Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

معراج نبوی کے آفاقی مقاصد وپیغام

تحریر:مولانا محمد قمر انجم قادری فیضی
وہ سرور کشور رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے 
نئے نرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کےلیئے تھے
ہجرت مدینہ سے تقریبا ایک سال پہلے کے حالات اسلام قبول کرنےوالوں کےلئےانتہائی پریشان کُن اور اذیت ناک تھےنیز اسلام کی تاریخ بننے سے قبل ہی بگڑتی ہوئی معلوم ہو رہی تھی، گنتی کے چند لوگ ہی قبولِ اسلام کے بعد اپنے نظریے پر استقامت سے کھڑےتھے،شرق وغرب، اور عرب و عجم سےکفر و ظلم کی تاریکیوں کو مٹانے کی دعویدار یہ قلیل سی مگر منظم جماعت خود اپنے ہی شہر میں تاریخی جبر کے ہاتھوں مجبور اور مقہور تھی وہ کونسی ذہنی و جسمانی اذیت تھی جس کا کڑوا کسیلا ذائقہ رحمۃ اللعالمین  صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے نہ چکھاہو، مگر صد آفرین کہ بارگاہ الہی میں ایک ساعت کے لیئےبھی شاکی نہ ٹھہرے، 
ایسے میں رب العالمین نے اپنے محبوب اور ان کے جانثاروں کی دل بستگی اور ہمت افزائی کے لئے وہ تاریخی انعام واکرام فرمایاکہ جوحضور سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے اور صدقے سےسےتاقیام قیامت عالم انسانی ترقی کی حقیقی منزل کا روشن نشان قرار پایا،سابقہ انبیاء کرام ورسولان عظام نے استقبال فرمایا، اور آپ کی امامت میں نماز ادا فرمائی، تکمیل نمازکےبعد انبیاء کرام علیہم السلام نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی، خطابات فرمائے، ان انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نےیکےبعد دیگرے اپنے اپنے خطابات میں حمدخداوندی کے ساتھ ساتھ اپنے کمالات و معجزات کا اظہار بھی کیا، 
اورسب سے آخر میں حضور سیدعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حمدوثناکےبعد ارشاد فرمایا
تمام حسن وکمال اسی اللہ تعالیٰ کےلئے ہے جس نے مجھے رحمت للعالمین اور کائنات کےلیئے بشیرونذیر بناکر بھیجاہےمجھ پرقرآن مجیدجو حق وباطل میں فرق کرنے والاہے نازل فرمایا
میری امت کو خیرامم کےخطاب سےنوازا، میرے سینےکوکشادہ فرمایا، میرے ذکرکوبلند فرمایا، میرابوجھ ہلکا کردیا، مجھے تمام مخلوق سے اول پیدا کیا، اورتمام کے انبیاء کے بعد آخری نبی بنا کر بھیجا، اس پرحضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: 
بھذا افضلکم محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم، 
ائے محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اسی بناء پرحق تعالیٰ نے آپکو سب سےافضل قرار دیا، 
(مدراج النبوۃ، جلداول ص 297)
لہذا خاتم الانبیاء سفر معراج کی ابتداء میں امام الانبیاء کے اعزاز سے سرفراز ہوئے ایسی عظیم الشان تقریب کے لیے شایان شان مقام کے حسن انتخاب کی کیا کہنے! کہ جو اکثر انبیاء کا وطن اور مدفن ہے
یہاں سے ساتوں آسمانوں کی سیر فرمائی جہاں چنیدہ اولوالعزم پیغمبروں سے فرداً فرداً ملاقات کا اہتمام موجود تھا،
پہلے آسمان پر حضرت سیدنا آدم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی دوسرے آسمان پر حضرت سیدنا یحییٰ وحضرت سیدنا عیسی علیہم السلام نے مرحبا کہا،تیسرے آسمان پر حضرت یوسف علیہ السلام نے آنکھیں بچا رکھی تھی،چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام موجود تھے پانچویں آسمان پرحضرت سیدنا ہارون علیہ السلام  سے تعارف ہوا، 
