڑھی، امام اعظم ابوحنیفہ نےپچپن حج کئے، آخری حج میں کعبہ شریف کےمجاوروں سے اجازت لےکرکعبہ شریف کےاندرتشریف لےگئے، وہاں آپ نے دورکعت میں پورا قرآن اس طرح تلاوت کیا کہ پہلی رکعت میں دائیں پاؤں پر زور رکھا، بائیں پاؤں پر دباؤ نہیں دیا، اس حال میں نصف قرآن تلاوت فرمایا پھر دوسری رکعت میں بائیں پہلو پر زور رکھا، اگر چہ دوسرا پاؤں بھی زمین پر تھا مگر اس پر زور نہیں تھا اس طرح آپ نےبقیہ نصف قرآن پاک کی تلاوت مکمل کی،
*وصال پُرملال*
خلیفہ منصورنےآپ کو جسٹس قاضی القضاۃ کےعہدے کے لئے بغداد بلایا، اور لالچ دیاکہ دنیائے اسلام کےتمام قاضی آپکےماتحت ہونگے لیکن آپ نے اس عہدے سے انکار کردیا جس کی پاداش میں آپکو قیدکردیاگیا وہ روز آپکو پیغام بھیجتاکہ اگر رہائی چاہتے ہوتوعہدہ قبول کرلو، لیکن آپ ہر بار انکار کرتے رہے، ادھراسکےدرباری خلیفہ کوبھڑکاتے کہ یہ تو سخت توہین ہے چنانچہ اس نے حکم دیاکہ روزانہ قید سےنکال کردس کوڑے لگائےجائیں، آپ کو دردناک طریقےسےماراگیا، یہاں تک کہ خون بہنے لگا اور خون بہہ کر ایڑیوں پرگرنےلگا، اسی طرح دس دن تک روزانہ دس کوڑےمارےجاتے پھر خلیفہ نےحکم دیاکہ سرپرکوڑےمارےجائیں، اس بدترین ظلم وستم جبروزورکےباجودبھی آپکےپائے استقلال میں جنبش نہیں آئی، تو خلیفہ کےحکم سےآپ کوجیل خانہ میں زہردےدیاگیا اس طرح آپ کی شہادت ظاہری وخفیہ طورپرواقع ہوئی، آپ کا وصال ماہ شعبان المعظم 150 ہجری میں ہوا،
دنیائے فقاہت میں تیرا نام رہےگا
نعمان تیرے نام سے اسلام رہےگا


0 تبصرے