ازقلم:مولانا محمد قمر انجم قادری فیضی
کرونا وائرس عقلمندوں کےلئے اشارہ ہی کافی ہوتاہے،ولئذیقنھم من العذاب الاذنی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون، اور ہم یقینی قیامت کے بڑے عذاب سے پہلے دنیاکےمعمولی عذاب کا مزہ چکھائیں گے، جو عنقریب ہوگاتاکہ یہ لوگ اب بھی میری طرف رجوع کریں، سورہِ السجدہ، 32 ،21اور مزید قرآن پاک میں ہےیاایھاالذین آمنوا خذوا حذرکم فانفروا ثبات او انفرو جمیعا، اے ایمان والو ہوشیار سےکام لوتب ساتھ چلو یا تھوڑے تھوڑے، اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہےکہ اگرکوئی ایسی پریشانی آجائے جس سے جان جانے کا خطرہ لاحق ہو تو اس سے بچنے کا احتیاطی تدابیر کا استعمال کرو اور خوب غوروفکرو کرو، لاپرواہی نہ برتو، کہ جس سے تمہاری جان چلی جائے، اور اگر خطرے کی جگہ پر جانا پڑےتنہا یا تھوڑے تھوڑے یا سب کے ساتھ جیسی معاملات ہوں، تو اس کا دھیان رکھتے ہوئے کام کرے، قارئین کرام آج جو یہ وائرس وبا پھیل رہی ہے اس سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر اور حکومت کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے اس وبا سے اجتناب کریں، اور ماہرین طب ووائرس جو بھی احکام و احتیاط برتنےکےلئے کہیں اس پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے جیسے بلاضرورت گھرسے باہر نہ نکلیں، اور جہاں اس وائرس کا موجود ہونا معلوم ہویا شک ہو، تو وہاں جانے سے پرہیزکریں، خود کا بھی خیال رکھیں، اور اپنوں کا بھی دھیان رکھیں، اور اگر ایسی خطرناک حالت میں جانا پڑے تو
ضروری احتیاط کےساتھ جائیں، جیسے چہرےپر ماسک لگاکرجائیں، اوریاد رکھیں اپنی حفاظت کا حکم ہمکو اللہ تعالیٰ نے دیاہے، لہذا یہ نہ ہوکہ جان بوجھ کر گلا کاٹ لے یا زہر پی لےاور کہے کہ اللہ تعالیٰ پر یقین کامل ہے، بےشک زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے مگر جب کوئی مصیبت آفت، پریشانی، بلا، وائرس آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہمیں یہ بتا دیا گیا ہے کہ احتیاط اختیار کرو،ِحکیم الامت ِحضرت مولانا روم علیہ الرحمہ ایک حکایت بیان فرماتے ہیں، جو اس بات پر صادق آتی ہے کہ ایک آدمی طوفان کی وجہ سے ایک پیڑکے نیچے کھڑا تھا، ایک دوسرا آدمی وہاں سے گزر رہاتھا تو بولا کہ بھائی صاحب جب طوفان آتاہے تب بجلی کڑکتی ہے اور بجلی اکثر پیڑوں پر گرتی ہے اس لئے تم یہاں سےہٹ جاؤ،تو وہ بولا کہ میرا رب مالک ہے، وہ میری حفاظت فرمائے گا، پھر اسکے جانےکےبعد دوسرا آدمی آیا اس نے بھی یہی نصیحت کی تو اس نے پھر وہی بات دہرائی کہ میرا رب مالک ہے، پھر تیسرا آدمی آیا اس بے بھی یہی نصیحت آموز بات کہی، مگر اس نے پھر وہی جواب دہرایاکہ میرا نگہبان میرا خداہے، خیر پھر زوردار طوفان آیا اور ایک زورادار بجلی گری اور وہ مرگیا، یہ سارا واقعہ ایک اللہ کا بندہ دیکھ رہاتھا جب بجلی گری وہ مرگیا تو اللہ تعالیٰ کے بندے نے کہا کہ اس بندےکو رب پر اتنا ایمان تھا پھر بھی رب نے اسکو بچایاکیوں نہیں؟ یا اسکی حفاظت کیوں نہیں فرمائی تو مولانا روم فرماتے ہیں اگر تین آدمی بھی اللہ تعالیٰ نے ہی بھیجے تھے، کہ بچ جااو مگر اس نے نہیں مانا اور خودکو تباہ وبرباد کرلیا، لہذا ہمیں اس سے سبق ملتاہے کہ بےشک زندگی اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے مگر جب کوئی مصیبت آتی ہے تواللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں بتا دیا جاتا ہے کہ احتیاط اختیارکرو، ناکہ اپنی جہالت کی بنیادپر موت کا لقمہ بن جاؤ"ما اصاب من مصیبة الا باذن اللہ"کروناوائرس اور مسجدوں پر پابندی کرونا، وائرس ہمارےعقیدےوایمان کا امتحان لینے آیاہے ہمارے عشق رسول مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی گہرائی ناپنےآیاہے مسجدوں پر تالے لگوانےوالے حکمرانوں اپنا محاسبہ کرو تمہاری غیرت کہاں چلی گئی، افسوس صد افسوس، تم سے اچھا تو سیریاکا کے وہ مسلمان ہیں جنھوں نے گولیوں اور توپوں کےسائے میں نماز اداکی ہے، وہ سجدوں میں توشہیدہوگئے مگر انھوں نے کبھی اپنےرسول پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سےبےوفائی تو نہیں کی،ایسا ظالم وجابر حکمران کبھی قوم کےسچے اور اچھے لیڈر نہیں ہوسکتے اور نہ ہی بن سکتے ہیں، اور نہ ہی انکی قیادت قابل قبول ہے اور نہ ہی انکی قیادت قبول کی جائےگی، ان سعودی کے حکمرانوں نے مسجدنبوی شریف میں تالا لگوایا حرم کعبہ شریف میں طواف بند کروادیا،تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتاہے کہ ﻟﻮﮒ ﺗﺎﺝ ﻣﺤﻞ ﮐﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺘﮯ ہیں !!ﻣﮕﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﯾﮟ ...کہ خلافتِ عثمانیہ کے دور ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺠﺪ نبوی ﷺ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﺮ ، ﺗﻌﻤﯿﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﮐﯽ ﻣﻌﺮﺍﺝ ہے، ذﺭﺍ پڑھیں ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﺸﻖ ﻧﺒﯽﷺ ﺳﮯ ﻣﻨﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ ۔ﺗﺮﮐﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﷺ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻭﺳﯿﻊ و ﻋﺮﯾﺾ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﺳﺎﺯﯼ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﻓﻨﻮﻥ ﮐﮯ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﺩﺭﮐﺎﺭ ہﯿﮟ، ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﯾﺮ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ہر ﻋﻠﻢ ﮐﮯ ﻣﺎﻧﮯ ہوئے ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﭘﯿﺶ ﮐﯿں،ﺳﻠﻄﺎﻥ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﻨﺒﻮﻝ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺷﮩﺮ ﺑﺴﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﻋﺎﻟﻢ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻥ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﮐﻮ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﻣﺤﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ،ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﺎﺏ ﺷﺮﻭﻉ ہوا ﺟﺲ ﮐﯽ ﻧﻈﯿﺮ ملنا ﻣﺸﮑﻞ ہے،خلیفہ وﻗﺖ ﺟﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳب ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻓﺮﻣﺎﻧﺮﻭﺍ ﺗﮭﺎ ، وہ نئےﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ہر ﺷﻌﺒﮯ ﮐﮯ ﻣﺎﮨﺮ ﮐﻮ ﺗﺎﮐﯿﺪ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺫہین ﺗﺮﯾﻦ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻓﻦ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮑﮭﺎﮮٔ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﯾﮑﺘﺎ ﻭ ﺑﯿﻤﺜﺎﻝ ﮐﺮ ﺩﮮ،ﺍسی ﺍﺛﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﮎ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺍﺱ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ حافظ ﻗﺮﺁﻥ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺴﻮﺍﺭ ﺑﻨﺎﮮٔ ﮔﯽ،ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻋﺠﯿﺐ ﻭ ﻏﺮﯾﺐ ﻣﻨﺼﻮﺑﮧ کئی ﺳﺎﻝ ﺟﺎﺭﯼ ﺭہا ، 25 ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﻧﻮﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺗﯿﺎﺭ ہوئی ﺟﻮ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻌﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮑﺘﺎﮮٔ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﺗﮭﮯ ﺑﻠﮑﮧ ہر ﺷﺨﺺ حاﻓﻆ ﻗﺮﺁﻥ ﺍﻭﺭ ﺑﺎ ﻋﻤﻞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ، ﯾﮧ ﻟﮓ ﺑﮭﮓ 500 ﻟﻮﮒ ﺗﮭﮯ،ﺍﺳﯽ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺗﺮﮐﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﺘﮭﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻧﯽٔ ﮐﺎﻧﯿﮟ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﮟ، نئے ﺟﻨﮕﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮑﮍﯾﺎﮞ ﮐﭩﻮﺍئیں، ﺗﺨﺘﮯ حاﺻﻞ ﮐﯿﮯٔ گئے ، ﺍﻭﺭ ﺷﯿﺸﮯ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺑﮩﻢ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ،ﯾﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺩﺏ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﮭﺎ ....ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯٔ ﻣﺪینہ منورہ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﺴﺘﯽ ﺑﺴﺎئی ﮔﯽٔ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺷﻮﺭ ﺳﮯ حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ کی بے ادبی اور ﻣﺪینہ منورہ ﮐﺎ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﺧﺮﺍﺏ ﻧﮧ ہو، ﻧﺒﯽ ﷺ ﮐﮯ ﺍﺩﺏ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ انہیں حکم تھا ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽﮐﭩﮯ ﭘﺘﮭﺮ کو اپنی جگہ بٹھانے کے لئے چوٹ لگانےکی ضرورت پیش آئے تو موٹے کپڑے کو پتھر پرتہ بتہ یعنی کئی بار فولڈ کر کے رکھیں پھر لکڑی کے ہتھوڑے سے آہستہ آہستہ سے چوٹ لگائیں تاکہ آواز پیدا نہ ہو اور اگر ﺗﺮﻣﯿﻢ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ہو ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺍﺳﯽ ﺑﺴﺘﯽﺑﮭﯿﺠﺎ ﺟﺎئے وہاں اسے کاٹ کر درست کیا جائے، ﻣﺎہرﯾﻦ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ہر ﺷﺨﺺ ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺑﺎ ﻭﺿﻮ ﺭہے ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻭﺩ ﺷﺮﯾﻒ ﺍﻭﺭ ﺗﻼﻭﺕ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﺭہے،حجرہ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﯽ ﺟﺎﻟﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﭙﮍﮮ ﺳﮯ ﻟﭙﯿﭧ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﮔﺮﺩ ﻏﺒﺎﺭ ﺍﻧﺪﺭ ﺭﻭﺿﮧ ﭘﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺟﺎﮮٔ ، ﺳﺘﻮﻥ ﻟﮕﺎﮮٔ گئے ﮐﮧ ﺭﯾﺎﺽ ﺍلجنۃ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺿﮧ ﭘﺎﮎ ﭘﺮﻣﭩﯽ ﻧﮧ ﮔﺮﮮ ، ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﭼﻠﺘﺎ ﺭہا ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻋﺎﻟﻢ ﮔﻮﺍﮦ ہے :کہ ﺍﯾﺴﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﯾﺴﯽ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﺳﮯ ﮐﻮئی ﺗﻌﻤﯿﺮ ﻧﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﮩﻠﮯ ہوئیﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ہوگی ، کچھ نہیں ہوگا انشاءاللہ، ہمارے علاقے کے ایک شخص میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ، اسے کہا گیا:ان سب لوگوں کے نام بتاؤ جن سے تم نے ان دنوں ملاقات کی ہے ۔اس نے سب کے نام بتائے ، ان سب کو ہاسپٹل بلایا گیا اور ٹیسٹ لیے گئے ، لیکن ... ان کے ٹیسٹ کلیئر آئے ، اور انھیں گھر بھیج دیا گیا ۔زیادہ نہیں ، تھوڑا سا ہی سوچ لیں کہ:اگر کرونا کے مریض کو ٹچ کرنے کی وجہ سے ہی بندہ مریض بن جاتا ہے ، تو اسے ٹچ کرنے والے یہ لوگ مریض کیوں نہیں بنے ؟؟یہ الفاظ پھر پڑھیں:اگر کرونا کے مریض کو ٹچ کرنے کی وجہ سے ہی بندہ مریض بن جاتا ہے ، تو اسے ٹچ کرنے والے یہ لوگ مریض کیوں نہیں بنے ؟؟صرف یہی نہیں ، ایسے کئی ہزار افراد ہوں گے جنھوں نے لاعلمی میں کرونا زدگان سے ملاقاتیں کیں ، ان کے ساتھ کھایا پیا ، اٹھے بیٹھے ؛ لیکن انھیں کچھ نہیں ہوا ۔آخر کیوں ؟؟اس سوال پر ٹھنڈے دل سے غور کریں !!سمجھ دار اس سوال پر غور کریں گے اور دل سے خوف و وحشت نکال کر پرسکون ہوجائیں گے ۔لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔ بے سمجھ ، خواہ مخواہ یہ مطلب نکالیں گے کہ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے: " احتیاط نہ کریں ۔ آپ کو پیشگی بتادوں کہ میرے کہنے کایہمقصد ہرگز نہیں !آپ ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق پرہیز اور احتیاط ضرور کریں ، بس پنا عقیدہ اور دماغ خراب نہ ہونے دیں ۔ "کرونا سمیت کوئی بھی بیماری حکمِ الہی کے بغیر نہیں لگ سکتی ۔کرونا سے جو لوگ متاثر نہیں ہوئے ، اللہ کے حکم سے نہیں ہوئے ؛ اور جو متاثر ہوئے ہیں ، اللہ کے امر سے ہوئے ہیں ۔