چھٹی آسمان پر سیدنا موسی کلیم اللہ علیہ السلام کا جاہ وجلال سراپا استقبال تھا، اور ساتویں آسمان پر آپ کے جد امجد حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اپنی دعا کو مکمل مجسم صورت میں ملاحظہ فرمارہے تھے، 
برصغیر ہندوپاک کے معروف نامور محقق ڈاکٹر حمید اللہ کے مطابق کسی شخص سے آگے بڑھنے کے لیے اس کے برابی کی سطح تک آنا ہوتا ہےحضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی پیغمبروں سے ملاقات ان کی خصوصیات کا اعلی پیمانے پر حصول تھا،
رضا بریلوی فرماتے ہیں، 
شب اسری کےدولہا پہ دائم درود، 
نوشئہِ بزم جنت پہ لاکھوں سلام، 

حضرت آدم علیہ السلام کے پاس اپنی غلطی کے اعتراف کی جرات تھی، حضرت عیسی علیہ السلام کو دنیاوی اور مادی آلائشوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی حضرت یوسف علیہ السلام نے  عظمت ورفعت اور پاکیزگی کی اعلی مثال قائم کی،حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا کہ تحریر کے موجد تھے جس سے تمام انسانیت تہذیب و تمدن سے ہمکنارہوئی،حضرت ہارون اور حضرت موسی علیہم السلام نےاہل ایمان کو ظالم فرعون کے ظلم و ستم سے بچایا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہمیں توحید کا پاکیزہ ترین مفہوم سمجھایا، 
مزید یہ کہ اللہ تعالی کےجملہ احکامات کو لوگوں تک پہنچایا ، یہ ایک اچھے مومن کی بنیادی خصوصیات ہیں اورحضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان تمام خصوصیات کو حاصل کیا،
اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں، 
فرشتے خدم رسل حشم تمام امم غلام کرم، 
وجودوعدم حدوث وقدم جہاں میں عیاں تمہارےلیئے، 
(کتاب، محمدالرسول اللہ، از-ڈاکٹر محمدحمیداللہ)
بعدہُ ازاں آپ کو جنت کے نظاروں اور جہنم کا مشاہدہ کرایا گیا دوران سفر جب سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پر پہنچے تو جبرئیل امین نے آگے جانے سے معذرت چاہی،
یانبی دیکھا یہ رتبہ آپ کی نعلین کا، 
عرش نے چوما ہے تلوا آپ کی نعلین نے، 
اس سے آگےجائےجوجَل جائینگےپرجبریل کے، 
اس سے آگے جانا دیکھا آپ کی نعلین کا، 
شیخ سعدی کی زبان میں، 
اگر یک سرِموئے بر ترپرم، 
فروغِ تجلی بسوزد پرم، 
 آخرکارسفر معراج کی وہ منزل مقصود بھی آپہنچی، جس کے لئے آپ کو فرش سےعرش پربلایاگیا،اور دیدار الہی کی نعمت عظمیٰ آپ کا مقدر ٹھہری، قرآن حکیم میں ہے،(جس ذات نے ترقی کا پیمانہ مقرر کیا اور انسانیت کی اسی کی طرف رہنمائی کی) یعنی خدائے تعالیٰ نے تمام انسان کو صالح فطرت پر پیدا فرمایاہے، اور انسانیت کی ترقی اور کامیابی کیلئے راہ ہدایت کی طرف رہنمائی فرمائی، 
عظیم ترین تاریخی واقعہ معراج انسانی ارادہ، کاوشوں، کارناموں، اور ترقیات کا رخ متعین کرتا ہے تاکہ انسان بھول بھلیوں سے نکل کر ہمہ وقت اپنے مقصد حیات کو پیش نظر رکھے،مفسرین کرام کے مطابق صرف سورہ بنی اسرائیل کی ابتدائی آیات ہی واقعئہ معراج سے متعلق نہیں بلکہ پوری سورہ
اسی معراج کے اردگرد گھومتی ہے اور معراج کے فلسفہ و مقاصد کو واضح کرتی ہے، 
(سیرت النبی جلد سوم، صفحہ نمبر 252)
