Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

ایمان افروز باتیں اور آج کا مسلمان

تحریر:مولانا محمد قمر انجم قادری فیضی
اس وقت ملک اور بیرون ممالک کا جو حال ہے وہ قلم بیان کرنےسےقاصر ہے، اپنے یہاں ہندوستان میں کرفیو جاری ہے اور ہندوستان میں کروناوائرس سے لڑنےکےلئے بےشمار نصیحتیں اور کارآمد باتیں بتائی، لکھے اور چھاپے جا رہے ہیں، حالات اتنے بدترہوگئے ہیں کہ کچھ کہنا مناسب نہیں، اگر میں یہ کہوں کہ یہ قیامت صغری ہے تو میرا کہنا بیجا نہیں ہوگا، 
بعدہُ ازاں کروناوائس بہت برق رفتاری کےساتھ بڑھ رہاہے اس سے لڑنےکےلئے یوپی حکومت نے لاک ڈاؤن کی ہدایت جاری کی ہیں، ٹرینین، ہوائی جہاز، اور اسکول وکالجز ،دوکانیں،سب بند کردئے گئے ہیں،
دہلی سیمت 10 ریاستوں کے177 شہروں میں لاک ڈاؤن، اور ہر جگہ دفعہ 144 نافذ، 
نیز مسجدوں اور مدرسوں پر پابندیاں عائد کردی گئی ہیں، ایسی بھیانک اور وحشت بھرے ماحول میں کوئی کیا کرے، سب حواس باختہ نظر آرہے ہیں، 
کرونا وائرس کے شکار ہوئے لوگوں کی تعداد تقریباً یوپی میں اب تک 9 لوگوں کی موت اور اس سے متاثر ہوئے لوگوں کی تعداد 470 پہنچ گئی ہے،
اور اس وائرس کے شکار بڑے بڑے وزراء اور بڑی بڑی ہستیاں ہوئی ہیں، ابھی 15 مارچ کو یوپی کی راجدھانی لکھنئو میں ایک عظیم الشان پارٹی فنشن کا انعقاد ہوا تھا، جس میں یوپی حکومت کے وزراء اور سیاسی جماعتوں کی بڑی بڑی ہستیاں اس میں شرکت کی تھیں،اور اسی میں مشہور گلوکارہ کانکاکپور بھی شریک ہوئی تھی، جسکی وجہ سے تقریباً 80 ایم پیز کو کرونا وائرس نے اپنے چپیٹےمیں لےلیا، کمال ہے کانکاکپور تونے وہ کام کیا جو خود کرونا وائرس کبھی نہیں کرپاتا، 
کرونا وائرس کےمریضوں کی تصویریں دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، کروناوائرس کا مریض موت کےبعد ایک سیلڈ بیگ میں بندہے مرنےوالےکوہاتھ بھی نہیں لگا سکتے، مرنے والے کوغسل نہیں دے سکتے موت کے بعد دفنانےتک مرنےوالےسے اس کا خاندان تک نہیں مل سکتا، مرنے والے کادیدارتک نہیں کرسکتا، اور نہ ہی اسکی نمازہ جنازہ کوئی پڑھ سکتاہے، 
یااللہ ایسی موت سے بچانا جس سے نماز جنازہ بھی نہ پڑھی جاسکے،نیز اتوار کو جنتا کرفیو کےبعد کرونا وائرس سے جنگ کرنےکے لئے یوپی حکومت نے لاک ڈاؤن نافذا کردیا، اسکے پہلے یوپی کے 16 ضلعوں کو بند کرنے کا حکم تھا، اتوارکو دن بھر بندی کےبعد سوموار صبح جب بند دوکانیں کھلیں، تو اشیاء کی خریداری کےلئےبھاری تعداد میں لوگ سڑکوں اور چوراہوں پر نکل آئیں، ہر جگہ سبزیوں اور کھانےپینےوالی اشیاء کی قیمتوں میں زیادہ اُچھال آیاہے، اور سبزیوں کے قیمت آسمان چھونےلگے ہیں، لوگ کسی بھی قیمت پر سبزیاں خریدنے پر مجبور ہیں، 
کرونا وائرس کی روک تھام کےلئے جب مسجدوں منبرومحراب کو بند کردیا گیا،جہاں سے انسان خداکی بارگاہ نازمیں رورو کر مصیبتوں سے چھٹکارا حاصل کرلیتاتھا، مگر واہ رے کم ظرفی، 
اس سے بہت سارے مسلمان بھائیوں کےذہن میں یہ تشویش پیدا ہوئی کہ کہیں مساجدیں ویران نہ ہوجائیں، اس لئے کچھ طریقے اپنانےکوبتائے گئے، 
جو مساجد قریب میں واقع ہو وہاں نمازوں کا حسب سابق اہتمام کیا جائے جو مساجد مسلم آبادیوں سے دور ہیں ان میں بعدنمازفجر بعض لوگ کھانےپینےکا انتظام کریں، اور نفلی اعتکاف کی نیت سےمقیم ہوجائیں، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنامیں مصروف رہ کر قوم وملت کی حفاظت کی دعاکریں، تاکہ مساجدیں بھی آباد رہیں، اور حکومت کےساتھ تعاون بھی بن رہے، اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئےکچھ ایمان افروز باتیں جس سے ایمان کو جِلابخشاجاسکتاہے اور مصیبتوں آفتوں سے چھٹکاراحاصل کیاجاسکتاہے، 
