Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

مدارس اسلامیہ پر منڈراتے خطرات کے بادل

تحریر:عبدالرشید مصباحی

ملک میں کرونا مہاماری کی وجہ سے ایمرجینسی جیسی صورت حال پیدا ہوگئ ہے.اس مہاماری سے بچنے کے لئے حکومت نے پورے ملک میں بندی کا اعلان کر دیا ہے جس کی وجہ سے ملک کے سارے تجارتی ذرائع مندی کے شکار ہو چکے ہیں.
 ملک پہلے سے ہی حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے مندی و بے روزگاری کی مار جھیل رہا تھا رہی سہی کسر نوٹ بندی وGSTنے پوری کر دی تھی ,اب یہ کرونا کی وجہ سے پورے ملک میں لاک ڈاؤن کے نفاذ نے"جلتے پر گھی" کا کام کیا ہے.اس لاک ڈاؤن میں ہر چھوٹے بڑے, تجارتی ذرائع ,کارپوریٹ سیکٹر,انڈسٹریز,چاہے وہ پرائیویٹ ہوں یاسرکاری سبھی بند ہیں.جس کی وجہ سے ملک کی معاشی حالت انتہائ نا گفتہ بہ ہوتی جا رہی ہے.
  تجزیہ نگاروں کی مانیں تو اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک کے اقتصاد پر جو گہرا زخم لگنے والا ہے , دس برسوں میں بھی
اس کا اندمال ناممکن ہے.
اپنے چھ سالہ دور حکومت میں اس گورنمنٹ نے تعمیر وترقی کے کوئ ایسے کام تو کئے نہیں جو قابل ذکر ہوں اوپر سے ملک میں نفرت کا بازار گرم کرنے اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے میں یہ اس طرح مگن ہیں کہ پورے ملک میں اقتصادی ایمرجینسی کی کیفیت پیدا ہوتی چلہ جا رہی ہے اور اقتدار کی بھوکی یہ مرکزی حکومت صوبائ غیر بی جے پی حکومتوں پر شب خون مارنے میں لگی ہوئ ہے.اور نوبت بایں جا رسید کہ بڑے بڑے بینک وکمپنیز اس اقتصادی مندی میں دیوالیہ ہوگئے.اور حکومت مندر مسجد ,تین طلاق ,370,CAA,NRC,NPR,گائے گوبر,کر رہی ہے .
 جو حکومتیں ملکی مفاد میں مخلص ہوتی ہیں وہ ملک اور ملک کے باشندوں کی ترقی وفلاح وبہبودی کے لئے پالیسیاں بناتی ہیں,ملک کے اقتصادکو آگے بڑھانے کے لئے عالمی اداروں سے معادلہ کرتی ہیں جس کے نتیجہ میں غیر ملکی ایجنسیاں اس ملک میں اپنا انویسٹ کرتی ہیں جس سے روزگار کے مواقع فراہم ہوتے ہیں .مگر
ان چھ سالوں میں مودی جی نے صرف دنیا کی سیر کی, جس میں اربوں کھربوں کے وارے نیارے ہوگئے اس کے باوجود آج تک کسی انویسٹر نے ان پر اعتماد ہی نہیں کیا.
اور اب ملک کی یہ حالت ہوگئ کہ لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہیں.لوگوں کے کاروبار بند ہو رہے ہیں,چھوٹے موٹے سینکڑوں کارخانے بند ہوگئے, ان کے مالکان نے لون نہ بھر پانے کی وجہ سے خود کشی کر لی.
 اس حکومت کی پالیسیاں بھی کمیونلائز ہوتی ہیں.
جب ملک پہلے ہی سے اقتصادی مندی کا شکار تھا ایسے وقت میں بغیر کسی پیشگی تیاری کے ملک کو لاک ڈاؤن کردینا کسی بھی طرح دانشمندانہ اقدام نہیں تھا,کیونکہ اس سے جس طرح کے نقصانات ہو رہے ہیں ,اگر پیشگی کوئ تیاری کر لی جاتی تو آج نقصانات کا تناسب کم ہوتا. خیر یہ حالات ملک کی معیشت پر تو اثر انداز ہوں گے ہی ساتھ ہی ساتھ مدارس اسلامیہ بالخصوص مدارس اہلسنت پر زیادہ اثر انداز ہوں گے اس کی وجہ ظاہر ہے' کہ لاک ڈاؤن کا میعاد 14 اپریل ہے ممکن ہے اس میعاد میں اضافہ ہو جائے ,اگر بالفرض اضافہ نہ بھی ہو تب بھی اس بندی کے اثر سے پورے ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے.اور رمضان المبارک کا مہینہ آتے آتے جس میں کسی بھی اصلاح کی کوئ امید نظر نہیں آتی ہے .چوں کہ وہ مدارس اسلامیہ جن کے لاکھوں کے صرفہ کا بار عوامی امداد پر منحصر ہے, اور رمضان المبارک کے موقعہ پر ہندوستانی عوام بشمول ممبئ دلی,کلکتہ,جے پور,وغیرہ وغیرہ کے اہل ثروت کے ساتھ ہر چھوٹا بڑا کاروباری ,اپنی زکوۃ وفطرات کے ذریعہ ان مدارس کا تعاون کرتے ہیں اور اپنی محنت کی کمائ کا وافر حصہ ان مدارس پر خرچ کرتے ہیں ! اب ظاہر ہےکہ جب لوگوں کا کاروبار دو مہینہ تک بند رہے گا اور آمدنی کے ذرائع مقفل ہوں گے تو ایسی صورت میں وہ مدارس کی امداد واعانت کے لئے کنارہ کشی اختیار کریں گے. 