میرے سرکار مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نبئی القبلتین کے منصب جلیلہ پر فائز ہوئے ورنہ آپ سے پہلے جس قدر انبیاء کرام شام اور عرب میں گزرے ہیں وہ ان دونوں میں سے کسی ایک قبیلے کے متولی ہوا کرتے تھے، 
حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے دو بیٹے عطا کئےتھے،حضرت سیدنا اسحاق علیہ السلام شام میں آبادہوئےاور حضرت سیدنا اسمٰعیل ذبیح اللہ علیہ السلام نے عرب میں قیام فرمایا آگے چل کر ان دونوں صاحبزادوں کی اولاد میں بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل کی تفریق پیدا ہوئی جسے اللہ تعالی نے حضور کے ذریعے ختم کیا اور آپ نے پھر سے ملت ابراہیمی کو نظری عملی اور تاریخی اعتبار سے وحدت بخشی،
اسی سفر میں سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام سے ملاقاتیں ہوئیں، اور انکی امامت کے شرف سے معلوم ہوتاہے کہ آپ اور سابقہ پیغمبروں کے مشن میں کوئی فرق اور تعارض نہیں پایا جاتا،
بلکہ باہمی فرق صرف زمانی و مکانی،حالات، معروضیت اور عصری تقاضوں کا ہے اسی لئے پہلے انبیاء قومی درجہ پرمبعوث ہوئے، 
جب کہ آپ نے حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی عالمگیر دعوت کی ترویج و اشاعت کی تکمیل فرمائی، 
حضرت موسی علیہ السلام کو طورِ سینا پر احکام عشرہ سےنوازا گیا اور  امت مسلمہ کو انسانیت نما،و ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے بارہ احکامات صادر ہوئے ہیں جو زیادہ جامع اور ہر دور کی  انسانیت کو اسکی فطرت پر قائم رکھنے کے لیے بنیادی نسخہ ہیں، 
انسانوں کو حکم دیا گیا،کہ
(1)شرک نہ کرو(2) والدین کی عزت اور اطاعت کرو(3)حق داروں کاحق ادا کرو(4)
 اسراف، افراط و تفریط سے پرہیز کرکے میانہ روی اختیارکرو(5) اپنی اولاد کو قتل نہ کرو(6) زنا کے قریب نہ جاؤ(7)کسی کو ناحق قتل نہ کرو(8)یتیموں سے بہتر سلوک کرو(9)عہد کی پاسداری کرو(10) ناپ تول اور وزن کرنے میں عدل کرو(11) نہ معلوم بات کی پیروی نہ کرو یعنی جہالت سے دور رہو(2)غرور اور تکبر سے اجتناب کرو ،
(سورت بنی اسرائیل آیت نمبر 30 سے37تک
معراج نبوی کا عظیم ترین تحفہ جو آپ کو امت کے لئے عطا کیا گیا وہ پنجگانہ نماز ہے نماز معراجِ مومن ہے، اسے سے واضح ہوتا ہے کہ انسانیت کے سفرارتقاء و عروج کا حاصل اور مطلوب صرف اور صرف "حقیقت کبری" اور "ذات خداوندی"کا عرفان ہوناچاہئیےمعراج کا یہ عظیم ہدیہ دن میں پانچ مرتبہ ہمیں فلسفہ حیات اور فلسفہ معراج کی یاد دلاتا ہے اور یقینا دنیائے رنگ وبو میں اہل بصیرت کےلیئے نماز سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں،
جیسا کہ حدیث میں احسان کی تعریف موجود ہے،عبادت اس طرح کروجیسے تم اسے دیکھ رہے ہو ورنہ یہ احساس رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہاہے،
واقعہ معراج کی عظمت ورفعت ،قدرومنزلت موجودہ دور کی انسانیت کو متوجہ کرتی ہے کہ  اگر آج ہم نے انسانیت میں ہرقسم کے امتیازات وتفریقات کو ختم کرکے وحدت بخشنا ہےاور انسانی معاشروں کو امن خوشحالی،ترقی اورعدل و انصاف اور جامع واجتماعی ترقی سےہمکنارکرناہے،