قارئینِ کرام کی بارگاہ میں پیش ہیں وہ ایمان افروزوکارآمدباتیِں،، 
اگراثرنہ کرےمگرسُن تولےمری فریاد
نہیں ہے دا د کا طالب یہ بند ہِ آزا د 


(1)⇦*انسانی نفس کے تین درجے*

یاد رہے کہ نفسِ انسانی کے تین درجے ہیں : نفسِ اَمّارہ: جو انسان کو برائی کی رغبت دیتا ہے ۔نفسِ لَوّامہ: جو گنہگار کو گناہ کے بعد ملامت کر کے توبہ کی طرف راغب کرتا ہے۔ نفسِ مُطْمَئِنّہ: جو بندگانِ خدا کو ذکر ِ خدا سے سکون پہنچاتا ہے ۔ چونکہ یہ لوگ دنیا میں  اللّٰہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی مصیبتوں پر صابر اور  راحتوں پر شاکر رہ کر راضی برضا رہے اور ہر حال میں اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے طلبگار رہے تو اللّٰہ تعالیٰ بھی ان کے  تھوڑے عمل پر ان سے راضی ہوتا ہے اور اپنے انعامات   سے ان کو راضی کرتا ہے۔  
 { فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ : پھر میرے خاص بندوں   میں  داخل ہوجا۔}نفس ِمُطْمَئِنّہ کو خاص بندگانِ خدا کے گروہ میں   شامل ہوکر جنت میں داخل ہونے کا فرمایا جائے گا۔ اس آیت میں نیک لوگوں کی مَعِیَّت و قرب کی فضیلت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ  اللّٰہ  تعالیٰ نے پہلے اسے نیک بندوں   کی مَعِیَّت میں  جانے کا فرمایا اور پھر جنت میں  داخل ہونے کا فرمایا اور یہ حقیقت ہے کہ نیکوں  کی صحبت اصلاحِ قلب اور دخولِ جنت کا ذریعہ ہے۔(2)⇦*صوفیا ء کےنزدیک تَزکِیَہ کامطلب*
بیشک جس نے خود کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگا۔
 مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے تحریر فرمایا ہے کہ صوفیاء کے نزدیک تَزْکِیَہ کا (مطلب) دل (کو) بُرے عقیدے، بُرے خیالات (اور) تصور ِغیر سے پاک کرنا ہے۔ دل کی صفائی یا وہبی ہے یا کسبی یا عطائی۔ وہبی تزکیہ پیدائشی ہوتا ہے، کسبی اپنے اعمال سے (جبکہ) عطائی کسی کی نظر سے ، جیسے بادل اور سورج دور رہتے ہوئے بھی گندی زمین کو پاک کر دیتے ہیں ، ایسے ہی اللّٰہ والوں  کی نظر دور سے بھی گندے دلوں  کو پاک کردیتی ہے۔( نور العرفان، الاعلی، تحت الآیۃ: ۱۴، ص۹۷۷)دُنْیَوی زندگی کی لذتوں میں کھو کر آخرت کو نہ بھلا دیا جائے:-حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں ’’دنیا چونکہ ہمارے سامنے موجود ہے اور اس کا کھانا، پینا، عورتیں ،دنیا کی لذتیں اور اس کی رنگینیاں ہمیں جلد دیدی گئیں جبکہ آخرت ہماری نظروں سے غائب ہے، اس لئے جو چیز ہمیں جلد مل رہی ہے ہم اسے پسند کرنے لگ گئے اور جو بعد میں ملے گی اسے ہم نے چھوڑ دیا۔ (خازن، الاعلی، تحت الآیۃ: ۱۶  -  ۱۹، ۴ / ۳۷۱، مدارک، الاعلی، تحت الآیۃ: ۱۶  -  ۱۹ ، ص ۱۳۴۱  ، ملتقطاً )
 اس سے معلوم ہو اکہ ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ دُنْیَوی زندگی کی فانی لذتوں ، رنگینیوں اور رعنائیوں میں کھو کر اپنی آخرت کو نہ بھول جائے بلکہ وہ اپنی سانسوں کو غنیمت جانتے ہوئے اپنی زندگی اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت میں گزارے اور آخرت میں جنت کی دائمی نعمتیں حاصل کرنے کی کوشش کرے جبکہ فی زمانہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنی دنیا بہتر بنانے میں ایسی مصروف ہے کہ اسے اپنی آخرت کی کوئی فکر نہیں ۔دنیا اور آخرت کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:  ’’وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌؕ-وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ  ‘‘(  انعام: ۳۲)  