ہندوستان کے سارے مدارس (الا ماشاءاللہ) کا انحصار عوامی امداد پر ہی ہے اب جو مدرسہ سیلف ڈیپینڈ نہیں ہیں جب وہ رمضان میں عوامی امداد سے محروم ہو جائیں گے تو پھر ان کے سال بھر کے اخراجات کو پورا کر پانا مشکل ہو جائے گا جس سے ایسے مدارس کا بند ہوجانا فطری ہے.
" بالخصوص مدارس اہلسنت " کیوں؟؟؟
ہو سکتا ہے آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ جب سبھی مسالک کے مدارس عوامی امداد پر ہی چلتے ہیں تو نقصان میں بھی سبھی برابر ہوں گے,تو پھر مدارس اہلسنت کی تخصیص کیوں؟؟؟
 میرے خیال سے جب کسی چیز کی کثرت ہو جاتی ہے تو پھر اس کی قدر وقیمت میں بھی کمی آجاتی ہے یہی حال مدارس اہلسنت کا بھی ہے.
ہمارے یہاں صرف کانٹٹی پر فوکس کیا جاتا ہے کوالٹی پر نہیں! اس لئے اپنے مسلک ومشرب کی نشر واشاعت کے لئے ہم نے گاؤں گاؤں ,قریہ قریہ,غرضیکہ ہر گلی محلہ میں دارالعلوم اور جامعات کھولے اور اس کا سارا انحصار رمضانی چندہ پر کیا,ایک ایک گاؤں میں دو دو تین تین دار العلوم ہم نے بنائے ,لوگوں کو آپس میں لڑا کر اپنا الو سیدھا کیا ,چند ناکارہ بچوں کو رکھ کر پیٹ پالنے کا انتظام کر دیا اور ان بچوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلواڑ کر تے رہےمگر تعلیمی معیار اور آمدنی کے ذرائع ,مدرسہ کے نظم و نسق پر فوکس ہم نے کبھی نہیں کیا جس کے نتیجہ میں ہمارے اداروں کے طلباء واساتذہ تعلیم وتعلم پر کم !دردر چندہ وصولی و سال در سال غلہ, چمڑا راشن,تیل دال ,مسالہ, حتی کہ تعمیر کے نام پر اینٹ ,سیمینٹ,مورنگ,گٹی مانگنے میں ہیں لگے رہتے ہیں.
ہر گاؤں ہر گلی میں دارالعلوم 
 اور جامعہ کھولنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج کسی بھی پرائیویٹ  مدرسہ کا مدرس ملنے والی تنخواہ پر مطمئن نہیں ہے.
        اب ایسے مدرسوں میں نہ تو قابل اساتذہ ہوتے ہیں,اور نہ ہی لائق فائق طلباء,نہ تو نظافت کا بہتر انتظام ہوپاتا ہے اور نہ ہی مہذب رہن سہن,کیوں کہ ان سب سہولیات کے لئے ایک مناسب اور اچھے بجٹ کی ضرورت ہوتی ہے.جس کے لئے مضبوط منصوبہ سازی کی ضرورت ہے.
          اگر دس ہزار زکوۃ کی رقم کسی ایک مدرسہ میں دے کر اسی کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے پر خرچ کیا جائے تو اس سے بہتر نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے اور اگر اسی دس ہزار کی رقم کو چار مدرسوں میں تقسیم کردیا جائے تو چاروں کا نظام درہم برہم ہی رہے گا اور کسی میں بھی تعلیم ,وتربیت کا اعلی معیار قائم نہیں ہو پائے گا
آج مندی کے اس ماحول میں جب کہ رمضان المبارک میں حسب سابق زکوۃ وصولی کی مہم ناکام نظر آرہی ہے اب کثرت مدارس کیوجہ سے جو مدارس سالوں سال بجٹ کی کمی کا رونا روتے رہتے ہیں,مدرسین کو کماحقہ تنخواہ نہیں ادا کرپاتے,طلباء کے قیام وطعام میں تساہلی برتتے ہیں اور شعبان آتے آتے تہی دست ولاچار ہو جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ان مدارس کا کیا حال ہوگا؟ 