جو اس مرض میں مبتلا نہیں ہوئے ، انھیں محفوظ رکھے ؛ اور جو ذہنی طور پر اس مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں ان کا تقدیر پر ایمان مضبوط کرے ۔اللہ کے پیارے رسول ﷺ سچ فرماگئے:جو چیز ( تکلیف ، مصیبت وغیرہ ) تمھارے پاس آنے والی ہے وہ ٹل نہیں سکتی ، اور جو نہیں آنے والی ، وہ آ نہیں سکتی ،حرم کے نام نہاد توحید جھوٹا راگ الاپنےوالے مفتیان کرام کیوں خاموش ہیں اس پر، ہم پیدا ہی اسی لئے کئے گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، وما "خلقت الجن والانس الا لیعبدون"اللہ تعالیٰ کے گھر سے دور ہو کر کون سی زندگی جینا چاہتے ہوہمیں تو ویسے ہی مرجانا چاہیے تھا، ایسے مراحل میں مساجدوں کو کھول دینا چاہئے تھا اور علماء کرام کو واضح پیغام دینا چاہئے تھا اور اذانوں کو اور بلند کردینا چاہئے تھا عالمی سطح پر پوری دنیا میں قرآن پاک اور درود شریف کی محافل منعقد کی جانی چاہئے تھی، مگر ان تعیش پسند بےغیرت حکمرانوں نےآج اس سرزمین پر نماز بند کردیا ہے جس سرزمین کی خاک میں شفا ہے مدینہ شریف دارالشفاء ہے اور حرم کعبہ اب زمزم دوائے لاعلاج کی دواہے، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہمیں پوری دنیا کو اعلان کرنا چاہئے تھا کہ دردکےماروں، بے سہاروں، بےکسوں، پریشان حال والو، گناہوں کی مارسے بزدل ہوچکے قوم وملت کے نوجوانوں آؤ آج اپنے اللہ تعالیٰ کی طرف، اپنے مولی کی طرف، قرآن کی طرف رجوع کرو، رسول اللہ صلی الله تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرف رجوع کرو، اور دنیاکو بتادو کہ ہمیں زندگی اللہ نےدی ہے ہمارے رسول کےصدقے میں ہماری سانسیں چل رہی ہیں، اگر ہمیں اپنے پروردگار کی عبادت کرنے سے موت آ سکتی ہے تو محمدعربی روحی فدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے وہ سچےپکے غلام ہیں جو ایسی موت کو ہم اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں ایک سچا عاشق رسول موت کو گلے لگا سکتاہے مگر مسجدوں کو ویران ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا،اللہ تعالی نے اگر زہر کو پیدا کیا تو اس میں (ایک خاص مقدار میں کھانے سے) شفاء بھی رکھا ہے.کرونا کی تباہ کاریوں سے انکار نہیں!!! لیکن کرونا کا ایک دوسرا رخ بھی ہے: مضمون کو غور سے پڑھیں.1. کرونا نےانسان کودوبارہ اس کی انسانیت کی طرف ،اس کےخالق کی طرف اور اس کےاخلاق کی طرف متوجہ کیاہے2. اس نے پوری دنیا میں تمام عیش وطرب کے مراکز بند کردیے ہیں ۔سینما گھر، نائٹ کلب، رقص گاہیں، شراب خانے،جواخانے اور جنسی بے راہ روی کےمراکز بند ہیں بلکہ سودکی شرح بھی کم کردی گئی ہے ۔3. اس نےخاندانوں کوایک طویل جدائی کے بعد ان کے گھروں میں دوبارہ اکٹھا کیا ہے۔4. اس نے اجنبی مرد اور عورت کو ایک دوسرے کو بوسا دینے سے بھی روکا۔5. اس نے عالمی ادارہ صحت کواس بات کے اعتراف پر مجبور کیا کہ شراب پینا تباہی ہے، لہذااس سے اجتناب کیاجائے۔6. اس نے صحت کے تمام اداروں کویہ بات کہنے پر مجبور کیا کہ درندے، شکاری پرندے، خون، مردار اور مریض جانور صحت کے لیے تباہ کن ہیں۔7. اس نے انسان کوسکھایا کہ چھینکنے کا طریقہ کیا ہے،صفائی کس طرح کی جاتی ہے جوہمیں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے1450 سال پہلے بتایا ہے۔