نیز قافلہءِ انسانیت کو بہیمیت سے نجات دلاکر اسے اخلاق وکردارِ حسنہ سےروشناس کرانا ہے اور انسانی ظاہر و باطن میں توازن اور یگانگت پیدا کرکے انسانیت کو اس کے اصل کی طرف لَوٹاناہے جو کہ اس کی تمام تر ترقی کے عروج کی معراج ہےتو پھر ہمیں حضور سروردوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ سےرہنمائی حاصل کرنی ہوگی اور ان کو اپنا آئیڈیل منتخب کرنا ہوگا، جس کی طرف قرآن نے بھی دعوت دی ہےحضور امام الانبیاء خاتم الانبیاء صلی اللہ وسلم کے لائے ہوئے جامع دین کا مکمل شعور حاصل کرنا ہوگا اور حکمت وبصیرت کے ساتھ انسانیت کو پھر سے اس کا بھولا ہوا سبق یاد دلانا ہوگا اور اسی طرح سورہ بنی اسرائیل جو کی اصل میں سورہ معراج ہے اس میں موجودہ بارہ نکاتی احکام کوسماجی نظاموں میں پِرو کر اپنے معاشروں کی ظاہری و باطنی تطہیر کرنی ہوگی تاکہ انسانیت کو اپنے معراج پانے میں کوئی دشواری لاحق نہ ہو، 
  وہ وقت تھا جب نبئی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جزیرہ نما عرب میں دعوت و تبلیغ کا کام مسلسل انجام دے رہے تھےمگر اس میں خاطر خواہ کامیابی نہیں مِل رہی تھی، درمیان میں ظلم وستم اور روکاوٹیں حائل تھیں، اس کے باوجودافق کے دور دراز پنہائیوں میں دھندلے تاروں کی جھلک دکھائی دینے لگی تھی کہ معراج کا واقعہ پیش آیا یہ معراج کب واقع ہوئی تھی اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں یہ واقعہ ہجرت نبوی سے تقریبا ایک سال پہلے پیش آیا تھا، عظیم الشان واقعہ عظمت رسالت پر مشتمل تھا  نبئی کریم صلی اللہ وسلم رات کے وقت مسجد الحرام (مکہ) سے مسجد اقصیٰ بیت (المقدس) تک تشریف لے گئے  اسکے بعد وہاں سے آسمانوں کے اوپر تک تشریف لے گئے اور پھر واپس تشریف لے آئے،
اس کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے پاک ہے وہ ذات جو لےگیا اپنے  بندے کو راتوں رات مسجد اقصیٰ سے مسجد حرام تک، جس کے گرد ہم نےبرکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھلائیں، (سورہ بنی اسرائیل  آیت نمبر 1)
واقعئہِ معراج بہت سی احادیث میں مذکور ہے اس کے راوی صحابئہِ کرام کی تعدادپچیس سے زیادہ ہے
 میرے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو معراج جسمانی حاصل ہوئی،اس ضمن میں متعدد دلائل پیش ہیں، جمہور علماء کا قول یہ کہ یہ سفر جسمانی تھا،محضِ روحانی نہیں تھا، (جیسےخواب میں ہوتاہے) یا کشفی قسم کانہیں تھا،
منکرین معراج تو روحانی ہی سمجھتے ہیں سے اور منکرین حدیث تو واقعہ معراج کا بالکل ہی انکار کرتےہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک واقعی جسمانی سفر تھا اور اس کے وجوہات درج ذیل ہیں پہلی وجہ، سب سے پہلےآیت میں "عَبد" یعنی بندے کا لفظ آیا ہےجو جسم و روح دونوں کے مجموعے پر بولاجاتا ہے اس لفظ کا اطلاق نہ صرف انسانی جسم پر ہوتاہے اور نہ صرف روح انسانی پر، بلکہ دونوں ہوتاہےدوسری وجہ، اگر واقعے کے بعد کافروں کی تکرار ثابت ہو جائے تو خلاف عادت  واقعہ یا معجزہ ہوتاہےقرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے،
اور جب یہ کافر کو نشانی یا معجزہ دیکھتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے ،
اور یہ بات صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جب صبح کے وقت نبی اخر الزماں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کے لوگوں کو گزشتہ رات کا یہ حیرت انگیز واقعہ سنایا توکفارمکہ نے یقین کرنے کے بجائے اس کا خوب مذاق اڑایا، ان کا کہنا تھا کہ مکہ سے بیت المقدس تک کا سفر (40)چالیس دن کا ہے وہاں تک جانے اور پھر وہاں سے واپس آنے میں پورے(80) دن لگیں گے، اتنا طویل سفر راتوں رات کیسے ممکن ہے کفار مکہ نے یہ بھی کہا کہ یہ بات (نعوذباللہ من ذالک) آپ کی گڑھی ہوئی کہانی ہے اور یہ کہ اس میں کوئی سچائی نہیں ہے