ترجمہ کنزُالعِرفان  : اور دنیا کی زندگی صرف کھیل کود ہے اور بیشک آخرت والا گھر ڈرنے والوں کے لئے بہتر ہے تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟  
اور ارشاد فرمایا: ’’ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْاؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ  ‘‘(  یوسف:  ۱۰۹)  
ترجمہ کنزُالعِرفان : تو کیا یہ لوگ زمین پرنہیں  چلے تاکہ دیکھ لیتے کہ ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوااور بیشک آخرت کا گھر پرہیزگاروں  کے لیے بہتر ہے۔تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟  
اور ارشاد فرمایا: ’’مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَۚ- یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا(۱۸) وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا ‘‘
 (بنی اسرائیل: ۱۸، ۱۹)  
ترجمہ کنزُالعِرفان -جو جلدی والی (دنیا) چاہتا ہے تو ہم  جسے چاہتے ہیں  اس کیلئے دنیا میں  جو چاہتے ہیں  جلد دیدیتے ہیں پھر ہم نے اس کیلئے جہنم بنارکھی ہے جس میں وہ مذموم،مردود ہوکر داخل ہوگا۔ اور جو آخرت چاہتا ہے اوراس کیلئے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔  
 لہٰذا اے بندے! ’’ وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ ‘‘ ( قصص: ۷۷ )  
ترجمہ کنزُالعِرفان  : اور جو مال تجھے  اللّٰہ   نے دیا ہے اس کے ذریعے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کر جیسا اللّٰہ نے تجھ پر احسان کیا اور زمین میں فساد نہ کر، بے شک اللّٰہ فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔

(3)⇦*قیامت کےدن ایمان والوں کےحساب کی صورتیں*یاد رہے کہ قیامت کے دن بعض اہلِ ایمان ایسے ہوں   گے کہ جنہیں اعمال نامہ دیا ہی نہیں جائے گا اور وہ بغیر حساب کتاب کے سیدھے جنت میں   چلے جائیں   گے اور بعض اہلِ ایمان ایسے ہوں   گے کہ جب وہ   اللّٰہ  تعالیٰ کی بارگاہ میں  حاضر ہوں گے تو ان سے تحقیق اور جَرح والا حساب نہیں ہو گا بلکہ صرف ان کے اعمال ان پر پیش کئے جائیں  گے، وہ اپنی نیکیوں اور گناہوں کو پہچانیں   گے، پھر انہیں نیکیوں   پر ثواب دیا جائے گا اور ان کے گناہوں سے درگزرکیا جائے گا۔ یہ وہ آسان حساب ہے جس کا اس آیت میں   ذکر ہے کہ نہ شدید اعتراضات کر کے اعمال کی تنقیح ہو، نہ یہ کہا جائے کہ ایسا کیوں کیا، نہ عذر طلب کیا جائے، نہ اس پر حجت قائم کی جائے کیونکہ جس سے مطالبہ کیا گیا تو اسے کوئی عذر ہاتھ آئے گا اور نہ وہ کوئی حجت پائے گا اس طرح وہ رسوا ہو جائے گا،اور بعض اہلِ ایمان ایسے ہوں   گے کہ جب وہ  اللّٰہ  تعالیٰ کی بارگاہ میں   پیش ہوں گے تو ان کے ہر عمل کی پوچھ گچھ ہوگی،ان کا کوئی گناہ نظر انداز نہیں  کیا جائے گا اور انہیں برے اعمال کی سزا کاٹنے کے لئے ایک مخصوص مدت تک جہنم میں  ڈال دیا جائے گا۔ ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ   اللّٰہ   تعالیٰ کی بارگاہ میں  قیامت کے دن آسان حساب لئے جانے کی دعا مانگا کرے۔حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا  فرماتی ہیں ، میں نے ایک مرتبہ نماز کے بعدنبی کریم   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کویہ دعا مانگتے ہوئےسنا’’ اَللّٰہُمَّ   حَاسِبْنِیْ   حِسَابًا   یَّسِیْرًا ‘‘ اےاللّٰہ  ! مجھ سے آسان حساب لے۔جب نماز سے فارغ ہو  کر آپ   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   واپس ہوئے تو میں نے عرض کی:   یا رسولَ اللّٰہ !  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ، آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ارشاد فرمایا’’ اس سے مراد یہ ہے کہ بس بندے کے اعمال نامے کو دیکھا جائے اور اس کے گناہوں کو نظر اندازکر دیا جائے۔ اے عائشہ! رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا، قیامت کے دن جس سے اعمال کے حساب کے معاملے  میں  جَرح کی گئی تو وہ ہلاک  (یعنی عذاب میں   گرفتار)  ہو  جائے گا۔  ( مسند امام احمد، مسند السیدۃ عائشۃ  رضی اللّٰہ عنہا ،  ۹  /  ۳۰۳ ، الحدیث:  ۲۴۲۷۰ ) 
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اللّٰہ  تعالیٰ کی بارگاہ میں اور ان کے ہی الفاظ میں ہم بھی اسی کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں :بزبان شعر

ہم ہیں اُنکےوہ ہیں تیرےتو ہوئے ہم تیرے 
اس سے بڑھ کر تِری سمت اور وسیلہ کیا ہے 

ان کی امت میں  بنایا انہیں  رحمت بھیجا 
یوں  نہ فرما کہ ترا رحم میں  دعویٰ کیا ہے 

صدقہ پیارےکی حیاء کاکہ نہ لے مجھ سےحساب، 
بخش بے پوچھے لجائے کو لجانا کیا ہے

(4)*⇦اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرنے کی فضیلت*اللّٰہ تعالیٰ کا ڈر زیادہ سے زیادہ علم پر عمل سے پیدا ہوتا ہے:- حضرتِ انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس آیت ’’هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ‘‘ کے بارے میں ارشاد فرمایا’’اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے’’میں  اس لائق ہوں  کہ مجھ سے ڈرا جائے لہٰذا جو مجھ سے ڈرا اور اس نے میرے ساتھ کوئی دوسرا خدا نہ بنایا تو میں  اس بات کا اہل ہوں  کہ اسے بخش دوں ۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المدثر،۵ / ۲۱۷، الحدیث: ۳۳۳۹)
توبہ میں  تاخیر کا مرض ـ:-
فی زمانہ مسلمانوں  کی ایک تعداد ایسی ہے جس میں  یہ مرض پایا جاتا ہے کہ انہیں  گناہوں  سے رُک جانے اور ان سے توبہ کرنے کی ترغیب دی جائے اور شریعت کے اَحکامات پر عمل کرنے کا کہا جائے تو آگے سے یہ جواب دیتے ہیں کہ بھیا! ابھی تو بہت عمر پڑی ہے، جب بڑھاپا آئے گا تو گناہوں  سے توبہ بھی کر لیں  گے، نمازیں  بھی شروع کر دیں  گے،روزے بھی رکھنے لگیں  گے ، داڑھی بھی رکھ لیں  گے اور اللّٰہ اللّٰہ کرنے میں  مصروف ہو جائیں  گے لیکن ابھی تو ہم جوان ہیں  ، ابھی تو ہمارے عیش کرنے کے دن ہیں  اور ابھی تو ہم نے دنیا دیکھی ہی کیا ہے جو اِن چیزوں  میں  مصروف ہو جائیں  اور بعض مسلمان تو ایسے بھی نظر آتے ہیں  کہ اگر ان کی اولاد میں  سے کوئی جوانی میں  گناہوں  سے دور بھاگنے لگے، نیکیوں  کی طرف راغب ہونے لگے،چہرے پہ داڑھی شریف سجا لے، نماز روزے کی پابندی شروع کر دے اور نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنتوں  پر عمل کرنے لگے تو اسے عمر لمبی ہونے کا کہہ کر ان چیزوں  سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں  اور طرح طرح سے اسے سمجھاتے ہیں ، مرنے یا ماردینے کی دھمکیاں  دیتے ہیں  اور اسے گناہوں  بھری زندگی میں  لَوٹانے کے پورے پورے جَتَن کرتے ہیں  اور اگر وہ ان کی باتوں  میں  نہ آئے تو اسے گھر سے نکال دیتے اور اس کا سوشل بائیکاٹ کر دیتے ہیں  گویا کہ ان کے نزدیک اسلام کے اَحکام پر عمل کرنا ایسا سنگین جرم ہے جو اس وقت تک معافی کے قابل نہیں  جب تک وہ ان احکام پر عمل کرنا چھوڑ نہیں  دیتا۔