ہاں کچھ مدارس ایسے ہیں جن کے پاس ایک خطیر بجٹ موجود ہے اگر وہ چاہیں تو اپنا نظام تعلیم بہتر مینٹین کر سکتے ہیں .اور اگر حالات جوں کے توں رہے تو اکثر مدارس اس بندی کی زد میں آکر بند ہوجائیں گےاور ان کا پرسان حال کوئ نہ ہوگا.
 ایسا بھی نہیں ہے کہ اہلسنت کی تنظیموں فاؤنڈیشنز, درگاہوں ,خانقاہوں,وعوام اہلسنت کے پاس پیسے نہیں,کہ وہ ان مدارس کو سنبھالا نہ دے سکیں! اور ملت اسلامیہ کی تعمیر وترقی میں خرچ نہ کر سکیں اور جماعت اہلسنت سے وابستہ افراد جن کے کارو بار بند ہو چکے ہوں ان کو کچھ سہارا نہ دے سکیں.
  بلکہ ہماری عوام و خواص کے پاس بھی فلاحی وتعلیم وتعمیر پر خرچ کرنے کےلائق خطیر رقم موجود ہے اور انھیں میں کچھ افراد تو ایسے بھی ہیں جو سالانہ کروڑوں کا ٹیکس ادا کرتے ہیں ! 
مگر ان کی دولت کسی بنیادی جگہ پر نہ خرچ ہو کر عیش وعشرت, فرضی جلسہ جلوس,چادر گاگر,عرس و قوالی و بے فائدہ سیاسی تشہیر میں خرچ ہوتی ہے .اس سے جو بچ رہے وہ خانقاہوں کے شہزادگان کی نذر ہو جاتا ہے.اور خانقاہوں کے یہ نام نہاد بوریاں نشین بڑے بڑے امپائر ,ہوٹلس,بنگلہ,بناکر عیش وعشرت کی زندگی گذارتے ہیں اور مریدین کو تصوف وطریقت وکفایت شعاری کا درس دیتے پھرتے ہیں.
  ہمارے علماء نے بھی اپنی فکری انحطاط کا اعلی ثبوت پیش کیا اس لئے انھوں نے مدرسہ کی چہار دیواری کو ہی دین وملت کی اصل خدمت سمجھااس لئے جہاں بھی گئے,
جس ماحول میں رہے !!
صرف اور صرف مدرسہ مدرسہ..