ہوا یوں کی مکہ کے بعض لوگ بیت المقدس کا اکثر سفر کرتے رہتے تھے وہاں اس جگہ سے، اور اس کے راستوں سے بھی اچھی طرح واقف تھے انہوں نے نبی پاک  علیہ الصلوة والسلام سے کچھ سوالات یہ سوچ کر کیئے اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان سوالات کےجواب نہیں دے پائیں گے،اس وقت آپ حطیم میں کھڑے تھے، جیسے ہی آپ نے نگاہ نبوت کو اوپر اٹھایا،مسجد اقصیٰ آپ کے سامنے نظر آنے لگاجسے دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یکے بعد دیگرے تمام کافروں کےجوابات دیتے گئے، 
اچھے رضا، ہم سب کے رضا امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں 
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا، 
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود،
معراج نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق  حدیث ذیل میں پیش کی جاتی ہیں، 
حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس رات مجھے بیت المقدس لے جایا گیا تو میرے سامنےدو پیالے لائے گئے جس میں ایک  پیالہ دودھ کا، اور دوسرا شراب کا تھا، 
میں نے دودھ کے پیالے کولےلیا، 
حضرت جبرئیل امیں ستر ہزار فرشتوں کو لےکر ایک برق رفتار سواری براق لئے حاضرہوئے، 
براق کےبارےمیں کہاجاتاہے کہ اس کا رنگ سفیدتھا، اسکےدوبازوتھے، اورپیشانی سرخ یاقوت کی بنی تھی اسکی تیز رفتاری کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ منتہائے نظر پر اس کاقدم جاتاتھا، ستر ہزارفرشتوں نے براق کے گرد حلقہ کیا، سرکاردوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس انداز سے سوار ہوئے کہ حضرت جبریل نےرکاب تھامی ہوئی تھی اور گروہ ملائکہ سمیت بیت المقدس بصدعزت وتکریم روانہ ہوئے، 
باغ عالم میں باد بہاری چلی، 
سرور انبیاء کی سواری چلی، 
یہ سواری سوئے ذات باری چلی، 
ابر رحمت اٹھی آج کی رات ہے،
  حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کا ارشادگرامی ہےکہ معراج کی رات مجھے جبریل امیں لے کرچلے توہم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچےاور سدرۃ المنتہی کو کئیں طرح کے رنگوں نے ڈھانپاہوا تھا پھر وہ مجھے جنت میں لے گئے وہاں کیا دیکھتا ہوں کے گنبد تو موتیوں کے ہیں اور اس کی مٹی کستوری کی ہے، 
*واقعہ معراج کی اہم باتیں*
بیت المقدس میں تمام سابقہ انبیاء کرام کا جمع ہونا اور جبرئیل کا آپ کو امامت کے لئے آگے بڑھانا اورپھر آپ کا امامت کرنا جس سے آپکی تمام انبیاء کرام پر فضیلت ومرتبت ثابت ہوتی ہےمختلف آسمانوں پر بعض رسولوں سے آپ کی ملاقات کا شرف حاصل ہونا، دن میں پانچ نمازوں کی فرضیت یا معراج کا تحفہ جسکے بعدپنج وقتہ نماز ادا ہونےلگی، ساتوں آسمانوں سے اوپرسدرۃُ المنتہی
تک جانا اور اللہ تعالی کے عجائبات کا مشاہدہ، جنت اور دوزخ کا مشاہدہ اوربعض جرائم کی سزاؤں کا مشاہدہ وغیرہ آپ کو سدرۃُ المنتہی تک لےجانا جو ساتویں آسمان پر واقع ہے فرشتے بھی اس مقام سے آگے نہیں جا سکتے پھر آپ کے لئے بیت المعمور کو ظاہر کیاگیا، 