مسلمانوں  کی گناہوں  میں  مَشغولِیَّت، توبہ اور اپنی اصلاح سے دوری اور اسلام کے احکامات پر عمل نہ کرنے کا دُنْیَوی نتیجہ آج سب کے سامنے ہے کہ مسلمان دنیا بھر  میں  کمزور اور مغلوب نظر آرہے ہیں  اور کفّار مُسلم ممالک پر حملے کر کے ان کی اینٹ سے انیٹ بجا رہے ہیں  جبکہ آخرت میں اس چیز کا انجام کیا ہو گا وہ اللّٰہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔

وہ مُعَزّز تھےزمانےمیں مسلماں ہوکر،
اور ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں  ہو کر،
توبہ میں تاخیر کرنے کے حوالے سے امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : ’’ایمان دار توبہ کرنے کی خواہش تو رکھتا ہے لیکن محض سُستی اور کاہلی کے باعث اس سے توبہ کرنے میں  تاخیر ہو رہی ہوتی ہے اور وہ دل ہی دل میں  کہتا جاتا ہے کہ میں  کل توبہ کر لوں  گا، ابھی یہ خواہش تو پوری کر لوں  بعد میں  اس کا نام تک نہ لوں  گا ،تو ایسے شخص سے پوچھئے کہ تُو (توبہ کے معاملے میں ) ٹال مٹول کرنے میں  کیوں  مبتلاہے ؟تو کس خوش فہمی کا شکار ہے؟ تو توبہ کرنے کے لئے آج کی بجائے کل کا کیوں  مُنْتَظر ہے؟ کیا معلوم کہ تجھے کل کا دن نصیب ہی نہ ہو،اگر تم یہ گمان رکھتے ہو کہ آج کی بجائے کل توبہ آسان ہو گی تو اس خام خیالی کو اپنے دل سے نکال دے کیونکہ یہ محال ہے اور یہ غلط بات جتنی جلدی تیرے دل سے نکل جائے اتنا ہی (تیرے لئے) اچھا ہے کیونکہ جو مشکل آج تمہیں  درپیش ہے وہی کل بھی ہو سکتی ہے اور اللّٰہ تعالیٰ نے تمام دن ایک جیسے بنائے ہیں ،ان میں  کوئی دن خاص نہیں  کیا جس میں  شہوت کو ترک کرنا آسان ہو۔ ایسے شخص کی مثال یوں  سمجھئے کہ جب اسے کہا جائے کہ فلاں  درخت کو جڑوں  سے اکھیڑ دو تو وہ کہے کہ یہ درخت بہت مضبوط ہے اور میں  بہت کمزور ہوں ،اب تو اسے اکھیڑنا میرے بس کی بات نہیں  البتہ آئندہ سال میں  اسے اکھیڑ دوں  گا۔ ذرا اس احمق سے پوچھئے کہ کیا اگلے سال وہ درخت اور مضبوط نہیں  ہو چکا ہو گا اور تیری کمزوری مزید بڑھ نہ چکی ہو گی؟ بس یہی صورتِ حال خواہشات کے درخت کی ہے جو روز بروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جاتا ہے اس لئے کہ وہ تو خواہشات اور لذات کا محکوم بن چکا ہے جس کی وجہ سے وہ خواہشات کے اَحکام پر تَسَلْسُل سے عمل پیرا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ ان خواہشات کی غلامی کی بندش کی وجہ سے ان کے خلاف چلنا اس کے بس کا روگ نہیں  رہتا، لہٰذا اے انسان !جتنی جلدی تو خواہشات اور شہوات کے درخت کو اکھیڑ سکتا ہے اسے اکھیڑ دے کیونکہ اس میں  تیرا ہی فائدہ ہے۔( کیمیاء سعادت، رکن چہارم، اصل اول در توبہ، ۲ / ۷۷۳)
(5)⇦*اِستغفار کرنے کے دینی اور دُنْیَوی فوائد حاصل کرے*
تو میں نے کہا: (اے لوگو!) اپنے رب سے معافی مانگو، بیشک وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے۔ وہ تم پر موسلا دھار بارش بھیجے گا۔ اور مالوں اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغات بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا۔
