تحریر:شاہ محمد خالد مصباحی سدھارتھ نگری
!قارئین
سب سے پہلے اس کی بنیادی اسباب پر صرف نظر اور شرخیاں ڈالتے ہوئے چلیں کہ نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے اب تک چینی حکام ایسے 266 افراد کی شناخت کرچکے ہیں جن میں اس کی تشخیص گزشتہ سال نومبر 2019 میں ہوئی تھی اور وہ کسی مرحلے میں طبی عمل سے گزرے تھے۔
واضح رہے کہ ان میں سے کچھ کیسز کی تاریخ پہلے کی ہوسکتی ہے کیونکہ چینی ڈاکٹروں نے دسمبر میں اس بات کا احساس کیا تھا کہ وہ کسی نئے مرض کا سامنا کررہے ہیں۔
سائنسدانوں کی جانب سے کووڈ 19 کے ابتدائی پھیلاﺅ کا نقشہ بنانے کی کوشش کی جارہی تھی اور اس کے لیے زیرو پیشنٹ (پہلے مریض) کی تلاش بھی کی جارہی تھی
یہ جاننے کے لیے مرض کا پھیلاؤ کیسے ہوا اور کس طرح تشخیص یا نامعلوم کیسز نے اس کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا، اور اس کے ذریعہ ( کووڈ 19) اس خطرے کے حجم کو بھی سمجھنے میں کیسے مدد دے گا۔
لیکن چینی حکومتی ڈیٹا کے مطابق 17 نومبر گزشتہ سال کو یہ ممکنہ پہلا مریض سامنے آیا تھا۔
اس کے بعد روزانہ ایک سے 5 نئے کیسز رپورٹ ہوتے گئے اور 15 دسمبر تک کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد 27 تک پہنچ گئی تھی جبکہ 17 دسمبر کو پہلی بار 10 کیسز رپورٹ ہوئے اور 20 دسبمر کو مصدقہ کیسز کی تعداد 60 تک پہنچ گئی تھی۔
27 دسمبر کو ہوبے پرویژنل ہاسپٹل آف انٹیگرٹیڈ کے ڈاکٹر زینگ جی شیان نے
چینی طبی حکام کو اس نئے کورونا وائرس سے ہونے والے مرض کے بارے میں بتایا تھا، جب تک مریضوں کی تعداد 180 سے زائد ہوچکی تھی، مگر اس وقت بھی ڈاکٹروں کو اس کے حوالے سے زیادہ شعور نہیں تھا۔حتی کہ
چینی طبی حکام کو اس نئے کورونا وائرس سے ہونے والے مرض کے بارے میں بتایا تھا، جب تک مریضوں کی تعداد 180 سے زائد ہوچکی تھی، مگر اس وقت بھی ڈاکٹروں کو اس کے حوالے سے زیادہ شعور نہیں تھا۔حتی کہ
2019 کے آخری دن یعنی 31 دسمبر کو مصدقہ کیسز کی تعداد 266 تک پہنچی اور یکم جنوری کو 381 تک چلی گئی۔جو پھر اس قدر بڑھتی رہی کہ پوری دنیا کو اپنی چپیٹ میں لانے کا خواب اہل جہاں کو دکھلا نے لگی --- جو اب تک اس کے چپیٹ میں آنے سے بچاو کے لیے احتیاطی تدابیر اپنانے اور اجتماعی دوری بنانے کے سوا کچھ بھی نہیں --
اور عالمی ادراہ صحت کی جانب سے بھی تمام ممالک کی طرف احتیاطی تدابیر کے اپنانے اور اجتماعی دوری بنانے کا نوٹیفکیشن بھی بھیجا جا چکا تھا۔ اور1 / مارچ تک ہر ممالک اپنی اپنی ریاست میں اس پیغام کا نقل خطوطے کے ذریعہ بھی پہونچا چکی تھی
غرض کہ خوف ہراس کا ماحول جملہ ممالک میں بنتے چلا جارہا تھا اور ہر اک حفاظتی اقدامات کے ذارئع کی طرف تیزی سے لپک رہا تھا حتی کہ ملک انڈیا کے سارے کاریکرتا اس وبا کو لے کر پورے طریقے سے ایکٹیو ہوچکے تھے اور یہاں تک کہ 13 مارچ کو مینسٹری آف ہیلتھ کا اک CIRCULAR آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ وبا جو ہے وہ مہاری ماری نہیں ہے
