Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

عید کی خریداری مسلمانوں پرلا سکتی ہے یوم زوال

تحریر: شاہ خالد مصباحی
یہ حقیقت ہے کہ لفظ زوال  اتنا بے گماس ، پر ہیب حقیقتوں کو اپنے  دامن لا نہایہ میں سمویے ہوئے ہوتا ہے کہ ہر باذوق ، صاحب فکر انسان کی ترغیب  اپنی طرف کرانے میں چند لمحہ  بھی پیچھےنہیں ہٹتا _ 
      اور بالخصوص اس دور ہولناک میں ترقی یافتہ ، ترقی پسند طبقہ افراد پر سوچ و فکر کی قندیلوں سے خود کو مستنیر کرلینا  ہی ،  یہی ان کے حواس باحیات کی دلیل ہوتی ہے ورنہ کسی دلربا کے کشش تجویر کا مریادہ ہو جانا ، 
جو قوم کی سوچ و فکر ، ترقیاتی وسائل سے لگاو ، ترقی  پسند تحریکوں سے انسلاک رکھنے والے طبقہ افراد کا جنازہ اٹھنے سے کم نہیں ہوتا ہے _ 
 لیکن پھر بھی بے دست و پا ، بے سروسامانی کے عالم میں 
 یہی سوال اٹھتا ہے کہ 
     تیرے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے
      خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے _ 
اور اب  جس کا نتیجہ بایں صورت ظاہر  ہوتا ہے کہ  یلغاروں کی دشنام طرازیوں کی تیریں مسلمانوں کے خون کی پیاسی ہوتی رہی؛ 
   شہ ریگ مسلمانی ان کا مسکن بنتا رہا ؛   ہماری آبادیاں  ان کی طرف سے آنے والے خطرات سے ہمیشہ سہمتی  رہیں __ 
    اور ہم کیا بس!!! 
               بند کمرے میں بیٹھے اظہار خیال کے سوا کچھ بھی  نہیں کر سکتے 
ہماری ماوں اور بہنیں غیروں کے ظلم و  ستم کا نشانہ بنتی رہی ،  فلسطین ، برما ، شام  سے لے کر وطن عزیز کے دہلی شہر تک  ہمارا لہو ان عیاشیوں  کے خوگر ، ظلم و جبر کے عادی افراد کے ذریعہ   بہایا جا تا رہا ہے 
    لیکن پھر بھی تو کس امن کا متلاشی ہے اے مسلماں! 

یہ موجودہ وقت کے نقشہ احوال مسلمانی ہے ، جو صرف ہم سب کے  شجاعت پر داغ نہیں ،  بلکہ ڈر تو اس بات کا ہے   گزشتہ شجاعت بھری تاریخ کے اوراق کالا بند ، جھوٹ اور غیر وثاق کا اظہار کر دیں ، 
یہ بھی بعید نہیں  
     قارئین!  موجودہ المیہ بولتا ہے کہ اب ہمیں حالات سے ڈر کر نہیں بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا _ 
    جو ہمارے آباء و اجداد کا  ہم سبھی کے لیے مرہون منت بھی ہے ۔ 
       کیونکہ آج ہماری  بزدلی کا یہ نتیجہ ہے کہ 75 % عالمی لیبل پر  سب سے زیادہ ظلم و ستم کا شکار بننے والی قوموں کی فہرست  میں قوم مسلم کا شمار اول نمبر پر ہوتا ہے _ 
     آخر ایسا کیوں ؟ 
کس چیز کی کمی ہے ہمارے پاس ، خداوند قدوس نے  ساری ضروری نعمتوں کی ، دیگر قوموں کے مقابل میں ہم پر   خوب برسات کیں _ 
            لیکن افسوس!  ہم سلیقہ بندگی ، 
طرز مجتمع  نعمات  ، تشکر الہیہ جیسے لا زوال نعمتیں عطا کرنے والے ذرائع کو بھول بیٹھے  _ 
   دو روٹی کا انتظام ہوا ، کھا لیا  لیکن یہ سوچنے کا ہنر و ملکہ ہم سے چھین لیا گیا ہے کہ آخر ان دونوں روٹیوں کا عطا کرنے والا کون ہے؟ 
مسلماں ہو جاو بیدار! 
بہت خواب غفلت میں دن چڑھ گیا ہے! 
   