 اس سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  اِستغفار کرنے اور اپنے گناہوں  سے توبہ کرنے سے بے شمار دینی اور دُنْیَوی فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔اِستغفار کرنے کے بارے میں ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا *(النساء:۱۱۰) 
 ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو کوئی برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللّٰہ سے مغفرت طلب کرے تو اللّٰہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا۔
 اور ارشاد فرمایا:’’ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ‘‘ *(انفال:۳۳)
 *ترجمۂ کنزُالعِرفان : اور اللّٰہ انہیں  عذاب دینے والا نہیں  جبکہ وہ بخشش مانگ رہے ہیں ۔
اور ارشاد فرمایا: ’’وَ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى‘‘ *(ہود:۳) 
 ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یہ کہ اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف توبہ کروتو وہ تمہیں  ایک مقررہ مدت تک بہت اچھا فائدہ دے گا۔
حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا: وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ (ہود:۵۲)*
ترجمۂ کنزُالعِرفان : اور اے میری قوم! تم اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی بارگاہ میں  توبہ کرو تووہ تم پرموسلادھار بارش بھیجے گا اور تمہاری قوت کے ساتھ مزید قوت زیادہ کرے گا۔ اورحضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولُ   اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جس نے استغفار کو اپنے لئے ضروری قرار دیا تو اللّٰہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں  سے اسے وہم وگمان بھی نہ ہو گا۔ *( ابن ماجہ، کتاب الادب، باب الاستغفار، ۴ / ۲۵۷، الحدیث: ۳۸۱۹)یاد رہے کہ اولاد کے حصول، بارش کی طلب، تنگدستی سے نجات اور پیداوار کی کثرت کے لئے استغفار کرنا بہت مُجَرَّبْ قرآنی عمل ہے۔اسی سلسلے میں  یہاں  دو حکایات ملاحظہ ہوں ، چنانچہ حضرت ِامامِ حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک مرتبہ حضرت امیر ِمعاویہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس تشریف لے گئے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے حضرت امیر ِمعاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ایک ملازم نے کہا کہ میں  مالدار آدمی ہوں  مگر میرے ہاں کوئی اولاد نہیں ، مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جس سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے اولاد دے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: استغفار پڑھا کرو۔ اس نے استغفار کی یہاں  تک کثرت کی کہ روزانہ سا ت سو مرتبہ استغفار پڑھنے لگا، اس کی برکت سے اس شخص کے ہاں  دس بیٹے ہوئے، جب یہ بات حضرت امیر ِمعاویہ   رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو معلوم ہوئی تو انہوں  نے اس شخص سے فرمایا کہ تو نے حضرتِ امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے یہ کیوں  نہ دریافت کیا کہ یہ عمل حضور نے کہاں  سے فرمایا ۔دوسری مرتبہ جب اس شخص کو حضرتِ امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تو اس نے یہ دریافت کیا ۔