انھیں نہیں پتہ کہ ...!

اور بھی کام ہے زمانےمیں مدرسہ کے سوا.

مدرسہ تو کھلا پر ان مدارس کے کے اخراجات کے لئے آمدنی کے کیا ذرائع ہو سکتے ہیں ! اس کا نہ تو کبھی پلان کیا اور نہ ہی اپنے فکر کے دریچہ میں اس خیال کو آنے دیا.
چوں کہ نصاب مدارس معاشی واقتصادی منصوبہ بندی سے عاری ہیں اس لئے ہماری عادت وخصلت بھی اس چیز کو گوارہ نہیں کرتی.
  ظاہر ہے جب انسان فری کھانے و بھیک مانگنے کا عادی ہو جاتا ہے تو محنت ومشقت,ومعاشی منصوبہ بندی,کی اسے کوئ پرواہ بھی نہیں ہوتی.

اس لئے میرا دعوی ہے اہلسنت کا کوئ ایسا ادارہ آپ کو نہیں ملے گا جو اخراجات کی کفالت اپنی پیدا کی ہوئ آمدنی سے کرتا ہو؟؟؟( یہ الزام نہ لگایا جائے کہ زکوۃ کی وصولی کوبھیک مانگنے سے تشبیہ دی گئ ہے ,یہ بڑا جرم ہے.ہم اس کام میں کتنے مخلص ہیں ! رمضان کا ہر عامل اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ سکتا ہے.ورنہ اس کے دوسرے طریقے بھی ہو سکتے ہیں)
اس کے برعکس ہمارے حریفوں نے وقت کی نزاکت کو سمجھا اور مدارس کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ اسکول وکالجز کھولے ,یونیورسٹیز قائم کئے,ایسی تنظیمیں بنائیں کہ بڑے بڑے ادارے چلانے کے لئے انھیں حکومتی فنڈ و الحاق کی ضرورت ہی نہیں پڑتی اس کے باوجود بھی ان کاتعلیمی معیار ,نظم ونسق,ہمارے اداروں سے کئ گنا بہتر ہوتا ہے,یہاں تک کہ دیکھا گیا ہے کہ اہلسنت کے طلباء دیابنہ کے مدارس میں تعلیم حاصل کرنے اسی لئے جاتے ہیں کہ وہاں تعلیم اچھی ہوتی ہے.اور نظم نسق (قیام وطعام,طلباء کے لئے تعلیمی ودیگر سہولتیں زیادہ ہوتی ہیں)
  ذرا غور تو کریں !
کس چیز کا دعوی کرتے ہیں آپ؟
کہاں کھڑے ہیں آپ ؟ 
کہاں ہیں ہمارے بلند بانگ دعوے؟
 ان حالات پر ٹھنڈے دماغ سے سوچ لیجئے گا.
اور سنبھل جائے ابھی :وقت بہت تیزی سے بدل رہا ہے,اگر اب بھی ہم تعمیر ملت کے لئے فکر مند نہ ہوئے تو صفحئہ ہستی سے مٹا دئے جائیں گے.
 بڑے سورماؤں کو چیلنج کرتا ہوں ! کیا قیام مدارس کا اصل مقصد ہمارا صرف حکومتی الحاق پاجانا نہیں ہے؟؟ اور عوامی امداد بصورت زکوۃ وفطرات سے تعمیر کردہ ادارہ جب حکومتی الحاق پا جاتا ہے تو کیا ہم اس مدرسہ کو اپنی جاگیر سمجھ کر اقربا پروری ورشوت خوری کا بازار گرم نہیں کر دیتے؟؟( الا ماشاءاللہ)
 اگر یہ حکومتی الحاق بند ہو جائیں تو کیاہمارے ادارے بالکل متاثر نہیں ہوں گے؟اور ان اداروں کی کیا حالت ہوگی ؟