حدیث شریف میں ہےرسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب میں بیت المعمور پر گیاتو میں نے دیکھا کہ ساتوں آسمانوں کے فرشتے اسکاطواف کرکےمیرے انتظار میں کھڑے تھے، وہاں بحکم الہی آذان ہوئی اور حضرت جبریل علیہ السلام نے عرض کی،ائے حبیب خداصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جس طرح آپ نے بیت المقدس میں انبیاء کرام رسلان عظام کی امامت فرمائی اسی طرح یہاں بھی ملائکہ کی امامت فرمائی، 
چنانچہ آپ نے تمام ملائکہ کی امامت فرمائی  اور انہیں دو رکعت نماز پڑھائی، 
بغورصداسماں یہ بندھا یہ سدرہ وہ عرش جھکا، 
صفوف سماں نے سجدہ کیا ہوئی جو آذاں تمہارے لیئے، 
بعدہ آزاں میرے آقاحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے آگے خودہی پروازکناں ہوئے،آگےاللہ تعالی ہی جانے کہ کیا کیا مقامت طئے کئے، اور کیا کیا مدارج کیسے کیسے عبورفرمائے، الغرض حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم عرش الہی کےقریب پہنچے، آپکے قلب اقدس پر عظمت وجلال الہی کےآثارظاہر ہورہےتھے کہ آوازآنےلگی، 
ادن یا خیرالبریۃ ادن یااحمد ادن یامحمد، (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم )
نزدیک آئیے ائے ساری مخلوق سےافضل، نزدیک آئیے ائے احمد، نزدیک آئیے ائے محمد، 
رضابریلوی ارشادفرماتے ہیں، 
بڑھ ائے محمدقریں ہواحمدقریب آ سرور ممجد، 
نثارجاؤں یہ کیا ندا تھی یہ کیا سماں تھا یہ کیا مزے تھے، 
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، پھر میرےرب نے مجھے اپنے سے اتنا قریب فرمایا اور میں اتنا نزدیک ہوگیا، جیسا کہ رب تعالی کا فرمان ہے 
پھر وہ قریب ہوا اور قریب ہوا یہاں تک  کہ صرف دوکمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا پس وحی کی اللہ تعالیٰ نے، اپنےمحبوب بندےکی طرف جو وحی کی، (مدارج النبوۃ، جلد اول، ص 305)
ان بلندیوں کے ادراک سے ہم انسانوں کی عقل عاجزہے ہم تو بس یہی فریادکرتےہیں، بزبان رضابریلوی 
نبئی رحمت شفیع امت رضا پہ للہ ہو عنایت، 
اسے بھی ان خلعتوں سے حصہ جو خاص رحمت کے واں بٹے تھے،
واقع معراج کافائدہ بیان فرماتے ہوئے جو سب سے عظیم اور مختصر بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے(تاکہ اہم آپ کو اپنی نشانیاں دکھلائیں
پھر ان نشانیوں کو دکھلانےکا جومقصدتھا اسے بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد،تاکہ وہ یقین کرنےوالوں میں سے ہو، کے ذریعے واضح فرمادیا، 
چنانچہ جب انبیاء کرام کےعلوم کو اس طرح کے مشاہدات کی سند حاصل ہوتی تھی تو انہیں عین الیقین کا مقام حاصل ہو جاتا تھا، جس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں، 
*نبئی پاک کا سفر معراج*
(پاک ہے وہ ذات جو لے گیا اپنے بندے کو راتوں رات مسجدحرام سے مسجداقصی تک، جسکے آس پاس ہم نے برکتیں رکھی ہیں اس لئیے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے نشانیاں دکھائیں
واقعہ معراج اللہ تعالیٰ کی حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے محبت والفت، تکریم واحترام کی ایک لازوال اور نایاب تحفہ ہے، معراج نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں بہت سے سبق آموزنکات وفوائد ومقاصد پنہاں ہیں، یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی قدرت وطاقت اور اس کائنات کی ہر ایک شئی کےتمام مثبت اور منفی پہلوؤں پر زبردست قوت  اور فیصلہ کن دسترس کا منہہ بولتا ثبوت ہےاور یہ کہ اللہ تعالیٰ جوچاہے وہ کرسکتاہے، 