اور اتفاق دیکھیے "بر لنگ مقدراں چوں اسباب تخلیق کرد" 13 مارچ ہی کو تبلیغی جماعت کے وفد کا 4000 کی تعداد میں ارض دہلی پر آنا ہوتا ہے اور تبلیغی سرگرمیاں 15 مارچ تک جاری رہتی ہے۔
اور دنیا کی نہ دیکھی جانی والی حالات کو دیکھتے ہوئے
16 مارچ کو ہندو مہا سبھا تنظیم کی گئو متر پارٹی پورے دیش میں واقع ہوتی ہے --- ہزارہاں لوگ جمع ہوتے ہیں
پورا جشن کا ماحول بپا رہتا ہے
سب نے دیکھا کہ SOCIAL DISTANCES کا کوئی وجود نہیں تھا ،ہر ایک اپنے مگن میں ڈوب کر اک دوسرے کے بانہوں سے مل کر ،، ہاتھوں میں گئو متر کا جام لے کر چیس کرتا ہوا نظر آرہا تھا۔
اور 16 ہی مارچ کو یہ دہلی اور مدھ پردیش کی گورمنٹ فرمان جاری کرتی ہے کہ جتنی دھارمک جگہیں ہیں سب کو بند کردیا جائیں۔
لیکن 17 مارچ کو مدھ پردیش ہی میں واقع تیروپتی بالا جی مندر کا 4000ہزار سے زائد افراد دورہ کرتے ہیں۔ اور 81مارچ تک وہیں پر قیام کرکے 19 مارچ کو نیوز کے اعتبار سے یہ سفر بند ہوتا ہے۔ (لیکن اب بھی جاری ہے)
اسٹیٹ کے فرمان کے خلاف سفر جاری رہا، معاشرتی قربت قائم رہیں، مارکیٹیں سجوائی گئیں، لوگوں کا ہجوم، بھیڑ بھاڑ اکٹھا ہوتا رہا لیکن اب تک میڈیا پر تیرو پتی سیوا جی مندر کے اراکین کے خلاف کوئی رپورٹ نہیں۔
اور نہ حکومتی عملہ کا اس کے خلاف کوئی اقدام۔اور نہ ان دھوبی کے گھاٹ کے مماثل پٹنی والی قوم کا کوئی مزاحماتی عمل اور نہ ان قوم کے دم نوش علما کا کوئی مذمتی بیان۔
قارئین!!! معذرت
اور دیکھتے چلیں ملک کا نقشہ یہاں تک کہ 22 مارچ کو پورے ملک میں وزیراعظم جنتاکرفیو کا اعلان کرتے ہیں
اور شام 5 بجے سے 6 بجے تک گھر کے چھت پر چڑھ کر تھالی بجانے اور برتن پیٹنے کا فرمان جاری کرتے ہیں۔
فرمان پانچ منٹ تک تھا وہ بھی پر امن و شانتی طریقوں پر عمل کرتے ہوئے۔لیکن بھکت چھت سے نیچے اتر کر بغیر شوشل ڈسٹینس کی پرواہ کیے۔ گئو پیشاب سے شرا بور، رنگ رلیوں، ڈھول تماشے سے مربوط شاہراہوں پر ڈینس کیے جا رہے تھے۔
قوانین کو توڑا جاتا رہا_ حکومتی عملہ ہوں یا ٹی وی ڈیبیٹ کے خواہش مند افراد سب پر یکساں چپی باندھی رہیں۔ یہاں تک کسی بھی اہل وطن کے سینے پر سانپ نہیں لونٹا۔ حتی کہ بغیر مہلت دیے ہوئے 24 مارچ کو انڈیا لوک ڈاون کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ اور پرائم منسٹر خود کہتے ہیں کہ جو جہاں پر ہے وہی پر رہیں۔ لیکن اب جماعت کے افراد کا وہاں پر ٹکے رہنے پر اعتراضات قائم کرنا اک منصف مزاج رکھنے والے سے بالا تر ہے۔
قارئین احباب