حکومتی الحاق والے مدارس میں پڑھا رہے پرائیویٹ اساتذہ کی حالت اور ان کو ملنے والا مشاہرہ نیز اہلسنت کے دیگر پرائیویٹ اداروں کے اساتذہ اور انکی مالی پوزیشن اور ان اداروں میں ہو رہے اساتذہ کے استحصال پر تجزیہ کرنے کی ضرورت نہیں ؟
اہل فکر ودانش اس سے بخوبی واقف ہیں.

ایسے حالات میں بغیر رمضان میں وصولی و عوامی چندہ کے ہمارے مدارس حسب سابق اپنے اخراجات کی کفالت کر لے جائیں گے اس کی امید بہت کم نظر آرہی ہے.اس لئے ان ناگفتہ بہ حالات میں ہماری کچھ ذمہ داریاں ضرور بنتی ہیں.
         کرنے کے کام
                       ....................
  اگر رمضان المبارک میں زکوۃ وصولی کی مہم اثر اندازہوئ تو یقینا مدارس اسلامیہ کما حقہ اپنے فرائض نہیں ادا کر پائیں گے اور کچھ تو معاشی تنگی کے سبب بند ی کے کگار پر پہنچ جائیں گے اس لئے ایسے ماحول میں اہل ثروت حضرات ,بڑے مسلم تجارتی گھرانے,جو زکوۃ کی ادائیگی نہ کے برابر کرتے ہیں مگر وہی لوگ حکومت کی خوشامد و سیاسی تشہیر میں لاکھوں کے وارے نیارے کرتے ہیں ایسے موقعہ پر انھیں آگے آکر بالخصوص مدارس اسلامیہ کی امداد واعانت کے لئے دست تعاون دراز کرنا چاہئے.اب مدارس کی ضرورت واہمیت سے انھیں واقف کراکر انھیں اس کا احساس دلانا بھی ایک بڑا سوال ہے.جو مضبوط لائحہ عمل سے حل کیا جا سکتا ہے.
      .................................
   کچھ ایسے مدارس ومکاتیب بھی ہیں جو اپنے مصرف سے کہیں زیادہ فنڈس ذخیرہ کر لیتے ہیں,وہ اپنے تعلیمی سیشن کو بخوبی پورا کر لینے کے بعد بھی ایک خطیر بجٹ محفوظ کر لیتے ہیں انھیں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو جلسہ جلوس کے نام پر فراوانی کی بنیاد پر فضول خرچی سے بھی گریز نہیں کر پاتے ,اب ایسے لوگ بھی چاہیں توفضول اخراجات سے بچ کر صرف ضروری تعلیمی خرچ بچاکر باہمی ارتباط وتعاون کے لئے اقدامات کر سکتے ہیں.
 نیز انھیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہ دور ایمرجینسی کا ہے اور اس آزمائش کے دور میں ہمیں اب فکر وتدبر سے کام لینا ہے اس لئے دوسروں کو ترغیب دینے کے ساتھ خود بھی عملی اقدام کریں.
     .................................
    ہمارے مشائخ, خانقاہوں کے مسند نشین, جو کہ ہمارے ماوی وملجاہوتے ہیں, غرباء پرور, ملت کیےبہی خواہ, درد مندوں پریشانوں, مظلوموں کا سہارا, امت کی ڈوبتی کشتی کے ناخدا, قلب مضطر کی تسکین کاسامان فیض وکرم جودوسخاکا کا منبع ومخزن ہونے کے دعویدار ہوتے ہیں اب اس مشکل گھڑی میں انھیں بھی اپنے ایثار وقربانی کا مظاہرہ کرنا ہوگا. اور اپنے قدیم اقدار روایات کی حفاظت کی خاطر سخاوت کے ہاتھ کھولنے ہوں گے. کیونکہ یہی علماء ہیں جنھوں نے آپ کے فضائل ومناقب پر کمپین چلایا,آپ کے مراتب بیان کرنے میں انھوں نے ہی  زمین وآسمان ایک کر دیا, جس کی بنیاد پر یہ حقیقت ہے کہ عوام اہلسنت تن من دھن کے ساتھ آپ پر فدا ہوگئ اور خوب فراوانی کے ساتھ آپ پر خرچ کیا جس سے آپ نے بلڈنگیں بنائیں,ہوٹلس,لاج,بنگلہ, خانقاہ تعمیر کے نام پر آرائش وزیبائش کے سارے سامان اکٹھا کئے جس سے نہ تو ملت کا کوئ فائدہ ہوا اور نہ ہی مذہب کا, یہی قوم جس نے بے دریغ آپ کو چندہ, امداد ,مہنگے تحائف نذر کئے وہی جہالت وگمرہی کے بحر بیکراں میں ڈوبتی رہی اور آپ ساحل پر کھڑے ہوکر اس کی بربادی کے تماشے دیکھتے رہے. 
آج جب کہ انھیں علماءاور مدارس پر مبینہ بربادی کے بادل منڈرا رہے ہیں تو اب کم ازکم اس ڈوبتی کشتی کے کھیونہار بن جائیے.ورنہ اگر یہ علماء ومدارس نہ رہے تو یہ قوم بھی آپ کی اب نہ رہ جائے گی.
 اس لئے وقت رہتے ہوش کے ناخن لیں.
       .................................
برا وقت کبھی بھی آسکتا ہے اس لئے ماضی کی کوتاہیوں سے سبق حاصل کریں.اور فضولیات سے گریز کر کے قوم وملت کی تعمیر پر محنت کریں.
 تفرقہ بازی,آپسی اختلاف وانتشار ملت کی بربادی کے اسباب ہیں."اختلاف موت ہے اور اتحاد زندگی "اس پیغام کے مد نظر اب اس ہوشربا دور میں اپنے ہوش وحواس کو ٹھکانے کر لیں اور مردہ ہوچکی ہماری تہذیب وثقافت کو اپنی قومی ملی اتحاد کے ذریعہ زندہ وتابندہ بنانے کے اقدامات کریں.
" وَاعْتَصِمُو بِحَبْلِ اللّہِ جَمِیْعاً "
 کامکمل مصداق بن جائیں اور ملت بالخصوص علماء میں جو یہ بے راہ روی ہے 
" فرضی جلسہ جلوس ,عرس وقوالی ,گاؤں گاؤں گاؤں میں ومدرسہ کمیٹیوں میں اختلاف پیدا کرواکر ہر گاؤں وگلی محلہ میں دارالعلوم کھولنا, مال زکوۃ کا غلط استعمال کرنا, قوم کو اصلاحی اعمال سے غافل رکھنامیلاد وفاتحہ میں سیاسی بازی گری دکھاناوغیرہ کی صورت میں" 
اس کی اصلاح کے لئے کمر بستہ ہو جائیں .نیز عوام بھی جو شادی بیاہ میں فضول اخراجات  مہنگی گاڑیاں, لکزرین عیش وعشرت کے سامان مہیا کرنے اور اپنے بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے میں مست ہے ,اسے بھی اب ہوش کے ناخن لینے ہوں گے ورنہ زمانہ کی ستم ظریفیاں ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑیں گی..
  تیری خاک میں ہے اگر شرر تو خیال فقر وغنا نہ کر
 کہ جہاں میں نان شعیر پر ہے مدار قوت حیدری

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

Sibghatullah Rizwani نے کہا…
ماشاءاللہ

حالات کے پیش نظر ایک چشم کشا تحریر۔اللہ عزوجل ہم سبھوں میں اتحاد اور عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین

Comments