اس کا اندازہ آپ ایسے لگائیں، کہ اللہ تعالیٰ کو حضورپاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کےاس معراجی سفرکی تکمیل کرانے کے لئے کسی دھاتی خول، کششِ ثقل کی قوتوں کو توڑنےکےلئے راکٹ  انجن، ،خلائی لباس، آکسیجن ماسک، سیٹ بیلٹس، مداروی قوتوں کی جمع تفریق کی ضرورت نہیں پڑی، 
بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کے بنائے ہوئےدیگر کائناتی قوانین حکم رب العالمين کی خودکار تکمیل کےلئے ہاتھ باندھے کھڑے تھے، حضرت جبریل امیں نے براق سواری پر حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو سوار کیا،اور یہ سفر یقیناََ حضورپاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سفرکی دعاکےبعدکسی ناگہانی حادثےسےمبراء مکمل بےفکری کےساتھ آگے کی منزلوں کی طرف سفر شروع ہوا، معراج کوحقیقی طورپر دیکھاجائے تو رب العالمين کی طرف سے واضح طور پر کُن فیکون کا مظہرہےاور ایک بیش قیمتی دلیل ہے، 
معراج کے واقعے سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بات کو نافذ کرناچاہتاہےیاکوئی کام کرنا چاہتا ہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتاہے، 
کوئی تنگئی وقت، کوئی مجبوری، کوئی عذر، کوئی کوتاہی اسکے سامنے تاب نہیں لاسکتاہے، 
یہاں پر سوال پیدا ہوتاہے کہ قدرت کی نشانیوں کا ادارک تو حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو خواب یا وحی  نیز کسی اور بھی طریقے سے کرایا جاسکتا تھا، جو بدستور اپنی جگہ قابل یقین اور مستندہی ہوتا، 
مگر اللہ تعالی حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو عین القین اور حق الیقین کی منزل پر فائز کرنا چاہتا تھا، اسی لئے واقعہ معراج رونماہوا، 
حضرت سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے ایک بار اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا ائے میرے مولیٰ، تو مردوں کو کیسے زندہ کرتاہے، 
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم نے اس بات کا باور نہیں کیا؟انھوں نے کہا کیوں نہیں، 
لیکن میں آپنی انکھوں سے دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ میرا دل اطمینان حاصل کرلے، تو رب تعالی نےفرمایا، کہ چار پرندوں کو پکڑو، اپنے پاس منگا لو، اور انکے ٹکڑے ٹکڑے کردو، پھر انکا ہر ایک ٹکڑا الگ الگ
پہاڑ پر رکھ دو، پھر ان کو بلاؤ، 
تو وہ تمہارے پاس دوڑے دوڑے چلے آئیں گے، اور جان لوکہ اللہ تعالٰی غالب اور  حمکت والا ہے، 
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حق الیقین کی سطح تک لانے کےلئے انہیں ایک مرحلے سےگذارا، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے معراج شریف کے ذریعے حق الیقین کی مزید منزلوں پر پہنچادیا، لہذا حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے مہمان بنے، میرےآقاحضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو قرب خداحاصل ہوا، عرش معلی پر وقوع پذیر ہونے والی یہ مہمان نوازی کس قدر اعلی وشاندارہے،
*ایک اہم بات*
معراج شریف میں آپ نے کس قسم کے علمی حقائق کا سامنا کیا، اس سے واضح ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول پاک کو کتنا عظیم الشان بنایاہے، 