حضرتِ امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ تو نے حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قول نہیں  سنا جو اُنہوں نے فرمایا: ’’ وَ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ ‘‘ اور حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ ارشاد نہیں  سنا: یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ ۔ *( مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۵۲، ص۵۰۲) اسی طرح حضرت حسن بصری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے بارش کی قلت کی شکایت کی ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے استغفار کرنے کا حکم دیا، دوسرا شخص آیا اور اس نے تنگ دستی کی شکایت کی تو اسے بھی یہی حکم فرمایا، پھر تیسرا شخص آیا اور اُس نے نسل کم ہونے کی شکایت کی تو اس سے بھی یہی فرمایا، پھر چوتھا شخص آیا اور اس نے اپنی زمین کی پیداوار کم ہونے کی شکایت کی تو اس سے بھی یہی فرمایا ۔حضرت ربیع بن صبیح رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  جو کہ وہاں  حاضر تھے انہوں  نے عرض کی: آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس چند لوگ آئے اور انہوں  نے طرح طرح کی حاجتیں  پیش کیں ، آپ نے سب کو ایک ہی جواب دیا کہ استغفار کرو؟ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان کے سامنے یہ آیات پڑھیں: ’’اِسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ(۱۰)یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ (۱۱)وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًا‘ *‘(خازن، نوح، تحت الآیۃ: ۱۰-۱۱، ۴ / ۳۱۲، تفسیر ثعلبی، نوح، تحت الآیۃ: ۱۲، ۱۰ / ۴۴)
*اپنے اعمال کا محاسبہ اور اُخروی حساب کی تیاری کرنے کی ترغیب:-* 
اس دن تم سب اس حال میں پیش کئے جاؤ گے کہ تم میں سے کسی کی کوئی پوشیدہ حالت چھپ نہ سکے گی۔ *(سورۃ الحاقہ آیت نمبر 18) 
اس آیت میں  دنیا میں  ہی اپنے اعمال کا محاسبہ کرلینے اور قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  ہونے والے حساب کی تیاری کر لینے کی بھی ترغیب ہے ۔اسی چیز کا حکم دیتے ہوئے ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ‘‘
 *(الحشر:۱۸)ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللّٰہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے۔اور اپنے حساب کے معاملے میں  لوگوں  کا حال بیان کرتے ارشاد فرماتا ہے:’’ اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ‘‘
 *(انبیاء:۱)  *ترجمۂ کنزُالعِرفان : لوگوں  کا حساب قریب آگیا اور وہ غفلت میں  منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔
 اور قیامت کے دن حساب کے معاملات اور لوگوں  کی جزا کے بارے میں  بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:’’وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّاؕ-لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ-بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا(۴۸) وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَاۚ-وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاؕ-وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا‘‘ *(کہف:۴۸،۴۹)
 *ترجمۂ کنزُالعِرفان : اور سب تمہارے رب کی بارگاہ میں صفیں  باندھے پیش کئے جائیں  گے، بیشک تم ہمارے پاس ویسے ہی آئے جیسے ہم نے تمہیں  پہلی بارپیدا کیا تھا، بلکہ تمہارا گمان تھا کہ ہم ہر گز تمہارے لیے کوئی وعدے کا وقت نہ رکھیں  گے۔ اور نامہ اعمال رکھا جائے گا تو تم مجرموں  کو دیکھو گے کہ اس میں  جو (لکھا ہوا) ہوگا اس سے ڈررہے ہوں  گے اور کہیں  گے: ہائے ہماری خرابی! اس نامہ اعمال کو کیاہے کہ اس نے ہر چھوٹے اور بڑے گناہ کو گھیرا ہوا ہے اور لوگ اپنے تمام اعمال کو اپنے سامنے موجود پائیں  گے اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں  کرے گا۔
اور ارشاد فرمایا: ’’وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓىٕرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖؕ -وَ نُخْرِ جُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا (۱۳)اِقْرَاْ كِتٰبَكَؕ -كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ (۱۴) مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا‘ 
*‘(بنی اسرائیل:۱۳۔۱۵)
 *ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہر انسان کی قسمت ہم نے اس کے گلے میں  لگادی ہے اورہم اس کیلئے قیامت کے دن ایک نامہ اعمال نکالیں  گے جسے وہ کھلا ہوا پائے گا۔ (فرمایا جائے گا کہ) اپنا نامہ اعمال پڑھ، آج اپنے متعلق حساب کرنے کیلئے تو خود ہی کافی ہے۔ جس نے ہدایت پائی اس نے اپنے فائدے کیلئے ہی ہدایت پائی اور جو گمراہ ہوا تو اپنے نقصان کو ہی گمراہ ہوا۔
اور ارشاد فرمایا: ’’لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰىﳳ-وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ ﳔوَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمِهَادُ ‘ *‘(رعد:۱۸) 
 ترجمۂ کنزُالعِرفان: جن لوگوں  نے اپنے رب کا حکم مانا انہیں  کے لیے بھلائی ہے اور جنہوں  نے اس کا حکم نہ مانا (ان کا حال یہ ہوگا کہ) اگر زمین میں  جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور اِس کے ساتھ ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کو دے دیتے۔ ان کے لئے برا حساب ہوگا اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔
اور حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک مرتبہ اپنے خطبے میں  ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو!تم حساب لئے جانے سے پہلے اپنے آپ کا محاسبہ کر لو اور (اعمال کا) وزن کئے جانے سے پہلے اپنے آپ (کے اعمال) کا وزن کر لو اور اس دن کی بڑی پیشی کی تیاری کرلو جس دن تم سب (اللّٰہ کی بارگاہ میں ) اس حال میں  پیش کئے جاؤ گے کہ تم میں  سے کسی کی کوئی پوشیدہ حالت چُھپ نہ سکے گی۔ *( مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الزہد، کلام عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ، ۸ / ۱۴۹، الحدیث: ۱۸)
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں  اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے اور آخرت میں  ہونے والے حساب کی ابھی سے تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہم سب کو اپنی رضا ومحبت اپنے محبوب کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور اپنے محبین کی محبت اور غلامی سے سرفراز فرمائے، 
اور ایسے اعمال کی توفیق دے، جو ہمیں انکی محبت اور قربت بخشتے رہیں، اور دنیا کی تمام آفتوں بلاؤں سے محفوظ ومامون عطا فرمائے اٰمین یارب العالمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Comments