لوک ڈاون کا مطلب تو میری سمجھ میں یہی ہوتا ہے کہ ہر چیز پر تالا بند ہوجائے اور یہی ہونا بھی چاہیے۔ اور جیسا کہ دیکھا بھی گیا کہ اک پان کی جھونپڑی سے لے کر ملک کی ساری فیکٹریوں، کمپنیوں کو لاک کردیا گیا۔ اور سب کے سب گھروں میں محصور ہوگئے۔
لیکن اس سوگ بپا ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 25 مارچ کو یوگی ادیتہ ناتھ رام للا مومنٹ ایونٹ کا انعقاد کرتے ہیں۔
ساتھ میں ہزارہاں افراد سادھو، سنت وزراء، امراء کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں۔
قارئین!!! آپ دیکھ رہے ہیں کہ اک طرف پورا ملک وزیر اعظم مودی کے فرمان کی تعمیل کرنے میں لگا ہوا تھا۔ اور دوسری طرف ان کے ہی من موہک اتر پردیش کے سی ، ایم یوگی ادیتھ ناتھ دھڑلے سے قانون کو توڑتے ہوئے نظر آئے۔
لیکن کسی کے بھی زبان پر شکوہ نظر نہیں آیا؟
ان کے سارے مذہبی پروگرام اپنی ریتی رواج کے ساتھ چلتے رہیں۔ قانون شکن کا عمل نظر نہیں آیا۔ لیکن ہمارے پر امن طریقوں سے رائج مسائل پر قوانین و رول کے مطابق ہونے کے باوجود بھی دھاراوں کی بارشیں کی جاتیں ہیں۔
آخر ایسا کیوں؟؟
ذرا جاگ وطن کے سوئے مسلماں
اب ہر کھیل قوانین وطن کی بنا پر نہیں بلکہ مذہب کو لے کر کھیلا جارہا ہے۔
یہ سارے معاملات ، اور کارنامے جو ہوئے ہیں کھلے طور پر ملک کے عملہ ہی قوانین کی دھجیا اڑاتے رہیں جیسے کہ #شیوراج کو حکومت بناتے اور کرناٹک کے سی ایم #اےڈی یورپپا" کی شادی سماروہ میں اپنے ہمراہ ہزاروں افراد کو لے کر شمولیت ہوتی ہے اور ساتھ چلنے ، اٹھنے ، بیٹھنے اور اجتماعاتی پروگرام کی تصویریں وائرل کی جاتی ہیں۔ لیکن یہ سارے کے سارے منظرات نظروں کے سامنے ہوتے ہوئے بھی کسی کو کوئی گلہ و شکوہ نہیں؟
لیکن جماعت کا پہلے ہی سے اپنی ساری حقیقتوں کو سی۔ او۔ کو آگاہ کرنے کے باوجود بھی یہ شازشیں جو رچی جا رہی ہیں وہ س قوم مسلم کو بد نام کرنے کے لیے۔
آخر اگر اتنا ہی درد ہی تھا تو جب 21 مارچ کو تبلیغی جماعت نے 17 گاڑیوں کے کرفیوں پاس کا مطالبہ کیا تو کیوں نہیں دیا گیا؟؟
کیا ملک فسادیوں کے ایوانوں میں اسی شازشوں کے منصوبے کو تیار کیا جا رہا تھا؟
اور عاپ کے لیڈر امانت اللہ خان نے 23 مارچ کی شب بارہ بجے رات کو DCP SOUTH EAST اور ASP NIJAMUDDIN کو آگاہ بھی کیا تھا کہ مرکز میں ایک ہزار کی تعداد میں لوگ پہنسےہوئے ہیں۔
تو آخر ان کو پولیس نے بھیجنے کا انتظام کیوں نہیں کیا؟
لیکن 24/ 25 مارچ سے ڈاکٹروں کی ٹیم کا مسلسل چانج کرنا یہاں تک تو صحیح رہا لیکن کل کی رات سے پولیس عملہ کا کاروائی در کاروائی کی باتیں کرنا اور ٹی وی چینلوں پر اس کو اک عالمی سطح کا "بنام مسلم "ایسو بناکر اینکروں کا اظہار بد خیالی کرنا یہ کہاں کا منصفانہ چال ہے؟؟؟
خدا را حالات کی نازکی کو سمجھیں
اور غور کریں کہ ملک کو کس سمت لے جایا جارہا ہے
یا خدا ہر لحظہ حفاظت کر ملک کی ہرآن کو دور کردے ہر جہت سے فرقہ پرستوں کی شان کو۔
(ابن رحمت)


0 تبصرے