جب آپ اور جبریل امیں ہر آسمان پر پہنچتے، تو اپنے آپ کو ایک دروازے پر پاتے، دروازے کو کھٹکھٹایا جاتا، تو سوال ہوتا کہ کون ہیں؟؟ حضرت جبریل جواب میں فرماتے کہ میں جبریل ہوں، پھر پوچھاجاتاکہ آپ کے ساتھ کون ہیں، جواب میں کہتے کہ یہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہیں، پھر پوچھاجاتاکہ کیا یہ بلائے گئے ہیں؟؟؟ 
پھر فرمایاجاتاکہ ہاں جواب ملتا کہ آنا مبارک ہو، مرحبایااحمد،مرحبا یا مصطفی، اور دروازہ کھول دیاجاتا،اس طرح اللہ تعالی نے آپ کے ذریعے اپنے بندوں کو یہ پیغام دیاکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ہر ایک کام کو ایک منظم طریقے سے کیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے فرشتے اپنے ہر ایک کام وڈیوٹی کو فرض کی ادائیگی کے آخری معیارتک سرانجام دینےمیں کسی طرح کی کوئی کوتاہی نہیں کرتے، اور سب کام ایک قانون اور ضابطے کےمطابق کیئے جاتے ہیں، 
معراج شریف کاایک پہلو نہ صرف خود حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کےلیئے بلکہ ہم عام انسانوں کےلیئے بھی ذریعہءِ آزمائش ہے، 
جب آپ نے لوگوں کو اس بارے میں بتانا چاہاتو مکاراعظم ابوجہل جیسے جاہل نے لوگوں کو اکٹھا کیا اور اس بات پر خوب قہقہے لگائےکہ لیجئے پہلے اگر کوئی کمی تھی تو اب وہ بھی پوری ہوگئی، کہ اب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تو دیوانوں کے جیسے باتیں کرتے ہیں، نعوذباللہ من ذالک، 
دوسری طرف امیرالمؤمنین حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے ایمان والے جلیلُ القدرصحابی نے فوراََ معراج کی بیان کردہ تفاصیل کی تصدیق کردی اور مہرحق ثبت کر دیا، تو ابوجہل جہنم رسید ہوا، جبکہ حضرت سیدناامیرالمئومنین ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ "صدیق اکبر"کےخطاب نایاب سےنوازےگئے، اور دنیامیں ہی جنت اپنےنام لکھوالیئے، مگر آج کےابوجہل یہ بھول جاتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کچھ کرنا چاہتا ہے تو صرف کہہ دیتاہے "کن فیکون"کہ ہوجا، تو پھرہرصورت اس ہونی کو ہونا پڑ جاتا ہے، 
معراج کا اصل درس اللہ تعالیٰ کی کائنات پر حکومت ہے وہ رب العالمين ہے، وہ ارحم الرحمین ہے،وہ بےنیاز ہے وہ خودمختارہے، 
اور سفر معراج سے سرور کائنات فخرموجودات حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے مقام
ومرتبہ، عظمت ورفعت، کا بھی اندازہ ہوتاہے، میرا رب جس جس چیز، جس جس ذرہ قطرہ، کا رب ہے وہیں حضور صلی الله تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس اس چیز کےلیئے رحمتہ للعالمین ہیں، 
اور اللہ تعالیٰ کے یہاں ان ہی اعمال کو شرف قبولیت سےنوازاجائےگا جوآپکے بتائے ہوئے طریقہ پر ادا کیئے جائیں گے، 
اخترشام کی آئی ہےفلک سےآواز، 
سجدہ کرتی ہے سحر جس کو وہ ہے آج کی رات، 
رہِ یک گام ہے ہمت کےلئے عرش بریں، 
کہہ رہی ہے یہ مسلمان سے معراج کی رات، 
لہذا ہم تمامی عالم کے مسلمانوں کو چاہئے کہ نبی کریم صلی الله تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے فرامین واقوال زریں پر عمل کرنےکی کوشش کریں، 
اور اللہ تعالیٰ ہم سب کو سنت مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر عمل پیرا ہونے کی توفیق رفیق بخشے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Comments