       میدان تعلیم سے لے کر معاشیات تک سارے ذرائع پر غیروں کا قبضہ ہو بیٹھا ہے ، جو کہ قوم کو  یہی ترقی ضمانت دیتی ہے _ ہمارے ہاتھ خالی ہے ، ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ، نہ تیر و تلوار ہیں اور نہ ہی قلم ،  کہ ہم غیروں کا مقابلہ ڈٹ کر کر سکیں _ 
      وقتی ضرورت ہے کہ قوم کے ہر فرد کے ذہن میں احساس ذمہ داری کی روح پھونکیں _ کیونکہ غیر ذمہ دار قوم کبھی ایوان سلطنت کی زینت اور سلطنت کی لگام کو تھام  ہی نہیں سکتی _ 
       اور اپنی پونجی کو اچھی جگہ پر استعمال کرنا سیکھیں ۔ خواہشات کی جگہ ضروریات کو پورا کریں ۔ 
افسوس ہے کہ آج ہماری اک اچھی خاصی  ملکیت  عیش پرستی میں ، نفسیات کی خواہشوں کی تکمیل میں ، غرض کہ فضول خرچی،  لاحاصل مقصد پیسہ خرچ کرنے میں مصروف ہے حتی کہ  اگر اس تناظر میں اپنی قوم کا غیروں کے مقابل میں تجزیہ کریں تو بلا شبہ ان تباہی بھرے رستوں کے قائد ضرور نظر آئیں گے / اور آتے بھی ہیں ۔ 
          مجھے لکھتے ہوئے ان غیر قوموں پر  رشک اور اپنی قو م کے نادانوں  پر شرم کا احساس ہو رہا ہے کہ اس دور ترقی میں  آج بھی "بنیا قوم" کے افراد  اپنی بھگوا چڈی ، بنیان میں اپنی چھٹی روز کے نہان کی تکمیل اور روز مرگ اپنی زندگی کے اخری نہان کو بھی اسی میں  پورا  کرتے ہیں _ 
    آپ غور کریں!! 
بنیان پر چکتیا لگ جاتی ہے  لیکن پھر بھی وہ بروے استعمال لانے میں کسی بھی قسم کا کوئی شرم اور جھجھک محسوس نہیں کرتے ۔ 
اور ہمارا کیا حال ہے؟!
 حالانکہ ملک انڈیا میں یہ قوم  تجارتی لیبل سے نمبر دو پر آتی  ہے  ۔ 
آپ دکھا دیں  کوئی چوراہا ، شہر ، مارکیٹ جہاں پر ان کی دکانیں نہ ہوں  ____ 
                   خدا را!!  ا پنی معشیت کو مضبوط کریں      اور اس مشکل سی گھڑی میں ہر لحظہ عنادین، حاسدین کی چالوں سے  خود کی حفاظت کر یں اور بھیڑ بھیڑ ، مارکیٹ ، جیسی جگہوں اور بے ضرورت خریداری کرنے کے لیے جانے سے خود کو  بچائیں  ۔
 اور دور اندیشی  جیسے عظیم ملکہ رحمت کو اپنے اندر پیدا کریں _ یہی اک ذریعہ ہے جو ہم کو پھر سے  
ایوان سلطنت کی زینت اور ہماری بات  کی حقیت ہونے پر مہر ثبت کر سکتی ہے  
اور یقین کریں! 
پھر تمہارے پاوں چھونے خود بلندی آئے گی!

  مولا مسلمانوں کے اندر بیدارئ ذہن پیدا فرما۔ آمین

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Comments