8، اس نےفوجی بجٹ کا ایک تہائی حصہ صحت کی طرف منتقل کیاہے۔9. اس نے دونوں جنسوں کے اختلاط کومذموم قراردیاہے۔10. اس نےدنیا کے بعض بڑے ممالک کے حکمرانوں کوبتادیا کہ لوگوں کوگھروں میں پابند کرنے، جبری بٹھانے اور ان کی آزادی چھین لینےکا معنی کیا ہوتے ہیں۔11. اس نے لوگوں کو اللہ سے دعا مانگنے ، زاری کرنے اوراستغفار کرنے پر مجبور اور منکرات اورگناہ چھوڑنے پر آمادہ کیاہے۔12. اس نے متکبرین کے کبر وغرور کا سر پھوڑدیا اور انہیں عام انسانوں کی طرح لباس پہنایا۔13. اس نے دنیامیں کارخانوں کی زہریلی گیس اوردیگر آلودگیوں کو کم کرنے کی طرف متوجہ کیا جن آلودگیوں نے باغات، جنگلات، دریا اور سمندروں کوگندہ کیا ہے۔14. اس نے ٹیکنالوجی کو رب ماننے والوں کودوبارہ حقیقی رب کی طرف متوجہ کیاہے۔15. اس نے حکمرانوں کوجیلوں اور قیدیوں کی حالت ٹھیک کرنے پرآمادہ کیاہے۔16. اورسب سے بڑا کارنامہ اس کا یہ ہے کہ اس نے انسانوں کو اللہ کی وحدانیت کی طرف متوجہ کیا آج عملی طورپریہ بات واضح ہوگئی کہ کس طرح بظاہر ایک وائرس لیکن حقیقت میں اللہ کا ایک سپاہی انسانیت کے لیے شر کے بجائے خیر کاباعث بن گیا۔تواے لوگو! کرونا وائرس پرلعنت مت بھیجو ! یہ تمہارے خیر کے لیے آیا ہے کہ اب انسانیت اس طرح نہ ہوگی جس طرح پہلے تھی۔۔ہمیں نقاب کرنا آگیا، ہمیں وضو کا طریقہ آگیا، ہمیں صفائی کی سمجھ آگئی، نامحرم سے سلام نہیں کرنا ہمیں پتا چل گیا، شادی ہال بند ، سادگی سے شادی عقل میں آگیا، کولڈ ڈرنک، آئس شراب،جنک فوڈ، فضول خرچی سے بچنا وغیرہ وغیرہ سب سمجھ آگیا ،واہ رے کرونا جو علماء دین چیخ چیخ کے سمجھاتے رہے سمجھ نہ آیا ،قربان جاوں کرونا،تونے کتنی جلدی اسلام سمجھا دیا ۔“وبا میں اذان کی شرعی حیثیت*حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے رویت ہے کہ حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:جب کسی بستی میں اذان دی جائے تو اللہ تعالی اس دن اسے اپنے عذاب سے امن دے دیتا ہےـ[المعجم الکبیر مرویات انس بن مالك، جلد 1، صفحہ257، حدیث:746، مطبوعہ المکتبة الفیصلیه بیروت][فتاوی رضویہ ، جلد 5 ، صفحہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور]وبا کے زمانہ میں اذان دینا ایک مستحب امر ہے کہ فقیہِ اجَلّ ، محققِ بےبدل ، صاحب العلم وبالفضل ، امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ لکھتے ہیں کہ:”وبا کے زمانے میں اذان دینا مستحب ہے“(فتاویٰ رضویہ ، جلد 5 ، صفحہ 370، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاجور]کیونکہ اس وبا کی وجہ سے خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے جسکی وجہ سے عوام بھی پریشان ہے۔ اور گھبراہٹ کا شکار نظر آ رہی ہے۔ ان حالات میں بھی اذان سکونِ قلب اور خوف و ہراس دور کرنے کا سبب ہےابونعیم و ابن عساکر حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راویت کرتے ہیں کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:جب آدم علیہ الصلاۃ والسلام جنت سے ھندوستان میں اترے انہیں گھبراہٹ ہوئی تو جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام نے اتر کر اذان دی۔ [حلیة الاولیاء مرویات عمرو بن قیس الملائی ، جلد 2، صفحہ 107، رقم:299 ، مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت]مسند الفردوس میں حضرت جناب امیرُ المومنین مولٰی المسلمین سیدنا علی مرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے روایت ہے:حضرت سیدنا مولا علی کہتے ہیں مجھے حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے غمگین دیکھا ارشاد فرمایا: اے علی! میں تجھے غمگین پاتا ہوں اپنے کسی گھر والے سے کہہ کہ تیرے کان میں اذان کہے، اذان غم وپریشانی کی دافع ہے۔(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوہ المصابیح باب الاذان ، جلد 2، صفحہ 149، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان]لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ جہاں دیگر تدابیر اختیار کر رہے ہیں وہاں اپنے اپنے گھروں میں ضرور اذانیں دیں ، گھر میں جب چاہیں اذان دے سکتے ہیں کوئی وقت خاص نہیں ہے۔ اللہ کی رحمت پر پختہ یقین رکھیں ، ان شاءاللہ ہر قسم کی وبا سے حفاظت ہو گی اور خوف و گبھراہٹ دور ہونگے۔ اور اللہ کریم ﷻ امان نصیب فرمائے گا۔#سوشل_ڈسٹینسنگ (سماجی دوری) کے ہوتے ہوئے رابطہ رکھنے اور مصروف رہنے کے کچھ نسخےگزشتہ کچھ ہفتوں سے پوری دنیا کی زندگی ایک وائرس نے بدل کے بلکہ ہلا کے رکھ دی ہے۔ انٹرنیشنل فلائیٹس، ہوٹل، ریسٹورینٹس اور تعلیمی ادارے بند ہوگئے ہیں۔ شادیاں اور دیگر سماجی تقریبات کو محدود کر دیا گیا ہے یا روک دیا گیا ہے۔ خود کی اور دوسروں کی زندگی کی بہتری کے لیے محتاط طرزِ حیات اور کم سے کم میل جول کی ہدایات کی جارہی ہیں۔۔۔ لیکن ایسے حالات میں کیا جائے کہ زندگی رواں دواں، معمول کے مطابق اور مفید رہے۔آئیے آپ کو چند ایسے طریقے بتاتے ہیں کہ آپ عارضی سماجی دوری اور میل ملاپ کی بندش کے باوجود ایک دوسرے سے رابطہ کر اور رکھ سکتے ہیں۔1روزانہ کسی ایک دوست، رشتہ دار، جاننے والے اور نئے یا پرانے استاد سے فون یا وٹس ایپ پر بات چیت کی جاسکتی ہے۔ کسی روٹھے کو منایا جا سکتا ہے، کسی کو معاف کیا جا سکتا ہے۔ ٹیکسٹ مسیج یا ای کارڈ بھیج کر کسی کو سرپرائز اور خوشی دی جاسکتی ہے۔2۔ کسی پیارے کو اپنے ہاتھ سے خط لکھنے کی روایت کو زندہ کرنے سے آپ کو بھی بہت سکون ملے گا اور خط پانے والے بھی خوشی سے پھولے نہیں سمائیں گے۔ آج ہی وقت نکال کے (بلکہ اب تو وقت ہی وقت ہے) پیارا سا، خلوص بھرا خط (خاوند یا بیوی ایک دوسرے کو Love Letter) لکھ دیجیے، اس کے بڑے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔ یہ کام تو پہلی فرصت میں کر ڈالیے کہ پتا نہیں پھر موقع ملے یا نہ ملے۔3۔ گھر کے افراد مل جل کر اپنے گھر اور کمروں کی ترتیب اور صفائی کو بہتر سے بہترین بنانے میں جُت جائیں۔ تھوڑے دنوں کے بعد جب کوئی آپ کے گھر آئے تو دیکھ کے حیران و شادمان ہو جائے اور کہنے پر مجبور ہو جائے کہ تسیں تے بڑے نیٹ اینڈ کلین بن گئے جے۔۔۔ اور یہ صفائی ستھرائی آپ کے من کو نکھار کے رکھ دے گی۔4۔ بیوی تو گھر کی ماسٹر شیف ہوتی ہی ہے۔۔۔ اور ہوسکتا ہے میاں جی نے بھی کنوارپنے اور ہوسٹل کے زمانے میں کوئی انڈہ شنڈہ بنانا سیکھ ہی لیا ہو۔ اب بہترین موقع ہے، میاں صاب کو کچن کا کنٹرول مکمل نہیں تو ضرورت کے مطابق "ادّھا پچدّا" سنبھال لینا چاہیے اور اپنی بیوی سے (اور اگر اپنی بیوی سے ماڑا موٹا اٹ کھڑکا ہے تو) یوٹیوب سے نئی نئی ڈشیں بنانا سیکھ لینے کا یہ نادر موقع ہاتھ سے نہیں گنوانا چاہیے۔۔۔ کیونکہ پھر جب چڑیاں کھیت چُگ جاتی ہے تو پچھتانے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔5۔ اب فارغ دنوں میں بچوں کو بیڈ ٹائم سٹوری سنانے کا رواج پھر سے ڈال ہی لیں۔ گھر میں دادا، دادی، امی، ابو، چاچو، پھپو اور وٹس ایپ یا سکائپ پر نانا، نانی، ماموں، خالہ اوردیگر رشتہ دار روزانہ کوئی نہ کوئی کہانی سنائیں۔ بہت اچھے رزلٹس ملیں گے۔ کوئی چھوٹی سی کہانی سنا کر آج سے ہی یہ کام شروع کر دیں۔۔۔ بچوں کو یہ نہ کہنا پڑے۔۔۔ بھول نہ جانا پھر پاپا۔۔۔6۔ انٹرنیٹ کا مثبت فائدہ لیتے ہوئے کسی آن لائن کمیونٹی کو جوائن کیجیے اور اپنی کیٹیگری اور چوائس کے لوگوں سے کچھ سیکھ لیجیے، کسی کو کچھ سکھا دیجیے۔7۔ آپ کے پاس کسی چیز کا علم زیادہ ہے تو روزانہ یا ہفتے میں دو چار بار یوٹیوب، فیس بک، وٹس ایپ یا زوم پر کلاس کا انتظام کر کے دوسروں کو کوئی کورس سکھانا شروع کر دیجیے۔ لائیو کلاس میں اگر کچھ پرابلمز ہیں تو ویڈیو یا آڈیو کی شکل میں یا تحریری اسباق بنا کر آن لائن پوسٹ کردیں۔۔۔ جو مرضی، جب مرضی مستفید ہوتا رہے۔8۔ کسی اپنے اور پیارے کو کورئیر کے ذریعے سرپرائز گفٹ بھیج دیں۔ کوئی ایسا تحفہ جو اسے ساری زندگی آپ کی یاد دلاتا رہے۔ کسی فاؤنٹین ہاؤس، یتیم خانے، کسی بیوہ یا کسی ایسے ضرورت مند کو جسے آپ بہتر سمجھتے ہیں، کچھ نہ کچھ بھیج دیں۔ کسی غریب کے گھر راشن ڈلوا دیں، حسب توفیق کسی کو کیش آن لائن ٹرانسفر کروا دیں، کسی کو قرضِ حسنہ دے کر کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کروا دیں۔9۔ ہوم گارڈننگ سے آپ کو بہت سے فوائد مل سکتے ہیں۔ گھر میں کھلی جگہوں، چھت، ٹیرس، برآمدے میں یا جہاں آپ کو بہتر لگے، پودے اور پھل سبزیاں اگائیے۔ اس کے علاوہ کوئی ایسا مشغلہ یا شوق جسے پورا کرنے کے لیے آپ کو وقت نہیں مل رہا تھا، اس موقعے کو غنیمت جانیے اور مفتو مفت ملے ہوئے اس ٹائم کو کیش کروا لیجیے۔10۔ تنہائی سے محبت کرنا اور لطف لینا سیکھیے۔ لوگوں کی عادت بن گئی تھی کہ میرے پاس تو "سِر کُھرکنے" کے لیے وقت نہیں۔ دوسروں کو تو بہت وقت دیا، دیتے رہیں گے۔۔۔ اب خود کو بھی کچھ وقت دیجیے۔ تنہائی میں غور و خوض کیجیے۔ مراقبہ کیجیے، اکیلے میں کسی پر سکون دیوار یا ٹھنڈی چھاؤں والے درخت کے ساتھ "ڈھو" لگا کر بیٹھ جائیے۔۔۔ اپنے رب سے باتیں کیجیے۔ لوگوں سے شکوے شکایتیں چھوڑ کر اپنے سوہنے پالن ہار سے لَو لگائیے۔ آپ کے من میں ایک روشنی بھر جائے گی۔ ان شاءاللہ۔سوچیں گے تو مزید بہت سی راہیں مل جائیں گی۔۔۔ کیونکہ ربِ رحیم تو ڈھونڈنے والوں کونئی دنیا عطا فرما دیتا ہے۔

0 تبصرے