تحریر:شاہ خالد مصباحی سدھارتھ نگری
اس دھرتی پر کون ہے اپنااوربیگانہ !
تحریر: شاہ خالد مصباحی سدھارتھ نگری ۔
کرونا کا عالمی وبا بننے کی صورت میں اہل جہاں کے ذرائع ابلاغ و ترسیل ، اقتصادیات، معاشیات و سماجیات کے ساتھ ساتھ ادارہ صحت پر جو مضر اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ وہ جملہ منظرات ہم سبھی کے نظروں کے سامنے ہیں ۔
دنیا بھر میں چلنے والی فکٹریوں ، کمپنیوں اور بڑے سے لے کر چھوٹے تک وسائل تجارت پر بین لگا کر جملہ افراد جہاں کو LOCKDOWN کے زنجیروں میں جکڑ دیا گیا - ہر کوئی گھروں میں محصور ہے - وسائل درآمدات و برآمدات مقفل کردیا گیا ہے یہاں کہ زمینوں پر چینٹیوں کے رینگنے اور آسمانوں میں پرندوں کے گردش کرنے کے سوا کچھ بھی حرکت کار نہیں ۔ ہر چیز اپنی آن پر جہاں ہے جیسی ہے ویسے ہی مستقر ہے ۔۔
اور جس کا خمیازہ ہمیں دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں کم رسدی ، بے یقینی کی کیفیت کی شکل میں بھگتنا پڑ رہا ہے ۔۔۔
خواہ وہ سپر پاور ذخائر کی مجتمع مملک ہوں یا صنعتی ایجادات کے دلربا افراد کے ہمنشیں ہوں سب پر اس بحران کی سخت مار پڑیں ہیں جو زندگی کے بچاؤ کے ساتھ ہی ساتھ کھانے پینے تک کے متفکر بن بیٹھے
اور کچھ افراد کے ساتھ
ایسا بھی ہوا کہ زندگی کا بچاؤ اس وبا سے تو ہو گیا لیکن کافی دنوں سے سامان زیست سے در کنار رہنے پر برکنارمرگ انہیں آنا پڑا ۔ جو زمین پر بسنے والے جملہ افراد اور بالخصوص حکومتی منتظمہ کے لیے قابل شرم وحیا ہے۔
ایسا بھی ہوا کہ زندگی کا بچاؤ اس وبا سے تو ہو گیا لیکن کافی دنوں سے سامان زیست سے در کنار رہنے پر برکنارمرگ انہیں آنا پڑا ۔ جو زمین پر بسنے والے جملہ افراد اور بالخصوص حکومتی منتظمہ کے لیے قابل شرم وحیا ہے۔
لیکن اخیار کی حیات میں کائنات کی بقا مستور ہے!
دیکھتے ہی دیکھتے ہزارہاں افراد ، بے شمار تنظیمیں عالم کی اس بے بسی کے ساتھ کھڑے ہوکر دریا دلی کو قائم رکھ کر زندہ دلی کا ثبوت پیش کیا ۔ میں ان تمام تنظیموں اور خصوصا اتر پردیش کے سی ایم یوگی ادیتھ ناتھ جی کو سلام پیش کرتا ہوں کہ لاکھوں کی تعداد میں دلی و اطراف دلی میں پھنسے ہوئے غریب مزدوروں کا خیال کرتے ہوئے بسوں کی آمد و رفت کو جاری فرماکر ان کو اراکین فیملی کے بیچ لا کر بسایا ---- لیکن اس سے قبل ملک کی حالت کو دیکھتے ہوئے انتظامی سہولت نہ ہونے کی بنا پر ہزاروں کی تعداد میں اپنے گھروں کی طرف پیدل چل پڑے مسافروں کا یہ درد سے بھرا ہوا سفر اور دوران سفر بھوک و پیاس کی شدت سے شاہ راہوں پر مری پڑی لاشیں ، جو ہر شہری کے لیے قابل شرمناک ہے ۔ اس پر حکومتی منتظمہ کی میں مذمت کرتا ہوں ۔
اور میں بقیہ تمام ریاستوں کے حکمرانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ یوپی حکومت کی طرح وہ بھی اپنی ریاستوں میں پھنسے ہوئے مختلف اضلاح و شہر کے سکانوں کو سہولتی انتظامات کرکے ان کے گھروں کی طرف روانہ کریں
قارئین احباب! مذہب اور انسانیت کی بنیادی مقصد معاشرے کے محتاجوں، بے کسوں، معذوروں، بیماروں، بیواوں، یتیموں اور بے سہارا افراد کی دیکھ بھال اور ان کی فلاح وبہبود میں مضمر ہے۔یہ مقصد اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جب ایسے لوگوں کی ضرورت اور معذوروی کا خاتمہ کرکے معاشرے میں دولت وضرورت کے درمیان توازن پیدا کر دیا جائے۔ -
اور یقین جانیں! جو لوگ معاشرے سے غربت وافلاس اور ضرورت واحتیاج دور کرنے کے لئے اپنا مال ودولت خرچ کرتے ہیں، انہیں جہاں پبلک میں ایک خاص مقام حاصل ہوتا ہے وہیں پر مذہب میں بھی اک اونچے مقام سے سرفراز کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے خرچ کو اپنے ذمے قرض حسنہ قرار دیتا ہے ۔ ------
اور ساتھ ہی اس بات کی بھی ضمانت دیتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کیئے گئے مال کو کئی گنا بڑھاکردیاجائےگا۔
اور یہ بھی واضح رہے جہاں دوسروں کی مدد کرنا اور ان کی ضروریات کو پورا کرنا انسان اور انسانیت کا بنیادی عمل ہے وہیں پر خالق انسان کے نزدیک نہایت ہی محبوب و پسندیدہ عمل ہے۔
اور بالخصوص متبعین اسلام کے لیے کیوں کہ دین اسلام سراسرخیر خواہی کا مذہب ہے، اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت کو حقوق اللہ کی اہمیت سے بڑھ کر بیان کیاگیا ہے۔ اور دوسروں کی خیر خواہی اور مدد کرکے ہی حقیقی خوشی اور راحت حاصل کی جا سکتی ہے جو اطمنان قلب کے ساتھ ساتھ رضائے الٰہی کا باعث بھی بنتی ہے ۔
واضح رہے محسن انسانیت نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ صرف حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنے کا حکم دیا بلکہ عملی طور پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم خود بھی ہمیشہ غریبوں ،یتیموں، مسکینوں اور ضرورتمندوں کی مدد کرتے۔ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد نبوی میں صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک عورت اپنی کسی ضرورت کے لئے آپ کے پاس آئی ، تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام کے درمیان سے اٹھ کر دیر تک مسجد کے صحن میں اس کی باتیں سنتے رہے اور اس کی حاجت روائی کا یقین دلا کر ،مطمئن کر کے اسے بھیج دیا۔------------(ترمذی)
آقا ئے مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے کہ حاجت مندوں کی مدد کیلئے میں مدینہ کے دوسرے سرے تک جا نے کیلئے تیا ر ہوں
اس لیے اس مشکل گھڑی میں ہم سبھی کو غریبوں ، مزدوروں، لاچاروں کی مدد کرنے کے لیے آگے آنا چاہیے جو انسان کی انسانیت کا بنیادی عمل اور مذہب کا سب کا بڑا درس ہے اور حقیقی زندگی جینے کا راز بھی اسی میں پوشیدہ ہے ۔ بس
خالدہرکوئی زندگی جیتا ہے اپنے لیے ذرا دوسروں کے لیے بھی جینا سیکھوں!


0 تبصرے